بہتان طرازیوں کی زد میں رؤوف کلاسرا

 مختار حسین

mukhtar hussain

قریبا ڈیڑھ سو سال قبل بیس ہزار نفوس کی آبادی پہ مشتمل گوری نامی قصبے میں جوتے گانٹھتے بیسو کی بیوی کی گود دو بار ہری تو ہوئی لیکن قسمت نے یاوری نہ کی اور شیر خوارگی میں ہی دونوں بچے ملک عدم سدھار گئے۔ اجڑی گود اس وقت آباد ہوئی جب وشاری اونووچ نامی بیٹے کی ولادت ہوئی۔ سات برسوں کے بچپنے میں چیچک کی بیماری میں مبتلا بیٹے کو اٹھائے، شرابی شوہر کی مار پیٹ سے دکھتی ہڈیوں کا درد لئے اپنے بابا کے دیرینہ رفیق کے گھر پناہ گزین ہوئی۔ دوسروں کے گھروں میں جھاڑ پونچھ کرتی ککی نامی دھوبن کا دس سال کے بیٹے کو سکول بھیجنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ کارل مارکس کے خیالات کے حامی کو باغیانہ الزامات کے نتیجے میں مدرسہ سے خارج کر دیا گیا۔ مخفی طور پر تنظیم میں فعالیت کا کردار اس وقت کھل کے سامنے آیا جب دو دھڑوں میں بٹی تنظیم کے بھلشویک نامی دھڑے کا حامی بن گیا۔فعال کردار کا سفر اس کو کئی بار سلاخوں کے پیچھے لے گیا لیکن کم سزا یا فرار کے نتیجے میں آزادہونیمیں کامیاب ہوتا رہا۔ ایسے ہی کارہائے نمایاں کا سبب تھا کہ اس کو سٹالن یعنی فولادی پکارا جانے لگا۔ 1917 میں روس میں اشتمالی انقلاب میں اس کا کردار صفر تھا لیکن اگلے دو برسوں میں اس کا متحرک کردار یہاں تک سامنے آیا کہ 1922 میں اشتمالی تنظیم کا سیکرٹری جنرل بن کر اس قدر اثر و رسوخ جس نے لینن کی وفات کے بعد مسند اقتدار تک کی راہ ہموار کر دی۔ لینن نے اپنی وصیت میں سٹالن کو سفاک آدمی قرار دیا تھا سیکرٹری جنرل کے عہدے سے ہٹانے کی تجویز دی تھی لیکن مکاری سے وصیت مذکورہ کو چھپانے میں یہ شاطر کامیاب ہو گیا۔ تنظیمی مخالف دھڑے کو شکست فاش دیتا 1930 کی دہائی میں روس کا مطلق العنان آمر بن بیٹھا۔ 1934 میں مظالم کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ اس وقت شروع کیا جب اس کے قربی مشیروں میں سے ایک اور ایک سرکاری آفیسر کا قتل ہوا جس کی سازش کے پیچھے بھی خود سٹالن تھا۔ لیکن اسی قتل کو جواز بناتے ہوئے سینکڑوں ان رہنماؤں کو غداری و قتل کی سازش کے الزامات میں مقید کر دیا جو 1917 کے انقلاب میں لینن کی ہمراہی میں پیش پیش تھے۔ ان قیدیوں کو ایسے متشدد مرحلے سے گزارا جاتا کہ عدالتوں میں جرائم کے معترف ہو کر سزا کو گلے لگانے پہ مجبور ہو جاتے۔ اشتمالیت پسندی جرم ٹھہرا، اس نظریے کے پیروکاروں کے خون سے لکھی گئی تاریخ بتاتی ہے کہ جماعت میں کانگرس کے منتخب کردہ اراکین میں سے دو تہائی کو اذیت ناک سزاؤں کے بعد ابدی نیند سلا دیا گیا۔مطلق العنانیت کی راہ میں حائل معمولی شخص کو بھی بامشقت طویل اسیری میں گزارا جاتا۔ سفاکانہ مزاج کے مالک سٹالن کی مطلق العنانیت سے پہلے روسی سر زمین سے پھوٹتے ادب نے ٹالسٹائی جیسے عظیم افسانہ نگار شہکار تخلیق کئے۔ یہ وہی ٹالسٹائی جس کے 1908 میں ھندو اخبار کو لکھے گئے خط کا متن یہ تھا کہ ہندوستانیوں کو عدم تشدد کی راہ اپنا کر انگریز کے تسلط سے آزادی لینی چاہئے۔ اس خط کو پڑھ کر جنوبی افریقہ میں وکالت کے فرائض انجام دیتے گاندھی پر گہرا اثر ہوا تھا۔ آسمان دنیا نے دیکھا کہ پھر اسی دھرتی پہ ادب شناسوں کو کن اذیتوں سے گزار کر یا تو موت کے گھاٹ اتار دیا یا سٹالن نے اپنے مظالم کی حمایت میں لکھنے پہ قلم کو مجبور کر دیا۔ جس کی مثال عظیم لکھاری شاعرہ اخماتوا ہے جس کو سٹالن کی مدح سرائی کی نظم کے بدلے رہائی نصیب ہوئی
ادب کی سانسیں بند کرنے والے سٹالن نے ہی کہا تھا کہ ادیب روحوں کا انجینئر ہوتا ہے۔ گویا روحانی تعمیر میں ادیب کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔ ہمارے ہاں ریاستی مقتدر شخصیات کو کوئی غرض نہیں کہ ادیب کا مقام کیا ہے۔ لیکن کبھی کبھار ادیب کو اس وقت یاد کیا جاتا ہے جب بات مفاد کی ہو۔ لائبریریز اجڑ رہی ہیں، کتاب سے دوری مقام ادیب کو اس قدر زوال پذیر کر رہی ہے کہ صداقتوں کی سیاہی پر ظلم و جبر کے حمایت یافتہ لفافہ خوروں نے ایسے چھینٹے لگائے ہیں کہ حق باطل اور باطل حق لگنے لگا ہے۔ کسی بھی ریاست کے مقاصد میں امن عامہ کا قیام، معاشی منصوبہ بندی، ریاست کے مختلف طبقات میں ہم آہنگی، اور وہ تمام امور جو شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اور قوم کی بقا کے لئے ضروری ہیں ان سے براہ راست ادیب کا تعلق نہ سہی لیکن اس عملداری میں شہریوں میں سکون کے برعکس جذبات کا وجود کسی ادیب، صحافی، کالم نگار یا اینکر پرسن کو پر سکون نہیں رہنے دیتا یہاں اس کا کردار اس کو جھنجھوڑتا ہے۔ خارجی اعمال کی بنیاد پر تو ریاست کسی کو محب وطن قرار دے یا غدار تو ٹھیک ہے لیکن شہریوں کے اعماق قلوب اور نفس باطن کا مقیاس الحرارت ادب ہے نہ کہ ریاست۔ اور باطنی توفیقات کو ایک ادیب ہی متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تب تو جا کے ریاست کو مفید شہری ملتا ہیمثلا قائد اعظم کو ریاست کا نمائندہ اور علامہ اقبال کو ادیب قرار دیں تو سطوحات فہم کو یہ راز چھوتا ہے کہ عوام الناس کے جذب باطن کو اپنے شاعرانہ کلام سے ایسا زندہ کیا کہ ریاست کا وجود محمد علی کے ہاتھوں ناقابل تسخیر ہوتا گیا۔ لازم و ملزوم ادب و ریاست اقوام کی بقا کی جنگ لڑتے ہیں ریاست عدل کے بغیر جیسے گھٹ گھٹ کے مرتی ہے تو سچائی سے محروم ادب بھی سانس کے لئے سسکتا ہے
پچھلے دنوں سوشل میڈیا پہ بہتان طرازیوں کے طوفان کی زد میں آنے والے محترم رؤوف کلاسرا صاحب کو نطق صداقت کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔ غلیظ الزامات دھرنے والوں کو اس نے کھلا چیلنج دیا کہ مجھے کسی مباحثی ٹاکرے میں لا کھڑا کیا جائے ، جس نے ہر پارٹی کو آئینہ دکھایا۔ مقتدر پارٹی کے جہاں پول کھولے وہاں دھرنے کے سپیشلسٹ پر بھی اسی نے انگلی اٹھائی جب اس کی چھتری تلے کرپٹ سیاسی شخصیات نے پناہ لی۔
ایک نام نہاد اخبار تو اس جساررت میں اتنا بڑھا کہ زنجیروں میں مقید اخماتوا کا کردار بھی شرما کے رہ گیا یقیناًاس کی روح نے یہ بکا بلند کی ہوگی کہ میں نے تو لاتعداد اذیتوں کو سہہ کر خوشامدی اشعار جوڑے تھے لیکن صحافت کے آزاد ماحول میں کسی صادق پہ آوازے کسنے والوں کی سرشت میں کوئی عیب تھا۔
گر ریاست کا کردار کسی کی ذات کے لئے ہے تو کلاسرا صاحب مجرم ٹھہرتے ہیں لیکن اگر نظریہ اسلام کے تحت وجود میں آنے والی ریاست کا مقصد شہریوں کو وہ آزاد ماحول دینا ہے جس میں قرآن و سنت کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں اور جس ماحول میں رائے کا حق آزاد ہو وہاں ادب کا کردار اہمیت کا حامل ٹھہرتا ہے۔ تمام ادیان انسان کو مہذب بنانے کا دم بھرتے ہیں تو وطن عزیز کے مقاصد اولین میں سے ادب بھی ایک ہے۔ اور ایک سچے ادیب، صحافی کی مدح سرائی مبالغہ آمیز لگ رہی ہے تو خفا ہونے میں جلد باز نہ ہوں بلکہ ان کے تحریر کردہ کالم کا ایک ایک لفظ گواہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ جو حق لگا اس کا پرچار کیا۔ اور نہ کبھی ایسا بولا اور لکھا کہ دوسرے دن معافی کی خواستگاریوں کے ساتھ اپنی تردید کی ہو۔ دوسری طرف بڑے اخبار برملا جھوٹ لکھنے کے بعد ندامت سے نہیں بلکہ خوف سے جب معافی مانگتے ہیں تو یہ شعر کوتاہ ذہن میں عود کر آتا ہے
شاید کسی عذاب کی آمد قریب ہے
کر کے گناہ لوگ ندامت نہیں کرتے
رؤوف کلاسرا صاحب کے ذاتی کردار کی مدافعت میں کچھ نہیں کہنا مجھے لیکن گر ان کے بولے اور لکھے گئے الفاظ پہ کوئی ناک چڑھائے گا تو پھر صدائے حق بلند کرنے میں محبان وطن پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ کیونکہ وہ اپنے ادبی مقام کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر حقائق کو جھٹلانا ہے تو دلائل سے جھٹلاؤ، تہمتیں اور الزامات لگانے سے سچ کو ایسے تقویت ملتی ہے جیسے شاعر مشرق نے کہا تھا
تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
کچھ لوگوں کے نزدیک ادب عام سے الفاظ کا مجموعہ ہی تو ہے، ان جیسوں کی خدمت میں عرض کہ یہ الفاظ ہی ہیں جنہیں کبھی ہم احساس کہتے ہیں کبھی جذبہ کہتے ہیں تو کبھی خیال۔ تو اس سے واضح ہوا کہ الفاظ ہمارے خیالات، جذبات، احساسات بلکہ عقائد کی تشکیل ہی نہیں تخلیق کا ذریعہ ہیں۔ مملکت حالت جنگ میں ہو تو یہ قلم قبیلے کے افراد ہی وطن کے سجیلے جوانوں کو بتاتے ہیں کہ ہمارے نغمے تمھارے لئے ہیں۔
ادب تہذیب کی روح ہوتا ہے ادب پر پابندیاں لگا کر اپنا نام سٹالن جیسے آمروں کی فہرست میں لکھوانے سے پہلے یہ سوچ لیجئے کہ تہذیب کی روح کا قتل کر دیا گیا تو ظلم و ناانصافی کے سر چڑھ کے بولتے جادو کے سامنے یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی۔ساحر لدھیانوی کے اس شعر کے ساتھ اجازت کا خواہاں
ظالم کو جو نہ روکے وہ شامل ہے ظلم میں
قاتل کو جو نہ ٹوکے وہ قاتل کے ساتھ ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *