سعودی عرب نے منی سکرٹ پہن کر وڈیو اپ لوڈ کرنے والی لڑکی کو گرفتار کرلیا

mini

ریاض:منگل کے روز سعودی پولیس نے ایک خاتون کو اپنی منی سکرٹ پہنے ہوئے ویڈیو اپ لوڈ کرنے پر گرفتار کر کے تفتیش شروع کردی۔ عرب ممالک میں منی سکرٹ پہننا ممنوع ہے اور اسے ایک غیر مہذب طریقہ سمجھا جاتا ہے جبکہ یہ خاتون ایک تاریخی عمارت میں اس نازیبہ لباس میں اپنی ویڈیو بنانے اور پھر اسے سوشل میڈیا پرشئیر کرنے کی مجرم قرار دی گئی تھی۔ ماڈل خلود کے نام سے سنیپ چیٹ پر استعمال کیے جانے والے اکاونٹ کے ذریعے رواں ہفتے کچھ ویڈیوز شئیر کی گئیں جن میں ایک نوجوان حسینہ کو منی سکرٹ پہنے اشیقر قلعہ میں گھومتے دیکھا گیا ۔ یہ قلعہ سعودی عرب کے شہر ریاض میں واقع ہے ۔ خاتون نے ریت اور ٹیلوں سے کھیلتے ہوئے اپنی دوسری ویڈیوز بھی بنائیں جن میں انہوں نے اپنے سرپر دوپٹہ پہننا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ تب سے یہ ویڈیوز یو ٹیوب اور ٹویٹر پر کئی بار شئیر کی جا چکی ہیں۔سعودی میڈیا اور خاص طور پر 'سبق' اور 'اوکاز' نامی روزنامہ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ریاض پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ویڈیو اپ لوڈ کرنے والی خاتون اپنے سربراہ کےساتھ پولیس کی کسٹوڈی میں ہیں اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

سعودی عرب کے قوانین کے مطابق ایک خاتون اپنے باپ، بھائی یا خاوند کی اجازت کے بغیر تعلیم اور سفر کے لیے گھر سے اکیلی نہیں نکل سکتی۔ مذکورہ خاتون نے کہا کہ نہ تو انہوں نے یہ ویڈیو اپ لوڈ کی ہیں اور نہ یہ اکاونٹ وہ استعمال کرتی ہیں۔ اب یہ معاملہ پبلک پراسکیوٹر تک پہنچ چکا ہے جہاں خاتون کی سزا پر فیصلہ ہونا باقی ہے۔

اس واقعہ نے پورے ملک میں جنسی تفاوت اور انسانی حقوق کے حمایتی ارکان کی طرف سے ایک کھلبلی پیدا کر دی ہے اور سعودی حکومت پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے اس نوجوان خاتون کی حمایت کی اور سعودی عرب کو مغرب کی خاتون سے مختلف رویہ اختیار کرنے پر دوہرے معیار کا مرتکب قرار دیا۔ امریکی صدر کی بیوی اور بیٹی کچھ عرصہ قبل دورہ سعودی عرب کے دوران سر ڈھانپے بغیر سعودی عرب میں داخل ہوئیں لیکن اس پر سعودی حکومت نے کوئی احتجاج نہیں کیا۔ ایک ٹویٹ میں مبصر کا کہنا تھا کہ اگر یہ لڑکی ٹرمپ کی بیٹی ہوتی تو اسے عزت سے نوازا جاتا۔خاتون کی وڈیو نیچے ملاحظہ کیجئے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *