جون میں سعودی شہزادے کو استعفی دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی،امریکی اخبار کا دعویٰ

Image result for ‫شہزادہ شیخ محمد بن نائف‬‎

اعلی امریکی عہدیداروں کی طرف سے سعودی شاہی خاندان کے مستقبل میں بادشاہ کے انتخاب کےلیے شخصیات کے رد و بدل کے بارے میں ایسی خبر کا انکشاف ہو ا ہے کہ اس سے دنیا بھر میں ایک حیرت کی فضا طاری ہو گئی ہے۔بادشاہ کی کرسی پر براجمان ہونے کے لیے متوقع شہزادہ شیخ محمد بن نائف کو عادت نہیں ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ وہ کیا کریں اور کن چیزوں سے باز رہیں۔ لیکن پھر جون میں ایک شام انہیں مکہ کے محل میں بلایا گیا ، وہاں زبردستی انہیں روکا گیا اور کئی گھنٹے تک انہیں اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ بادشاہ بننے کے حق سے دست بردار ہو نے کا اعلان کریں۔ صبح کے وقت بالآخر یہ کوشش کامیاب رہی اور اگلے دن سعودی عرب کو یہ خبر مل گئی کہ اگلے بادشاہ 31 سالہ محمد بن سلمان ہوں گے۔ نوجوان شہزادے کے ساتھیوں نے انہیں بہت مبارکباد تھی لیکن 21 جون کو ان کی پروموشن کے بعد یہ تاثر دیکھا جا رہا ہے کہ محمد بن سلمان نے خود ایک سازش کے ذریعے اپنے بھائی محمد بن نائف کو اپنے حق سے دستبرداری پر مجبور کیا ۔ ایسا بلکل نہیں ہے کہ محمد بن سلمان بادشاہت کا شغف نہ رکھتے تھے اور ان کو بادشاہ بنایا عوام یا شاہی خاندان کی خواہش تھی۔ یہ خبر حال ہی میں امریکی عہدیداروں کی طرف سے سعودی شاہی خاندان کے بارے میں جاری کی گئی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *