ایسے نہیں چلے گا

sohail warraich

سہیل وڑائچ

ریاست ایسے نہیں چلتی کہ ملک میں ہر سال دو سال بعد احتجاجی تحریک چلے‘ معیشت کے بارے میں گہرے بادل چھائے رہیں‘ اِدھر سٹاک مارکیٹ گرنے لگے اور معاشی اشاریے منفی ہونے لگیں۔ کیا ریاست ایسے چل سکتی ہے کہ اس کے ادارے آپس میں پنجہ آزمائی کریں اور ہر طرف سازشوں کی کارفرمائی ہو‘ ریاست کی گورننس ناکام ہو اور عوام صبر کی بجائے ہر وقت توڑ پھوڑ پر آمادہ ہوں۔ تاریخ کہتی ہے کہ ایسی ریاست چل نہیں سکتی۔ ہمیں اپنی عادات کو بدلنا ہو گا کیونکہ ایسے نہیں چلے گا۔
دونوں ہی نک چڑھی اور انا پرست ہیں‘ حکومت خانم اور اپوزیشن خانم دونوں سوکنیں ہی کمال کا مزاج رکھتی ہیں بجائے اس کے کہ ملکی بحرانوں کا کوئی حل نکالیں پارلیمنٹ کو عوام کے مسائل کے حل کا ذریعہ بنائیں‘ پیچیدہ نظام سے عوام کو آسانیاں لے کر دیں‘ مگر یہ تو ہر وقت لڑائی پر آمادہ رہتی ہیں۔ جس سے آئے دن سیاسی بحران جنم لیتے رہتے ہیں حکومت خانم اور اپوزیشن خانم کا یہی رویہ 1977,1958ء اور پھر 1999ء میں تھا‘ انجام کیا ہوا کہ حکومت خانم اور اپوزیشن خانم کی والدہ محترمہ جمہوریت خانم کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ حکومت اور اپوزیشن ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ مذاکرات سے الیکشن رولز میں ترمیم کا حل کیوں نہیں نکالتے۔ ڈیڈ لاک نہیں چل سکتا کیونکہ ریاست ایسے نہیں چلتی‘ جمہوریت ایسے نہیں چلتی...
ایسے لگتا ہے کہ پس پردہ کچھ ہوا ہے پہلے تو منظر صاف تھا ''پارٹی از اوور‘‘ کی تیاریاں زوروں پر تھیں‘ بین الاقوامی صورتحال کا دبائو ہے یا امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے جنوبی ایشیاء کی پالیسی پر نظرثانی کا شاخسانہ‘ ہاتھ ''ہولا‘‘ ہونا شروع ہو گیا ہے۔ کیا کوئی معجزہ ہوا یا ڈیل؟ یا پھر صرف نظر کا دھوکہ ہے۔ یہ سب چھپ نہیں سکے گا۔ مگر عرض یہ ہے کہ ریاست ایسے نہیں چلتی اور نہ ہی زیادہ دیر تک ایسے چل سکے گا۔
70 سال سے تاثر یہی ہے کہ پاکستان کی ہر تبدیلی سی آئی اے کرواتی ہے‘ سازش کا پتہ بھی ہلتا ہے تو اس حرکت کی ذمہ داری امریکہ پر ڈالی جاتی ہے مگر عرب برادران کی طرف سے کی جانی والی وارداتوں پر نہ کسی خاکی پوش کو کوئی اعتراض ہے اور نہ ہی امریکہ کے خلاف نعرے مارنے والے عام آدمی یعنی سفید پوش کو‘ حتیٰ کہ انصاف کے ایوانوں میں کالے گائون پہن کر بیٹھنے والے سیاہ پوشوں نے بھی اس کا کبھی نوٹس نہیں لیا۔ ملائشیاء کے وزیراعظم نجیب رزاق مالیاتی سکینڈل میں پھنسے بار بار سوال پوچھا جاتا تھا کہ آپ کے اکائونٹ میں اتنی بھاری رقم کہاں سے آئی؟ کک بیک تھا یا پھر رشوت‘ مگر پھر ملائشیا کے سیاہ پوشوں نے عرب شہزادے کی یہ گواہی مان لی کہ یہ رقم شہزادے نے بطور مہربانی وزیراعظم نجیب رزاق کو دی تھی۔ کیا قطری شہزادہ وہی کردار پاکستانی وزیراعظم کے لئے تو انجام دینے میں کامیاب نہیں ہو جائے گا؟ اگر تو ہاتھ ''ہولا‘‘ رکھا گیا تو ہاں اور اگر پرانا غیر جانبداری والا عنصر غالب رہا تو پھر وہی ''دی پارٹی از اوور‘‘ اس ساری کہانی سے ایک بات پھر واضح ہوتی ہے کہ ایسے نہیں چلے گا‘ ایسے کیسے چل سکتا ہے؟
آپ ہی بتائیں کیا معاملات ایسے چل سکتے ہیں؟ سفید پوش کو ہر وقت حکومت خانم پر غصّہ چڑھا رہتا ہے‘ وہ اسے اپنی ساس سمجھ کر ہر وقت اسے طعنے دیتا اور اس کی غلطیاں نوٹ کرتا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن خانم بھی سفید پوش کے غُصّے کو بڑھاتی ہے‘ اسے اکساتی ہے اور جب سفید پوش جوش و جذبے اور غضب میں آ کر احتجاج کرتا ہے تو حکومت خانم کی سوکن اپوزیشن خانم کی لاٹری نکل آتی ہے اپوزیشن خانم کے لئے ماہر انتخابی گھڑ سواروں کے رشتوں کی قطار لگنا شروع ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف حکومت خانم کا آنگن سُونا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اس کے کئی محبوب روٹھ روٹھ کر ادائیں دکھانا شروع کر دیتے ہیں۔ 70 برس سے یہی ہوتا آیا ہے اور یہی ہو رہا ہے مگر ایسے نہیں چلے گا اِسے بدلنا ہو گا۔ حکومت خانم اور اپوزیشن خانم دونوں سوکنوں کا اپنا اپنا کردارہے‘ انہیں ایک دوسرے پر نظر رکھنا ہو گی اور خاص کر اپوزیشن خانم کا کام ہے کہ میڈم پارلیمنٹ میں رونق لگائے رکھے وہاں تقریروں کے جوہر دکھائے‘ حکومت خانم کے خلاف ثبوت لائے۔ کڑی تنقید کی جائے تاکہ بھلا ہو سفید پوش کا۔ کیونکہ جمہوریت خانم بہرحال عام آدمی یعنی سفید پوش کے لئے ہی وجود میں آئی تھی مگر ایسا نہیں ہو رہا اور جب ایسا نہیں ہو گا تو پھر یہ نظام ایسے نہیں چلے گا...
نظام چلانا ہے تو سب کو اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہو گا سفید پوش یعنی عوام کو صبر کا سبق سیکھنا ہو گا۔ ہر وقت کے احتجاج اور نفرت کو کم کرنا ہو گا نظام کو چلتے رہنے دینا ہو گا۔ انتظار کی عادت ڈالنا ہو گی۔ تبھی جا کر بہتری آنا شروع ہو گی وگرنہ آئے روز اتھّل پتھّل ہوتی رہے گی۔ سفید پوش سب سے زیادہ کنفیوزہے وہ تبدیلی چاہتا ہے‘ روزگار چاہتا ہے‘ کرپشن کا خاتمہ چاہتا ہے یا پھر ہر صورت کچھ نہ کچھ بگاڑ چاہتا ہے‘ کیونکہ اسے موجودہ نظام سے شکایتیں بہت ہیں۔ دُوسری طرف خاکی پوش ہر دس سال بعد بے قرار ہو کر خود معاملات کو ٹھیک کرنے کے لئے میدان میں اترتا ہے۔ ایسی تین چار کوششیں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکیں۔ نظام ٹھیک ہونے کی بجائے خراب ہو گیا۔ جماعتی سے غیر جماعتی انتخابات کا تجربہ کیا گیا کہ سیاست کا توڑ کیا جائے اور سیاسی جماعتوں کو کمزور کیا جائے مگر ہوا کیا؟سیاسی جماعتوں کی بجائے مفاداتی جماعتیں بن گئیں اور انہوں نے تعمیراتی ٹھیکوں کے نام پر وہ اُودھم مچایا کہ خداکی پناہ۔ خاکی پوش پر شک کیا جاتا ہے کہ وہ جمہوریت خانم کی کمزور دہائیوں میں بھی پیچھے بیٹھ کر پتلیاں ہلاتا ہے اگر یہی سلسلہ جاری رہتا ہے تو جمہوریت‘ نظام اور ریاست کیسے چلے گی؟ سیاہ پوش ہمارا بڑا ہی مقدس بھائی ہے ہلکا سا اختلاف کریں تو توہین کا مرتکب ٹھہرا دیا جاتا ہے‘ اس لئے انتہائی ادب کے ساتھ ماضی یاد دلاتے ہیں کہ نظریۂ ضرورت کے ذریعے جس طرح آپ نے نظریۂ جبریت کو مانا۔ آپ کو اپنی آزادانہ ساکھ کے لئے اگلے 70 سال ایسے فیصلے کرنے ہوں گے کہ آپ نئی تاریخ بنائیں۔ تاریخ میں یاد رکھے جانے کی خواہش رکھنے والے تاریخ بگاڑ دیتے ہیں جبکہ تاریخ بنانے والے تاریخ میں تادیر یاد رکھے جاتے ہیں۔ آئین اور قانون کا بول بالا رکھنے والے ہی تاریخ ساز ہوتے ہیں۔ باقی تاریخ کو بگاڑنے والے...
ٹائی پوش عرف بابو خان پہلے بہت پڑھا لکھا ہوتا تھا‘ خاکی پوش‘ سفید پوش اور سیاہ پوش سب اس کی دانش سے فائدہ اٹھاتے تھے‘ مگر ظالم وقت نے ٹائی پوش کو خاکی پوش سے پیچھے کر دیا ۔ ٹائی پوش نے قائداعظمؒ کی وفات کے بعد دس سال اقتدار کو خوب انجوائے کیا مگر پھر خاکی پوش خود آ گئے اور سیاہ پوش انکے اقدامات پر مہر تصدیق ثبت کرتے رہے۔ ٹائی پوش کا کام خاکی پوش کو یس سر‘ یس سر کرنا ہی رہ گیا۔ مگر آپ ہی فیصلہ کریں کہ کیا ہم سارے پوش بھائیوں کا یہ کردار ریاست کو آگے چلا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں تو پھر ہمیں بدلنا ہو گا وگرنہ ایسے نہیں چلے گا۔
باقی رہ گئے ہم نئے پھنّے خان‘ یعنی چیتھڑے پوش صحافی اور اینکر تو ہمارا پیشہ ہی انسان سے کتّے کو کٹوانے کا ہے۔ ہمیں لڑائیاں کروانے‘ جمہوریت خانم کا مذاق اڑانے‘ حکومت خانم کو ڈھانے اور اپوزیشن خانم کو چڑھانے کا کام جاری رکھنے دیں۔ آخر ریاست میں کوئی طبقہ منفی کردار بھی تو ادا کرتا ہے۔ باقی سب مثبت ہوں تو منفی دب جائے گا۔
آخر میں پھر عرض ہے کہ ایسے نہیں چلے گا۔ ریاست کے سٹیک ہولڈرز کو میثاق جمہوریت جیسا میثاق ریاست کرنا چاہیے‘ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ‘ طے ہونا چاہیے وگرنہ جناب! ایسے نہیں چلے گا!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *