برآمدات اور جی ایس پی پلس پر سوالات 

khalid mehmood rasool

کچھ سوالات برے وقت کی طرح چپک جاتے ہیں اور جانے کا نام ہی نہیں لیتے۔ ایک ایسے ہی سوال کا سامنا گذشتہ تین سال سے ہماری وزارت تجارت کو ہے، برآمدات میں کمی کیوں ہو رہی ہے؟ مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت آئی تو کئی ماہ تک وزارت اپنے وزیر سے محروم رہی۔ گرتی ہوئی برآمدات پر مسلسل تنقید کے بعد بالآخر انجنئیر خرم دستگیر کو پہلے اضافی چارج اور بعد ازاں مستقل طور پر وزارتِ تجارت کا قلمدان سونپ دیا گیا ۔ اْن ہی دنوں یورپی یونین کے ساتھ جی ایس پی پلس کے معاملات طے پائے جس کے بعد یہ امید بندھ گئی کہ اب سالانہ دو ارب ڈالر تک کے اضافے کا بندو بست تو پکا ہو گیا ، باقی کچھ ادھر ادھر سے قدرتی اضافہ ہو تا رہے گا۔ یوں اپنی دانست میں حکومت نے برآمدات کے اضافے کا کافی و شافی بندو بست کر دیا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی مقصود تھا۔ برآمدات میں اضافے کی بجائے کمی ہوئی اور جس جی ایس پی پلس کا اتنا شہرہ رہا، اب اسکے کھوئے جانے کا بھی خطرہ سر پر منڈلانے لگا ہے۔
جی ایس پی پلس کے حصول کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ یورپی یونین اپنے ہاں درآمدات پر درآمدی ڈیوٹیاں عائد کر تا ہے لیکن ورلڈ بنک کے طے شدہ پیمانے کے مطابق غریب ترین ممالک یعنی LDC's کو اس نے اپنے درآمدات پر ڈیوٹی فری کی ر عایت دے رکھی ہے۔ انتہائی غیر معمولی حالات میں البتہ کچھ دیگر ملکوں کو بھی یہ رعایت کچھ مدت کے لئے دی جا سکتی ہے جسے جی ایس پی پلس کے نام دیا جاتا ہے۔ جنوبی ایشیاء میں بنگلہ دیش غریب ترین ممالک میں شامل ہونے کی وجہ سے اس رعایت سے فائدہ اٹھاتا چلا آرہا ہے۔ سری لنکا بھی اس رعایت سے مستفید ہو تا رہا ہے لیکن اپنے ہاں تامل خانہ جنگی کے اختتامی مرحلے پر انسانی حقوق کی مبیّنہ خلاف ورزیوں کی بناء پر اس رعایت سے محروم کر دیا گیا۔ پاکستان مشرف دور میں وار آن ٹیرر میں اتحادی تھا۔ اس وقت تین سالوں کے لئے پاکستان کو جی ایس پی پلس کی رعایت دی گئی۔ بھارت یورپی یونین کے اس اقدام کو ورلڈ ٹریڈ آرگنازیشن میں لے گیا۔ فیصلے کے مرحلے تک اسکیم کی مدت بھی مکمل ہوئی لیکن پاکستان کی بھرپور خواہش اور کوشش کے باوجود جی ایس پی پلس کو مزید جاری نہ رکھا گیا۔
پی پی پی حکومت آنے کے بعد ایک بار پھر حکومت نے یورپی یونین کو باور کروایا کہ دہشت گردی کی اس جنگ کے اثرات اب پاکستان کے اندر قیامت ڈھا رہے ہیں۔ بم دھماکے اور امن و امان کی صورتحال نے برآمدی شعبے کو بہت نقصان پہنچایا ہے ۔ لہٰذا اس کی جزوی تلافی کے لئے یہ رعایت دوبار بحال کر دی جائے۔ مذاکرات کا آغاز ہوا۔ تجارتی سفارتکاری بہت صبر آزما اور سست عمل ہے۔ بہرحال دو سال کی کوششوں کے بعد وہ مرحلہ آ گیا کہ اس تجویز پر یورپی پارلیمنٹ میں ووٹنگ قرار پائی۔ یہ بلا شبہ ایک اہم مرحلہ تھا کہ اتنے ووٹ ضرور حاصل ہو جائیں کہ یہ تجویز منظور ہو جائے۔ مخالفت میں یورپ کے ٹیکسٹائل پیدوار سے منسلک اور بھارت لابی کی کوششوں کے سبب کئی ممالک پاکستان کو یہ رعایت دئے جانے کے خلاف تھے۔ اس مرحلے پر یورپی ممالک اور ان کے ہاں سے منتخب ہو کر آنے والے ممبر یورپی پارلیمنٹ کی سپورٹ پر اس رعایت کا دارومدار تھا۔ اسی مرحلے پر مسلم لیگ ن کی حکومت نے اقتدار سنبھالا ۔ نئی حکومت نے گذشتہ حکومت کے ہوم ورک کو ذمہ داری اور مہارت سے آگے بڑھایا۔ ملکوں ملکوں وفد گئے، سفارتکاری کے سب گْر آزمائے گئے۔ ان ہی دِنوں چوہدی سرور برطانیہ سے لائے گئے اور گورنر پنجاب بنائے گئے۔ ان کے یورپی یونین کے چند ممبران سے اچھے تعلقات تھے ۔ حکومت نے ان کی خدمات بھی حاصل کیں۔ یوں کئی سالوں کی بھرپور کوششوں سے یورپی یونین کی پارلیمنٹ نے اس رعایت کی منظوری دے دی۔ سیاست میں مگر کریڈٹ لینے کی بیماری بڑی موذی اور ازلی ہے۔ یورپی پارلیمنٹ سے منظوری کے فوری بعد حکومتی وزیر ابھی پریس کانفرنس کرکے اس کا سارا کریڈٹ اپنی حکومت اور اپنی زیرک قیادت کو دینے کی تیاری کر رہے تھے کہ چوہدری سرور نے جھٹ سے وہیں پریس کانفرنس کر کے اس منظوری کو اپنے زورِ بازو کا کرشمہ بتایا۔ وزیر اعظم کی جانب سے پنجاب کی گورنری کا نیا نیا احسان بھی تھا، سو انہوں نے اضافی طور پر بڑا زور دے کر یہ واضح کیا کہ انہیں ان کے قائد کا حکم تھا اور اس حکم کی بجا آوری کے لئے انہوں دن رات ایک کر دیئے بلکہ تن من دھن تک واری کر دیا اور یوں وہ اور ان کے قائد سرخرو ہوئے۔ وزیر تجارت نے بعد ازاں پریس کانفرنس کرکے اپنی موجودگی کا احساس دلایا کہ ہم بھی وہیں موجود تھے اور ہم سے بھی سب پوچھا کئے لیکن حسبِ روایت گذشتہ حکومت کو کریڈٹ دینے سے گریز ہی کیا گیا جس نے اپنے دور میں اس رعایت کے لئے راہ ہموار کی ۔
جی ایس پی پلس کی رعایت ملنے پر پہلے پہل بتایا گیا کہ پاکستان کو سالانہ ایک ارب ڈالر کی اضافی برآمدات کا فائدہ ہوگا لیکن کسی بزرجمہر نے اسے کم جانتے ہوئے امکانی فائدہ دو ارب ڈالر سالانہ بتایا اور ہر خاص و عام سے داد وصول کی۔ توقع یہی تھی کہ اس رعایت سے برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا رہے گا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ 2013 میں اجناس اور اشیاء یعنی Commodities کی عالمی مارکیٹیں دھڑام سے نیچے آن گریں۔ تیل سمیت دیگر اشیاء کی قیمتیں ایسی گریں کہ عالمی ٹریڈ میں اس سال منفی اضافہ ہوا۔ بعد کے سالوں میں دھیرے دھیرے کموڈیٹیز کی قیمتوں میں قد رے استحکام آ گیا لیکن وہ پرانے لیول حاصل نہ ہوسکے۔ مختلف ممالک نے بہرحال ایک سال بعد سنبھالا لیا اور اور برآمدات میں اپنی اپنی پوزیشن بحال کرلیا لیکن ہمارے ہاں مجموعی برآمدات میں اضافہ ہونے کی بجائے مسلسل کم آتی گئی۔ چوبیس ارب سے گرتے گرتے برآمدات اب بیس ارب ڈالر کے لگ بھگ آ گری ہیں۔
اسی ہفتے دو مختلف قائمہ کمیٹیوں نے وزیرِ تجارت کو خوب آڑے ہاتھوں لیا کہ برآمدات کیوں کم ہو رہی ہیں ؟ حکومت نے 180 ارب ڈالر کا برآمدی پیکیج بھی دیا لیکن برآمدات میں اضافہ دور دور تک نہیں۔ ان ہی اجلاسوں میں ٹیکسٹائل کی سب سے بڑی ایسوسی ایشن ایپٹما نے ابھی اپنا کیس پیش کیا کہ دیگر علاقائی ملکوں میں بجلی ور گیس کے ریٹ بھی سستے ہیں اور کچھ ممالک میں ریبیٹ بھی زیادہ دیا جا رہا ہے۔ ان ہی اجلاسوں میں وزیرِ تجارت نے تجویز پیش کی کہ اگلے سال ایکسپورٹ پیکیج میں دس فی صد اضافے کی شرط واپس لینی چاہئے تاکہ برآمد کنندگان کی مسابقت میں اضافہ ممکن ہو یہ الگ بات ہے کہ معاملہ فنڈز وغیرہ کا ہے اور اس کا فیصلہ تو کسی اور وزارت نے کرنا ہے۔ وزیرِ تجارت تو تجویز کر سکتے ہیں اور قائمہ کمیٹیاں وزیر تجارت پر اپنی اپنی بھڑاس نکال سکتی ہیں لیکن اس سے برآمدات تو بڑھنے سے رہیں۔
اس دوران البتہ نئے سیکریٹری تجارت نے دو درجن سے زائد کنسلٹنٹس رکھنے کی منظوری دی ہے جو مختلف اسٹڈیز کر کے حکومت کو مشورہ دیں گے کہ مختلف شعبوں میں برآمدات بڑھانے کیلئے کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ تو وقت آنے پر ہی پتہ چلے گا کہ ان کی سفارشات قابل قبول بھی ہوں گی یا نہیں۔ اگر کچھ سفارشات قبول بھی ہوئیں تو ان پر عمل درآمد کی باری کب آئے گی ؟ اس دوران پلوں کے نیچے سے کتنا پانی بہہ جائے گا ، اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں۔ ماہرین کو حیرت ہے کہ فوری عملی اقدامات کی بجائے حکومت اب کنسلٹنٹس سے پوچھنے چلی ہے کہ کوئی بتلائے کہ ہم تبلائیں کیا کہ برآمدات کیوں کم ہوئی ہیں!
ابھی یہ حکومتی ادھیڑبن جاری تھی کہ یورپی یونین نے حکومت کو مطلع کیا ہے کہ جی ایس پی پلس کا وسط مدتی جائزہ چند مہینوں میں لیا جائے گا۔ اب تک کے جائزے کے مطابق پاکستان کو جن ستائیس انسانی حقوق معاہدوں کی پاسداری کرنے کی ضرورت تھی، پاکستان کا پاسداری ریکارڈ مایوس کن ہے۔ لہٰذا اس امر کا اندیشہ ہے کہ جی ایس پی پلس کی رعایت برقرار نہ رہ سکے۔ حکومت نے اپنے طور پر یورپی پارلیمنٹ ممبران اور حکومتوں سے روابط کا فیصلہ تو کر لیا ہے لیکن یورپی یونین کے اعتراضات نِری ملاقاتوں اور رابطوں سے دور نہیں ہوں گے، اور اس پر مستزاد یہ کہ اب چوہدری سرور بھی دستیاب نہیں جو اپنے قائد کے حکم پر یوں گئے اور وْوں یورپی یونین سے جی ایس پی پلس کی سہولت ہاتھ کے ہاتھ لے آئے۔ مرے کو مارے شاہ مدار، برآمدات پہلے ہی کم ہو رہی ہیں اور اوپر سے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس کا وسط مدتی جائزہ کوئی نیا گْل نہ کھلا دے۔ a

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *