پناماکیس کا انجام

Haq Nawaz Jillani

مجھے آج تک وہ بدقسمت لڑکی نہیں بولتی جب ہسپتال کے بستر سے انہوں نے کہاکہ اگر مجھے انصاف نہ ملا تو میں خود کشی کر لوں گی بعدازں وہی ہوا جس کا ڈر تھا انصاف نہ ملنے پراس لڑکی نے خودکشی کرلی اور انصاف جس طرح غریبوں کو ہماری داستانوں میں ملتا ہے وہی داستان قائم ہوگئی ۔پاکستان میں عام تصور یہ قائم ہے جو سچ بھی ہے کہ قانون صرف غریبوں کیلئے ہیں امیروں کیلئے کوئی قانون نہیں جو جتنابڑا چور اور ڈاکوہوگا اتناہی وہ قانون کو روندڈالے گا اور اعلیٰ عہدے پر فائز ہوگا۔اب حالات آہستہ آہستہ تبدیل ہوتے نظر آرہے ہیں۔
حقیقت یہی ہے کہ پناما کیس نے نہ صرف دنیا کی سیاست تبدیل کی بلکہ اب پاکستان میں بھی وہ کچھ ہونے لگا جس کیلئے ہم جیسے صحافی ہر وقت آواز اٹھاتے تھے اب لگ رہاہے کہ پاکستان میں بھی قانون کی حکمرانی قائم ہوگی غریبوں کیساتھ اب امیر اور ملک وقوم کو لوٹنے والے طبقے کا بھی احتساب ہوگا۔پناما رپورٹس کے بعد بہت سے جمہوری پسند اور قانون پر عمل کرنے والے ممالک کے وزرا ، وزیراعظم اور صدرور نے اپنے عہدوں سے مستعفی ہوکر سر تسلیم خم کرلیا تھالیکن پاکستان میں اس کے برعکس ہوا یہاں پر وزیراعظم مستعفی ہونے کیلئے تیار نہیں تھے بلکہ انہوں نے اس کو اپنے خلاف سازش قرار دیا جو کہ پاکستان میں سب سے آسان کام ہے کہ جب پکڑے جاؤ تو معاملے اور سوال کا جواب دینے کی بجائے اس کو امریکا ، بھارت اور یہودیوں کی سازش قرار دے دو۔
اللہ تعالیٰ عمران خان کی عمر دارز کرے اور ساتھ میں ان میڈیا ہاؤس اور صحافیوں کا جو بھر پور طریقے سے کھڑے رہیں اور عوام کو حقائق سے آگاہ کرتے رہیں۔پناما کیس نے نہ صرف پاکستان میں شریف خاندان کی دولت اور کرپشن کو بے نقاب کیا بلکہ اس کی وجہ سے بہت سے صحافی، میڈیاہاؤسز، وکلا، بیورکریٹس اورسیاستدانوں کی بھی حقیقت کھل کر سامنے آگئی جو بظاہر احتساب قانون اور انصاف کی بات کرتے تھے لیکن اب حقیقت میںٍ یہ لوگ انصاف اور قانون کی بالادستی نہیں بلکہ ملک میں تبدیل ہونے والے سسٹم کو بچانے کیلئے متحرک ہو گئے تھے جس میں ان لوگوں کو معلوم ہے کہ اگر آج ملک کے سب سے طاقتور وزیراعظم اور میاں براداران کا احتساب ہوگا توکل ہمارا نمبر بھی آئے گا۔
ابتدائی عدالتی کارروائی کے بعد جب دو ججز نے وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف نااہلی اور کرپٹ مافیا کہا کہ ان کو گھر جانا چاہیے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے اس وقت تین ججز کا خیال یہ تھا کہ ہمیں ان کا تھوڑا سامزید وقت دینا چاہیے اگر یہ لوگ اپنی صفائی میں کچھ مزید ثبوت پیش کر دیں تاکہ نہ صرف انصاف کے تقاضے پورے ہوجائیں بلکہ ان کو بھر پور موقع بھی مل جائے تاکہ کل ان خلاف فیصلہ کرنے میں کسی کوبھی اعتراض کا موقع نہ ملیں اور اس سلسلے میں سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنائی جس کو ساٹھ دنوں میں کام مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ۔ جے آئی ٹی نے اپنا کام مکمل کیا اور پہلی بار ایک عام اعتماد قائم ہوا کہ اس ملک میں نہ صرف قابل اور ایماندار لوگ اور آفسر موجود ہے بلکہ بغیر دباؤ کے کام بھی کرسکتے ہیں ۔جے آئی ٹی رپورٹس کے بعد یہ مکمل طور پر واضح ہوگیا کہ وزیراعظم نے ملک سے باہر کھربوں کی نہ صرف جائیدادیں اور دولت جمع کی ہے بلکہ وہ جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ میں موجودہ کھربوں جائداد کی ثبوت اور دستاویزات بھی اصل پیش نہ کرسکیں ۔ سپریم کورٹ کی ابتدائی فیصلے کے بعد اگر وزیراعظم میاں نواز شریف استعفا دے دیتے تو شاید ان بدنامیوں سے بچ جاتے جو جے آئی ٹی رپورٹس میں آئی ہے کہ وہ خود وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی دبئی میں ایک کمپنی میں بطور مارکیٹنگ مینجر کام کرتے رہیں اور تنخواہ بھی لیتے رہے یہ پاکستان کی بدنامی کاباعث بنا گیا لیکن یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ وزیراعظم اور ان کے بچوں کے کاروبار ہرسال نقصان کرتے رہیں لیکن اس کے باوجود ان کی دولت میں ہرسال کھربوں کا اضافہ بھی ہوتا رہا ۔مجھے تو اس وقت بالکل کلےئر ہوگیا تھا جب ان کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ میاں صاحب کی دولت جو پناما میں آئی ہے وہ تو صر ف ایک مونگ پھلی ہے ان کا کاروبار اور دولت دنیا کے کونے کونے میں ہیں۔ اس وقت مجھ سمیت بہت سے صحافی جان گئے کہ میاں نواز شریف ساری عمر قوم کو یہ بتاتے رہیں کہ ہماری ساری دولت ملک کے اندر ہے آج اس کیس میں معلوم ہوسکا کہ ان کے ملک کے اندر تو پانچ فیصد دولت بھی نہیں ہے ان کی ساری دولت تو بیرونی ممالک پڑی ہے جو کاروبار سے نہیں بلکہ لوٹ مار اور کرپشن سے بنی ہے جس میں زیادہ تر دولت اپنے بچوں کے نام پر موجود ہے ۔یہ تو پاکستان میں ایک پاکل آدمی سے بھی پوچھا جائے کہ میاں نواز شریف کی دولت اس کے بچوں نے بزنس کرکے کمائی ہے تو وہ پاکل کہہ دیں گے کہ لوگ تو مجھ پاکل کہتے ہیں لیکن پاکل تو آپ ہیں کہ یہ دولت اور عالی شان زندگی ان کے بچوں نے محنت کرکے کمائی ہے ، وزیراعظم میاں نواز شریف تو صرف پاکستان میں سیاست کرتے رہے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ انہوں نے ملک میں صحیح سیاست بھی نہیں کی ہے بلکہ سیاست کو نقصان پہنچایا ہے جس پر زندگی رہی تو آئند ہ دنوں میں کالم لکھوں گا کہ انہوں نے اپنے طرز سیاست سے سیاست اور جمہوریت کی نفی کی ہے۔ ان سے بہتر سیاست اور جمہوریت کیلئے پیپلز پارٹی نے قربانی دی ہے ۔ میاں صاحب نے اپنی وہ سیاست جو کرسی کیلئے تھی اس کابھی جنازہ نکلا دیا ہے ۔آئندہ ان کانام اور ذکر کرپشن، جھوٹ اور بدنامیوں سے ہوتا رہے گا۔ سیاست کرسی پر بیٹھنے کانام نہیں بلکہ کچھ اصولوں اور عوام کیلئے بھی کی جاتی ہے لیکن میاں صاحب کی سیاست نے دوسروں کا کیا سب سے زیادہ اپنا ہی نقصان کرڈالا۔
لیکن بعض اوقات جب میں سوچتا ہوں تو یہ اصل میں اللہ تعالیٰ نے ان کو پوری دنیا اور ملک میں بدنام کیا۔ان کی حقیقت پوری قوم پر عیاں ہوگئی کہ ا ن کا مال اورجائدادیں نہ صرف کرپشن سے بنی ہے بلکہ ان کیساتھ کام کرنے والے رشتہ دار اور ساتھیوں نے بھی خوب مال بنایا جس کی ایک مثال اسحاق ڈار کی شکل میں ہمیں نظر آرہی ہے کہ ان کی دولت پانچ چھ سال میں 91لاکھ سے بڑھ کر 91کروڑ ہوگئی ہے جو ریکارڈ پر ہے حقیقت میں شریف برادران اور اسحاق ڈار کی دولت کئی گنا زیادہ ہے جس کاآنے والے وقت میں مزید پتہ چل جائے گا۔
پناما کیس کاانجام یہ نہیں کہ وزیراعظم گھر چلا جائے گا بلکہ مزید پکڑدھکڑ شروع ہوگی، بہت سی چیزیں سامنے آئے گی بہت سے لوگ بے نقاب ہوں گے۔ یہ تو صرف آغاز ہے ،آگے آگے دیکھے ہوتا ہے کیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *