کیا ہوگا؟ دیکھتے ہیں!

سراج الدین 
syed sirajuldin
نواز شریف پہلی بار 1990 میں وزیر اعظم منتخب ہوئے لیکن 1993 صدر غلام اسحاق خان نے اُنھیں کرپشن کے الزامات کے ساتھ فارغ کردیا. سپریم کورٹ نے گو نوازشریف کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا لیکن چیف آف آرمی اسٹاف نے دونوں کو عہدوں سے مستعفی ہونے کا مشورہ دیا یوں غلام اسحاق خان تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گھر چلے گئے لیکن نوازشریف نے سیاسی جدوجہد جاری رکھی اور ایکبار پھر 1997 میں بھاری اکثریت سے ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے اس ٹرم میں بھی نوازشریف کے لئے حکومت کرنا آسان نہیں تھا . عدلیہ اور فوج سے آپکے تعلقات خراب رہے.
Nawazi
عدلیہ پر حملہ ہوا جنرل کرامت کو فارغ کرکے پرویز مشرف کو چیف آف آرمی سٹاف کا عہدے دیا لیکن کارگل کے مسئلے پر فوج سے شدید اختلاف سامنے آئے اس موقع پر حضرت نے پرویز مشرف کو برخاست کرنے کی کوشش کی لیکن 1999 میں خود فارغ ہوگئے ملک میں مارشل لاء لگ گیا اور نوازشریف کو دس سال کے لئے سعودی عرب کی حکومت کے حوالے کردیا گیا. وقت گزرا ایکبار پھر نوازشریف کی قسمت نے ساتھ دیا 2013 میں دوبارہ انکی حکومت قائم ہوگئی لیکن اس بار بھی وہ لگتا ہے کہ اپنی ٹرم مکمل نہیں کرپائیں گے. یہاں َایک بات تو ماننا پڑے گی کہ نوازشریف بار بار برخاست ہونے اور اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کے باوجود ہمیشہ عوامی ووٹوں کی طاقت سے حکومت حاصل کرلیتے ہیں . اُن پر ہمیشہ  کرپشن کے الزامات لگتے ہیں لیکن کھبی بھی أَن پر الزامات کو ثابت نہیں کیا جاسکا. اس بار بھی نوازشریف بُری طرح جکڑے گئے. دیکھیں اس بار وہ اس کرائسس سے کیسے نکلتے ہیں یا پھنس جاتے ہیں یقینا اس بار وہ پوری طرح سے اسٹیبلشمنٹ کے نرغے میں ہیں عدالت سے انکا بچ نکلنا ممکن نظر نہیں آرہا ہے. باوجود غیر ضروری زبانی جمع خرچ کے آپ اور آپ کا خاندان عدلیہ سے تعاون کررہا ہے. عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہوگا دیکھتے ہیں.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *