ہاسپٹل کی ڈائری

اصغر علی

وہ ہاسپٹل میں آئی تو میں نے مریض سمجھتے ہوئے فائل میں اس کا اندراج کرنا چاہا...اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے ایک مڑا تڑا رقعہ میری جانب بڑھا دیا...میں نے پوچھا کہاں سے آئی ہو...اس نے ایک قریبی گائوں کا نام بتا دیا...میں نے کہا ابھی کیا کرتی ہو...کہنے لگی مانسہرہ میں ایک سکول ہے روزانہ وہاں جاتی ہوں اور تمام کلاس رومز میں جھاڑو دے کر صفائی کرتی ہوں اس کے بعد استانیوں کے چھوٹے موٹے کام کردیا کرتی ہوں...میں نے پوچھا کتنی تنخواہ ملتی ہے؟

lettr

کہنے لگی دس ہزار روپے مہینہ کے دیتے ہیں مگر راستہ زیادہ ہے تین ہزار کرایہ میں لگ جاتا ہے...گھر سے دور ہے ...دل گھر میں بچوں میں اٹکا رہتا ہے... چار بچیاں ہیں ...شوہر فوت ہوچکا ہے...اگر مہربانی کرکے مجھے یا میری کسی بچی کو ملازمت دے دیں تو ہماری زندگی آسان ہوجائے گی.میں سارے ہاسپٹل کی صفائی کردیا کروں گی .....یہ کہہ کر اس نے اداسی سے اپنا سر جھکا لیا...
میں سوچ میں پڑ گیا....جیسے جیسے یکم قریب آتا ہے...موجودہ اسٹاف کی تنخواہوں کا بندوبست میرے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا...مزید سٹاف کیسے رکھیں....میرے ذہن میں تو اس کی ایک ہی صورت بن رہی ہے کہ کچھ دوست ان یتیم بچوں یا ان کی بیوہ ماں کے ماہوار سیلری کی ذمہ داری اٹھائیں اور ہم ان کو ہاسپٹل میں کوئی جاب دے دیں....احباب کیا کہتے ہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *