کچھ حال وطن اور اہلِ وطن کا

kashif butt

جولائی کا پہلا عشرہ پاکستان میں گزرا۔ ایک تو گرمی اپنے عروج پہ تھی اور ساتھ میں مسلسل سفر۔۔۔ لیکن اس کے باوجود وطن اور اہلِ وطن سے ہر جگہ ایسی محبت ملی کہ موسمی اور سفری اثرات زائل ہوتے گئے۔ کئی ایک چیزیں تھیں جہاں نمایاں تبدیلی نظر آئی لیکن بہت سی جگہیں ایسی بھی تھیں جہاں حالات جوں کے توں تھے یا زیادہ خراب ہو چکے تھے۔ گوجرانوالہ پاسپورٹ آفس میں جانا ہوا۔ کئی خدشات کے ساتھ گیا کہ تین برس قبل وہاں بڑی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تب پاسپورٹ بنوانے والوں کو خاصی تکلیف ہوتی تھی پاسپورٹ آفس کے عملے اور باہر موجود ایجنٹوں کے بیچ معاملات ایسے طے ہوتے تھے کہ اگر کوئی شخص ایجنٹوں سے بچ کر پاسپورٹ بنوانا چاہے تو اس کے لیے قریب قریب ناممکن ہوتا تھا۔ ٹوکن سے پہلے جو کلرک کاغذات کی جانچ پڑتال کیا کرتا تھا وہ دفتر میں موجود ہوتے ہوئے بھی نظر نہیں آتا تھا اور اس کے سائن کے بنا ٹوکن لگنا ممکن نہ تھا۔ جو لوگ باہر ایجنٹوں سے معاملہ طے کر لیتے تھے ان کی فیس بھی جمع ہو جاتی اور ایجنٹ کلرک سے دستخط بھی کروا کے لے آتا۔ اس سارے معاملے میں سیکیورٹی گارڈز سے لے کر اسسٹنٹ ڈائریکٹر تک سب ملوث ہوتے تھے۔ تب وہاں ایک خاتون اسسٹنٹ ڈائریکٹر تھی جو ملکہ عالیہ کے انداز میں دفتر آتی تھی۔ خیر تب میرے تین دن اس محکمہ کی ہٹ دھرمی کی نذر ہو گئے تھے۔ لیکن اب کی بار بہت مختلف صورت حال تھی۔ کام چوری اب بھی کسی نہ کسی انداز میں موجود ہے لیکن پیسوں کے ذریعے کام کروانے والی صورت حال اب نہیں رہی۔ ممکن ہے تھوڑ ابہت چھپ چھپا کے اب بھی چلتا ہو لیکن اب ویسے نمایاں نہیں ہے جیسے پہلے ہوا کرتی تھی۔
گجرات میں قیام کے دوران بارشوں سے ملاقات رہی۔ اہلِ گجرات خوب جانتے ہیں کہ شہر کے نشیبی حصے بارش کا سامنا کرنے سے قاصر ہیں۔ جیل روڈ اور کچہری تو نہروں کا منظرنامہ پیش کرنے لگتے ہیں۔ آپ کے پاس گاڑی یا موٹر سائیکل ہے تو وہ عین اس موقع پہ آپ کو دھوکہ دے گی جہاں کوئی دوسرا آپ کی مدد کو پہنچ نہ پائے گا۔ اور اگر آپ پیدل ہیں تو اس بات کی ضمانت کوئی نہیں دے سکتا کہ آپ سڑک باحفاظت پار کر سکیں گئے یا نہیں۔ کیونکہ سٹرک پہ کہاں گٹر کھلا ہے اور کہاں سڑک کے ساتھ نالی مل چکی ہے اس کا اندازہ آپ کو اسی وقت ہوتا ہے جب آپ توازن کھو چکے ہوتے ہیں۔ گوکہ شہر کی بہتری کے لیے ماضی میں کئی ایک بڑے سیاسی پنڈت کام کر چکے ہیں اور ابھی بھی پنجاب حکومت نے وہاں اپنے نمائندوں کے لیے فنڈز کھول رکھے ہیں لیکن عملی طور گجرات کی حالت پہلے سے زیادہ خراب ہوئی ہے۔ لیکن ادبی حوالے سے گجرات میں اچھا وقت گزرا۔ برادرم عتیق الرحمن صفی، برادرم نومی چوہدری، جناب فیض الحسن ناصر اور دیگر دوست احباب سے ملاقات رہی۔ حلقہ اربابِ ذوق کے عید ملن مشاعرہ میں بھی شرکت رہی گو کہ کم شعرا ہی شریک ہوئے لیکن ایک بھرپور ادبی نشست تھی۔ برادرم عتیق الرحمن صفی اور اشفاق شاہین نے گجرات میں حلقہ کی بنیاد رکھی تھی جو اب اپنے پاؤں پہ کھڑا ہے۔ حلقہ کی نئی انتظامیہ اس لحاظ سے مبارک باد کی مستحق ہے کہ انھوں نے اجلاس کے انعقاد کے سلسلے میں باقاعدگی کا اہتمام کر رکھا ہے۔
سرائے عالمگیر میں برادرم سید انصر سے ملاقات رہی ان کی تنظیم کاروانِ ادب خطے میں علم و ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ کئی شعرا و ادبا کو متعارف کروا چکی ہے اور بہت سے اہم شعرا تنظیم کے ساتھ منسلک ہیں۔ کارواں کی محبت کہ مجھے ان کے احباب سے ملنے اور ان کا کلام سننے کا موقع ملا اور یہ احساس ہوا کہ سرائے عالمگیر میں بہت اچھا شعر کہا جا رہا ہے۔ اسی طرح ایک نشست راولپنڈی میں برادرم عارف فرہاد کے ہاں راولپنڈی میں ہوئی جس کی صدارت جناب م ف خیال کنجاہی نے کی۔ جناب میاں اعظم نے اپنے نئے مجموعے عنایت کیے۔ واہ کینٹ میں خواجہ عرفان ایوب کریمی کے دولت کدے پہ ایک ادبی نشست کا اہتمام کی اگیا جس میں پروفیسر محمد عارف اور جناب شوکت محمود اعوان بھی شریک رہے۔
ہری پور میں سعید صاحب کے دولت کدے پہ بڑی اچھی نشست رہی۔ ساجد حمید ساجد، حسن سیف اور دیگر موجود تھے۔ سعید صاحب کمال کے شاعر ہیں۔ جس مشاعرے میں صاحب موجود ہوں تو سمجھ لیجیے کہ وہاں کسی اور کا رنگ نہیں بیٹھنے والا۔ صاحب ہی کے اشعار ہیں:
عہدِ نوجوانی میں لغزشیں تو ہوتی ہیں
بارشوں کے موسم میں بارشیں تو ہوتی ہیں
خوشبوؤں کی زلفوں کو چاندنی کے شانوں پر
رات بھر مہکنے کی خواہشیں تو ہوتی ہیں
حرف اکادمی ہزارہ نے حویلیاں میں ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں ہزارہ بھر سے شعرا و ادبا شریک ہوئے۔ پروفیسر خورشید احمد عون کی کتاب ماورائے تبسم کی پذیرائی بھی تقریب کا حصہ تھی۔ خورشید عون سے پرانے تعلقات ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ طنز و مزاح کو جس انداز میں خورشید عون لے کر بڑھ رہے ہیں اس کے آنے والے وقت میں ادب پہ گہرے اثرات پڑیں گئے۔ انھوں نے المیاتی اور تلخ موضوعات کو برتا ہے اور یہ ان کی تحریر کی نمایاں خوبی ہے۔ ورنہ عموما مزاح نویس کے پیشِ نظر ہنسانا ہی مقصود ہوتا ہے خواہ اس کے لیے کچھ بھی کہہ لیا جائے۔ لیکن خورشید عون کی تحاریر میں ڈھیلے جملے یا کردار نہیں ملتے۔ وہ جس کردار یا موضوع کو پکڑتے ہیں اس کے ساتھ مکمل انصاف کرتے ہیں۔ حرف اکادمی کے مشاعرے میں کئی نوجوان شعرا کو سنا۔ دل خوش ہوا کہ شعرا کا معیار بڑھا ہے کم نہیں ہوا۔ ہزارہ اور بالخصوص حویلیاں میں شعر و ادب کی ترویج کے لیے ہم دوستوں نے طویل عرصہ محنت کی۔ راستے روکنے والے اور پتھر پھینکنے والے بھی کافی تھے لیکن خاموشی سے کام جاری رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں سے ادب کی ہر صنف میں کام ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ساجد خان، اسفر آفاقی، خورشید احمد عون، ملک ناصر داؤد، اعجاز احمد یوسفزئی، فرحان انجم ادب میں جانے پہچانے نام ہیں۔ نوجوانوں میں محسن چوہان، بدر منیر، نجم الحسن نجمی، کاشف سمیر، سنقر سامی اور دیگر کئی نام ہیں جو اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایبٹ آباد میں سعد اللہ سورج کے دفتر میں نشست رہی۔ اویس خالد اور بدر منیر کی غزلوں نے محفل کو چار چاند لگا دیے۔
واپسی سے ایک دو دن قبل ہی جے آئی ٹی کی رپورٹ جاری ہوئی۔ میاں صاحب اور ان کے وزرا نے پھر وہی راگ الاپنے شروع کر دیے کہ ان کے خلاف سازش ہے اور ناانصافی ہو رہی ہے۔ دراصل میاں صاحب کا ایک اہم مسئلہ ہے کہ وہ جب بھی اقتدار میں آتے ہیں تو صاحبانِ اختیار کی رضامندی سے آتے ہیں اور جب کرسی پہ بیٹھ جاتے ہیں تو پھر ایک دم سے رویہ تبدیل کر لیتے ہیں اور اپنی ہی سیڑھی ہٹانے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ اداروں سے جتنا میاں صاحب اور ان کی جماعت قریب رہی ہے اتنا پی پی پی کبھی بھی نہیں رہی لیکن اس کے باوجود ہمیشہ نون لیگ نے اداروں سے ٹکراؤ کا راستہ لیا ہے جبکہ پی پی پی نے برداشت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے اب اس معاملے کا کوئی مستقل حل طے پا چکا ہے لیکن اس میں بھی سب کا حصہ ہو گا۔ کسی کو کچھ مل جائے گا اور کسی کو کچھ۔ ضروری نہیں کہ کسی ایک فریق کی مکمل فتح پہ ہی کہانی کا اختتام ہو۔ تب تک حکومت، حزبِ اختلاف اور میڈیا سب کو بولنے کے لیے کچھ وقت مل گیا ہے۔ پھر ایک دن اچانک ہی پٹاری کھلے گی اور سب کے رنگ فق ہو جائیں گئے۔ ابھی تو وطنِ عزیز نے چین کو راستہ دیا ہے۔ چینی پاکستان آ رہے ہیں۔چینیوں کو کیا ماحول دینا ہے اور اس ماحول کی تشکیل کیسے ہو گی اس پہ بھی کافی کام ہونے والا ہے اور کرنے والے کر بھی رہے ہیں۔ دیکھیے آنے والے دنوں میں کیا ہوتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *