مائیں اپنی بیٹیوں کوخاموش کیوں کردیتی ہیں؟

مہوش بدر

mehvish badar

مقابل ڈرامہ لکھنے والے ظفر معراج کے ڈرامہ سنگت میں بہت سی چیزیں قابل تعریف ہیں لیکن کچھ معاملات ایسے بھی ہیں جن کو زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے تھی۔ یہ ڈرامہ ایک خاتون پر جنسی حملے کی داستان پر مبنی ہے۔ ڈرامہ کی کہانی ہے ہے کہ عائشہ (صبا قمر) ایک خوش و خرم ، روشن خیال خاتون ہیں جن کی شادی عدنان (میکال زوالفقار) سے ہوئی اور وہ اپنی نند،ساس فراہ (کرن حق) اور میاں کے ساتھ رہتی ہیں ۔

سب ٹھیک ٹھاک ہے۔ عدنان ایک محبت کرنے والا شوہر ہے،عائشہ ایک ذمہ دار بیوی ہے۔ لیکن وہ بچے سےمحروم ہیں کیونکہ عدنان کو اس سلسلے میں علاج کی ضرورت ہے،جسے وہ نظر انداز کر رہا ہے۔عائشہ کی ماں (صباح فیصل) پروفیسر ہیں جن کے رفیق کار کا بیٹا(شاویز) عاشی کے لیے پاگل ہے۔

ایک رات جب عاشی اپنی ماں سے ملنے آتی ہے تب شاویز اپنے دو دوستوں کے ساتھ اس کی ماں کے گھر ڈکیتی کرنے جاتے ہیں۔شاویز عاشی کو کمرے میں بند کر کے اس کی عزت لوٹ لیتا ہے۔اس کے دوست بھی عاشی کی عزت لوٹنا چاہتے ہیں پر شاویز ان کو روکتا ہے جس دوران عاشی اس کا چہرہ دیکھ لیتی ہے اور اسے پہچان جاتی ہے۔ عاشی کی ماں کو عزت لٹنے کا اندازہ ہو جاتا ہے پر وہ اسے خاموش رہنے کی تاکید کرتی ہے۔عاشی کی ماں شاویز کو نہیں دیکھا ہوتا اور بعد میں جب اس سے ملتی ہے تواس سے مدد مانگتی ہیں شاویز ان کے قریب ہو جاتا ہے کیونکہ عاشی کی ماں بہت اچھی خاتون ہیں۔

کچھ ہفتوں بعد جب عاشی مجرموں کی پہچان کے لیے جاتی ہے تو وہاں اسے پتہ چلتا ہے کے وہ حاملہ ہے۔وہ عدنان کو اپنے حاملہ ہونے کے بارے میں کچھ نہیں بتاتی۔ صرف عاشی، اس کی ماہر نفسیات اور اس کی ماں کو اس راز کا پتہ ہوتا ہے۔جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو سب بہت خوش ہوتے ہیں،پر کچھ ہفتوں بعد انہیں پتہ چلتا ہے کے ان کی بیٹی سنگت کو بلڈ کینسر ہے۔ اور بون میرو ٹریٹمنٹ کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت ہے۔ تب عدنان کو پتہ چلتا ہے کے سنگت اس کی بیٹی نہیں ہے۔

دوسری طرف عاشی کی ماں اور شاویز اچھے دوست بن چکے ہوتے ہیں۔وہ اسے روزگار دلانے کی کوشش کر رہی ہوتی ہیں۔ تعلق اتنا ہو جاتا ہے کہ اسے گھر میں رہنے کی اجازت بھی دے دیتی ہیں۔شاویز گناہ کی تلافی اور معافی کے راستے تلاش رہا ہوتا ہے۔وہ اب بھی بیوقوف ہے،کیونکہ وہ اس لڑکی کے ساتھ بہت برے طریقے سے پیش آتا ہے جو اس سے محبت کرتی ہے۔ جبکہ سلمہ(سونیہ میشال) اس کے لیے سب کچھ چھوڑنے کو تیار ہے۔

یہ بات کرنے سے پہلے کہ سنگت کے ساتھ بلکل غلط ہوا پہلے کچھ ان چیزوں پر غور کرتے ہیں جو اس ڈرامہ میں صحیح ہیں ۔ ڈرامہ کا مقصد عورت کے ساتھ ہوئی زیادتی کے اثرات کو ظاہر کرنا تھا۔ جس شرم اور احساس جرم سے عورت دو چار ہوتی ہے اس عذاب کے بعد اسے اتنا ہلکا نہیں لیا جاسکتا۔وہ اس احساس کے ساتھ ایک زندہ لاش بن جاتی ہے۔ سنگت میں ان سب اثرات کو واضح طور پر دکھایا گیا۔ ڈرامہ میں عدنان اپنے آپ سے باتیں کرتا دکھائی دیتا ہے جس میں وہ معاشرے کے جنسی حملوں کا شکار عورتوں کےساتھ رویہ پر گفتگو کرتا ہے۔ وہ بہت لمبی اور پر جوش گفتگو کرتا ہے کہ سوسائٹی کس قدر بے حس ہے جو مظلوم لڑکیوں کو ہمت نہیں دے سکتی کہ وہ اپنے اوپر ہوئے ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکیں ۔ الٹا انہیں اس حملے کی ذمہ دار بنا دیتی ہے۔ سنگت میں یہ دکھایا گیا ہے کہ کیسے مائیں اپنی بچیوں کو جنسی حملوں کے خلاف آواز نہ اٹھانے پر مجبور کرتی ہیں۔

عاشی کی ماں بھی اسے کامیابی سے سچ بتانے سے یہ کہہ کر روک لیتی ہے کہ اگر اس نے سچ بتا دیا تو عدنان اسے چھوڑ دے گا۔خواتین کا یہ رویہ اور آنے والے حالات زندگی میں تباہی کا موجب بن جاتے ہیں۔ اگر عاشی اپنے خاوند پر بھروسہ کرتی، اس کی ماں اس کے ساتھ کھڑی رہتی تو مسائل تو پیش آتے لیکن یہ نتیجہ نہ نکلتا جو اس راز کو خفیہ رکھنے کی صورت میں نکلا ہے۔

جہاں تک سنگت کی خامیوں کا تعلق ہے تو پہلی اور ضروری چیز ہے کہ اس میں عزت لوٹنے والے مجرم کو ایک عام اور اچھا آدمی دکھانے کی کوشش کی گئی۔ ایسا دکھایا گیا کہ شاویز ایک برا انسان نہیں ہے بس اس نے کچھ غلط فیصلے کیے ہیں۔ شاویز کو ایک ہمدرد انسان دیکھایا گیا ہے لیکن اچانک وہ دماغی تو پر کمزور غصیلا انسان بن جاتا ہے اورکبھی کبھار ایک عزت لوٹنے والا بھی بن جاتا ہے۔ یہ چیز اس کے کردار کے بارے میں کئی سوالات پیدا کرتی ہے۔

شاویز میڈیا کے سامنے سیاسی بیان دیتے ہوئے پاکستانی معاشرے کا حوالہ دیتا ہے جہاں ہمیشہ عورتوں کو عصمت دری اور جنسی حملوں کا ذمہ دار مانا جاتا ہے ۔ اس ڈرامہ میں ہم یہ نہیں دیکھ پاتے کہ کس چیز نے شاویز کو اس جرم پر مجبور کیا ہے۔ ہم اس کے گناہ سے زیادہ اس کے باقی اعمال کو زیادہ توجہ دیتے ہیں جن کے ذریعے شاویز کو بے گناہ قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ایک اور سین میں شاویز سلمہ کو اپنے بھیانک جرائم کے بارے میں بتایا ہے اور اسے جواب ملتا ہے: لیکن میں پھر بھی تم سے پیار کرتی ہوں اور کبھی تم سے نفرت نہیں کر سکتی۔ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ ایک شخص اپنے بھیانک عصمت دری کے جرم کی منظر کشی کرے اور آپ اسے کہیں کہ آپ اس کے باوجود اس سے نفرت نہیں کر سکتے۔ بہت سے خواتین کے ساتھ مسائل ہوتے ہیں اور وہ ایسے حالات برداشت کرنے پر مجبور ہوتی ہیں لیکن اس حد تک ظالمانہ کردار کے شخص کی حرکات کو نظر انداز کر دینا مضحکہ خیز ہے۔

ریپ کو ایک پلاٹ ڈیوائس کے طور پر پیش کرنا

بہت سے ڈراموں میں ریپ کو پلاٹ ڈیوائس کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ چپ رہو، ننھی، انداز ستم، گل رعنا، مقابل اور اڈاری ڈراموں میں ریپ اور جنسی حملوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ لیکن صرف اڈاری ڈرامہ میں ہی مظلوم لڑکی میں یہ ہمت دکھائی گئی ہے کہ وہ اپنے راز کھول دے اور اسے خاندان اور دوستوں سے سپورٹ ملے۔ باقی ڈراموں میں ایک جیسے مسائل دکھائے گئے ہیں جہاں مظلوم خاتون اپنے بھیانک ماضی کو دنیا کے سامنے لانے کی ہمت نہیں دکھا پاتی۔

ریپ کو ایک پلاٹ کے طور پر پیش کرنا دنیا بھر کے ٹی وی چینلز کے لیے کچھ نیا نہیں ہے ۔ جنرل ہسپتال، ڈاون ٹن ابے اور گیم آف تھرون میں مختلف ٹی وی چینلز نے عملی طور پر ریپ کو پیش کیا ہے۔ کچھ شو پیش کرنے والے حضرات اس چیز کو ایک باقاعدہ عمل بننے سے روکنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن لگتا ہے کہ ان کی کوشش کامیاب نہیں ہو گی ۔ سنگت کے اختتام میں عدنان شاویز سے انتقام لیتا ہے اور اسے گولی مار دیتا ہے ۔ اس طرح یہ دکھایا گیا ہے کہ ایسے جرائم کے خلاف ملک میں انصاف کی عدم فراہمی ایسے واقعات کا باعث بنتی ہے۔

مقابل اور سنگت جیسے ڈرامہ سیریل کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ایک عصمت دری کے مجرم کو اچھا انسان بنا کر پیش کیا گیا ہے اور اس مسئلے کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی گئی کہ وہ کیا چیز ہے جو ان لوگوں کو درندہ صفت انسان بنا دیتی ہے اور وہ اس قدر بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خواتین کی زندگی کو جہنم بنا دیتے ہیں۔ ریپ کے بارے میں لکھتے وقت ایک رائٹر کو ہمیشہ سائیکو سوشل تھیوری کو مد نظر رکھنا چاہیے اور اس عمل کی قباحت بیان کرنی چاہیے نہ کہ حملہ آور کو ایک اچھے انسان کی طرح پیش کیے جانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

سنگت ڈرامہ شاویز کی نفسیاتی بیماری کو دیکھانے میں ناکام رہا ہے اور ڈرامہ کا زیادہ تر وقت اس کے نفرت انگیر اور غصیلے مزاج کو دکھانے پر صرف کیا گیا ہے لیکن دیکھیں وہ اپنی بیٹی سے کتنا پیار کرتا ہے۔ وہ تشدد پسند ہے اس میں کوئی شک نہین لیکن وہ ایک خاتون کی زندگی بچانے میں کس قدر مخلص دکھایا گیا ہے۔ اس طرح کے مکس پیغامات کے ذریعے یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ کس قدر ذہنی اذیت کا شکار اور نفسیاتی مسائل میں گھر ا ہوا ہے۔

سب کے سب کردار بہت اچھے ہیں لیکن ڈرامہ کا پلاٹ اکثر اوقات غلط ہے۔ احمد دھمکانے والا اور ساتھ ہی ایک اچھے جذبات رکھنے والا مہربان شخص دکھایا گیا ہے ۔ قمر کو عصمت دری کا شکار دیکھ کر انسان کے جذبات بے قابو ہو جاتے ہیں۔ فرح نے سب سے ذمہ دار کردار ادا کیا ہے جس کی وجہ سے اکثر ناظرین پلاٹ کو بھول جاتے ہیں۔ ذوالفقار وہ بے چین خاوند ہے جو بہت بے چینی اور پریشانی میں مبتلا زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور یہ بے چینی شاویز کے قتل کے بعد ختم ہوتی ہے۔ ڈرامہ کا بیک گراونڈ میوزک گیم آف تھرون کی طرز پر پیش کیا گیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ سنگت ایک مسائل سے بھر پور ڈرامہ ہے۔


source:http://blogs.tribune.com.pk/story/50312/sangat-proves-that-mothers-will-always-force-their-daughters-to-stay-silent-about-abuse/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *