حسد کی آگ میں جلتا عمران خان

محمد اقبال قریشی

muhammad iqbal qureshi

اکثر دوست شکوہ کناں رہتے ہیں کہ خان سسٹم کو بدلنے نکلا ہے ، کم از کم اپنے قلم سے تو ا سکا ساتھ دو ، اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم اس کے خلاف زہر تو مت اگلا کرو، وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کئی ایک دوست احباب نے تو بلاک اور ان فرینڈ بھی کر دیا لیکن نہیں ، میں نہیں مانوں گا ، کیوں کہ میں نہ تو بغض نواز کا شکار ہوں ، نہ ہی میں خان کا اندھا دھند دیوانہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں خان کو تب سے بھی پہلے سے جانتا ہوں جب خان کنٹینر پر ہاتھ نچا نچا کر حکومت جانے کی پیشن گوئیاں کر رہا تھا اور راتوں کو جاگ جاگ کر سڑک کنارے نوجوان لڑکے لڑکیاں اپنا اپنا سکھ چین صرف اس امید پربرباد کر رہے تھے کہ شاید خان کو ئی تبدیلی لے آئے ۔۔۔۔۔۔ لیکن خان نے کیا کیا ، ایک جرنلسٹ کے دام میں آکر اس کی زلفوں کا اسیر ہو گیا، شادی کر کے ہنی مون پر چلا گیا ، اس کے فالور گالیاں اور لاٹھیاں کھا رہے تھے اور وہ کہیں دور اپنی نوبیاہتا کے ساتھ داد عیش دے رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ، خان شروع سے ہی پاگل ہے  معذرت کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔ عوام نے جتنا خان کا ساتھ دیا اتنا شاید ہی کسی کا دیا ہو، لیکن جب خان اپنے اصولوں سے منحرف ہوا، یو ٹرن لیتا گیا اور کرپٹ لوگوں کی ٹیم بڑھاتا گیا تو لوگ مایوس ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خان کی حماقت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ جب کسی نے کان میں کہہ دیا کہ چیف آف سٹاف مارشل لاء لا سکتا ہے تو فوراً جلسوں میں ڈنڈ پیلنے شروع کر دیے تا کہ عوام کو تاثر ملے کہ فوج خان کی پشت پر ہے ، جب کہ حقیقت میں ایسا کچھ نہ تھا، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگ کان کے خلوص اور ملک سے محبت کی گردان دہراتے نہیں تھکتے ان کی تسلی کے لیے عرض ہے کہ شاید آپ میں سے کسی نے ریچھ اور اس کے مالک کی کہانی بچپن میں پڑھ یا سن رکھی ہو ، ایک مقام پر جنگل میں سے گزرتے ہوئے ریچھ کا مالک درخت کے نیچے سو گیا اور ریچھ اس کے پاس ہی بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد ریچھ نے دیکھا کہ مالک کو بار بار مکھیاں پریشان کر رہی ہیں اور اس کی نیند میں خلل آرہا ہے ، یہ دیکھ کر ریچھ نے ایک زور کا تھپڑ اپنے مالک کے منہ پر رسید کیا کہ مکھیاں اڑا دے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مالک کا چہرہ لہو لہان ہو گیا ، اس نے ہڑبڑا کر اٹھتے ہی سب سے پہلا کام یہی کیا کہ ریچھ کو تلوار کا وار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قوم انقلاب چاہتی ہے ، تبدیلی کی خواہاں ہے ، لیکن افسوس اس کے لیے اس نے غلط ریچھ سوری ، آدمی کا انتخاب کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگ عمران کان کے شخصی حصار کے قیدی نظر آتے ہیں وہ صرف اس کی کرکٹ اور سوشل ورک میں کامیابوں کو دیکھ کر اس کے دیوانے ہیں ، ورنہ اگر ان سے پوچھا جائے کہ خان کی سیاسی سوجھ بوجھ کے بارے میں کیا کہتے ہو تو شاید وہ بھی نفرت سے منہ پھر لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں نواز شریف سے کوئی ہمدردی نہیں ہے ، ہم ملک کے ہمدرد ہیں ، اس موڑ پر حکومت کے سربراہ کا استعفی سراسر جہالت ہے ، کچھ عرصہ بعد الیکشن میں اپنا وجود ثابت کیجیے ورنہ جو اتنے عرصے سے کر رہے تھے وہی کیجیے ، عوام کا رد عمل آپ نے سڑکوں پر مائیک لے کر گھومتے مختلف چینلوں کے حوالدار اینکرز کے ساتھ ہونے والے عوامی مکالموں میں سُن لیا، ہماری قوم بھوکی ننگی ہے ، جاہل ہے ، جذباتی بھی ہے لیکن اسے پتا ہے کہ میاں صاحب کا استعفی دینا نہیں بنتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر کسی کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تو وہ عمران خان ہے اور اس کے جنونی حواری ، ۔۔۔۔۔۔۔۔ خان صاحب کی مثال کمرہ امتحان میں بیٹھے اس نالائق طالب علم کی سی ہے جو پیپر کی تیاری تو کرتا نہیں لیکن دوسروں کو پوائنٹ آئوٹ کرتا ہے کہ وہ دیکھووہ نقل مار رہا ہے ، اور جب رزلٹ آتا ہے تو خود فیل ہو جاتا ہے لیکن جن پر الزام لگاتا نہیں تھکتا وہ ٹاپ کر جاتے ہیں ، بے شک خان کے فالورز اسے گردن سے پکڑ کر وزیراعظم کی کرسی پر بٹھا دیں ، عمران خان وزیراعظم نہیں بن سکتا، صرف اس لیے کہ وہ سر تا پا نواز شریف کے حسد میں مبتلا ہے اور یہ حسد اس کے انگ انگ سے پھوٹتا نظر آتا ہے  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کاش خان اور اس کے اندھے پیروکاروں کی سمجھ میں یہ بات آجاتی ، کاش !!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *