کیا پائی پائی کا حساب صرف نواز شریف اور عمران خان سے؟؟

ansar abbasi

وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کو اپنے ملکی اور غیر ملکی اثاثہ جات اور 1971 سے میاں شریف مرحوم کے کاروبار کا پائی پائی کا حساب نہ دینے پر سارا ٹبر چور کہنے والے عمران خان بھی سپریم کورٹ کو لندن میں اپنے فلیٹ کی خریداری کے لیے رقم کی منی ٹریل دینے میں ناکام ہو گئے۔ اپنے وکیل کے ذریعے دیئے جانے والے جواب میں خان صاحب نے تسلیم کر لیا کہ 1971 سے 1988 تک کائونٹی کرکٹ کھیلی مگر آمدنی کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ اپنی ملازمت کے شیڈول کا ریکارڈ بھی خان صاحب کو نہیں ملا۔ منی ٹریل کو ثابت کرنے کے لیے اگر شریف خاندان نے قطری خط کا سہارا لیا تو خبروں کے مطابق خان صاحب کی طرف سے بھی جمعہ کے روز عدالت عظمیٰ کو ایک خط جمع کرا دیا گیا۔ ورلڈ سیریز کرکٹ کے سابق ڈائریکٹر آسٹن رابرٹ کے خط کو بطور منی ٹریل پیش کیا گیا۔ یہ خط لندن فلیٹ کی خریداری سے متعلق مالی وسائل کے خواز کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس خط میں آسٹن رابرٹ لکھتے ہیں کہ اس خط کا مقصد اس بات کی تصدیق کرنا ہے کہ عمران خان کو میں نے بحیثیت ڈائریکٹر ورلڈ کرکٹ سیریز 1977 کی کرکٹ سیریز کے لیے سائن کیا تھا۔ رابرٹ نے کہا کہ عمران خان کو پچیس ہزار ڈالر سالانہ کے حساب سے تین سال کے لیے کھیلنے کا کانٹریکٹ دیا تھا۔ قطری شہزادہ کی طرح، رابرٹ نے اپنے خط میں لکھا کہ اگر اس سلسلے میں مزید معلومات درکار ہوں تو اُن سے ای میل یا فون کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ سال جب شریف خاندان کی آف شور کمپنیاں سامنے آئیں تو خان صاحب نے کہا کہ یہ آف شور کمپنیاں تو چوری شدہ پیسہ چھپانے کے لیے بنائی جاتی ہیں لیکن چند ہی ماہ کے بعد خان صاحب کی ایک اپنی آف شور کمپنی سامنے آ گئی۔ ایک طرف شریف خاندان کا حساب کتاب 1971 سے لیا جا رہا ہے جب نہ تو اس خاندان کا کوئی فرد سیاست میں تھا بلکہ کاروباری معاملات کا تعلق بھی میاں شریف مرحوم سے تھا جن کو فوت ہوئے بھی دس سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا۔ دوسری طرف عمران خان جنہوں نے سیاست کے میدان میں نوے کی دہائی میں قدم رکھا سے پائی پائی کا حساب 1971 سے مانگا جا رہا ہے۔ خان صاحب نے کبھی حکومت نہ کی اس لیے میاں نواز شریف کا اُن سے اس لیحاظ سے تقابل نہیں کیا جا سکتا کہ شریف فیملی گزشتہ تیس سال حکومت کرنے کے باوجود ٹیکس سسٹم کو ٹھیک نہ کر سکے اور بحیثیت حکمران اپنے کاروباری اور ٹیکس معاملا ت کو بھی شفاف بھی نہ رکھا۔ لیکن اس کے باوجود اتفاق دیکھیں کہ جو الزامات خان صاحب شریف فیملی پر لگا رہے ہیں وہی اُن کے اپنے سامنے آ رہا ہے۔ خان صاحب کی سیاست سے آپ ہزار اختلاف کر لیں لیکن کوئی اُن پر کرپشن کا الزام نہیں لگا سکتا لیکن اس کے باوجود ٹیکس معاملہ نے اُن کو ایسا الجھا دیا کہ کئی لوگوں کے خیال میں اُن کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف شریف خاندان کی طرز حکمرانی سے ہزار اختلاف اور نااہل حکمرانی کے باوجود یہ بات درست ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف کبھی کرپشن اور کک بیکس کا کوئی مقدمہ نہیں بنا۔ سپریم کورٹ کے اسپیشل بنچ نے جے آئی ٹی کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد کیس سنتے ہوئے یہ بات تسلیم کی کہ نواز شریف کے خلاف کرپشن یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا کوئی الزام نہیں۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتہ شریف خاندان کے خلاف اس مقدمہ کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر دیا اور بہت سے لوگ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ فیصلہ نواز شریف کی نا اہلی کو صورت میں آئے گا۔اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے گزشتہ کچھ عرصہ سے پی پی پی اور ق لیگ اچانک فعال ہو گئے۔ وہ یہ امید لگا بیٹھے ہیں کہ نواز شریف اور عمران خان کی نا اہلی کی صورت میں وہ اقتدار کو ایک بار پھر حاصل کر کے ملک کی اُسی طرح ـ’’خوب خدمت‘‘ کریں گے جیسا انہوں نے مل کر گزشتہ دور حکومت میں کیا۔ اپوزشن لیڈر خورشید شاہ نے تو اپنے تازہ بیان میں نواز شریف کی نااہلی کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ عمران خان بھی جائے گا۔ شاہ صاحب کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کی طرف، عمران خان نے بھی اپنی منی ٹریل اور عطیہ کی رقم ڈکلیئر نہیں کی۔ ویسے پی پی پی کا کوئی رہنما کرپشن کے خلاف بات کرے یا کسی کی منی ٹریل میں کمی کا حوالہ دے تو ہنسی آتی ہے لیکن شاہ صاحب شاید اس صورتحال میں ’’زرداری کی ایک اور باری‘‘ دیکھ رہے ہیں جو میری نظر میں ناممکن ہے۔ ویسے بھی مائنس تین فارمولے میں تو زرداری صاحب کا بھی نام آتا ہے۔ اگر کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ نواز شریف اور عمران خان دونوں کو فارغ کر کے اپنے من پسند مہروں کے ذریعے سیاست کو کنٹرول اور حکومت کو چلایا جائے تو ایسا ماضی میں کئی بار کوشش کے باوجود نہ ہو سکا۔ مجھے قوی امید ہے کہ سپریم کورٹ کسی ایسے کھیل کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ ویسے جن معاملات میں نواز شریف اور عمران خان نے ایک دوسرے کو الجھایا ہوا ہے اگر ایسے ہی ٹیکس اور پائی پائی کا حساب کسی بھی سیاست دان، جج، جرنیل، صحافی، سرکاری افسر کا مانگا جائے تو شائد ہی کوئی بچ سکے گا۔ دس بیس تیس حتیٰ کہ چالیس سال پرانا حساب کون دے سکتا ہے۔ اب اگر نواز شریف اور عمران خان کو ٹیکس کے معاملات میں نا اہلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو خوشیاں منانے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہوں گے جو خود کرپشن میں ڈوبے رہے۔ کئی لوگ اس خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ احتساب شروع ہو چکا اور اب یہ رکنے کا نام نہیں لے گا۔ اگر یہ سچ ہے تو دیکھتے ہیں کہ عدلیہ کب جنرل مشرف کے آئین سے غداری کے کیس کے ساتھ ساتھ اُن سے اربوں روپے کا حساب مانگتی ہے۔ مشرف کا کہنا ہے کہ انہیں سابق مرحوم سعودی بادشاہ نے بے حساب پیسہ دیا۔ زرا مشرف بھی تو اپنا منی ٹریل دیں، ٹیکس گوشوارے عوام کے سامنے رکھیں۔ چلیں دیکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کسی حاضر سروس نہیں تو کم از کم سابق جرنیل سے بھی پائی پائی کا حساب مانگ لے۔ ایک حاضر سروس جج صاحب کا بھی نام پاناما کی آف شور کمپنیوں میں سامنے آیا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ اُن سے بھی پائی پائی کا حساب لے لیا جائے بلکل اُسی طرح جیسے نواز شریف اور عمران خان سے لیا جا رہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *