آنٹی کرپشن کے پرستار

سہیل وڑائچ

sohail warraich

آنٹی کرپشن کے چاہنے والے دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں‘ عرب ہو یا چین‘ امریکہ ہو یا روس اور ہندوستان ہو یا پاکستان، ہر ملک میں آنٹی کرپشن کا فین کلب موجود ہے۔ چین میں آنٹی کرپشن سے محبت پر پابندی عائد ہے مگر آنٹی کے حسنِ بے بہا کی چاہت میں کئی دیوانے ان پابندیوں کو توڑتے رہتے ہیں‘ درجنوں وزیر اور سینکڑوں چینی اہلکار اس محبت کی سزا میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سختیوں‘ پابندیوں‘ پھانسیوں اور گرفتاریوں کے باوجود آنٹی کرپشن کا سحر اس قدرہے کہ آئے دن کسی نہ کسی کو اپنا پروانہ بنا لیتا ہے۔ پاکستان میں بھی گزشتہ 70 برس سے آنٹی کرپشن کا راج ہی چلتا رہا ہے اور آج بھی آنٹی کا ڈنکا اُسی طرح بج رہا ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آنٹی کرپشن پردہ دار خاتون گردانی جانی جاتی ہیں۔ آنٹی یورپ اور امریکہ میں تو گہرے میک اپ‘ شوخ کپڑوں‘ سرخ لپ اسٹک ،برانڈڈ جوتوں اور پرس کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں‘ مگر اسلامی جمہوریہ میں انہوں نے دیسی طور طریقے اپنا رکھے ہیں۔ نیب اینٹی کرپشن اور آج کل عدالتوں کے سامنے آنے پر آنٹی کرپشن گھنڈ نکال لیتی ہیں‘ یعنی اپنے چہرے کو چھپا کر پردہ کرتی ہیں‘ کیونکہ ان اداروں سے ان کا احترام اور خوف کا گہرا اور دوہرا رشتہ ہے۔
آنٹی کرپشن کے پاکستانی نیٹ ورک کی مثال خفیہ نیٹ ورک فری میسن سے ملتی جلتی ہے۔ آنٹی کرپشن کے پرستاروں پر یہ شرط عائد کی جاتی ہے کہ آپ اس تعلق کو خفیہ رکھیں گے۔ اسی لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پرستار آنٹی سے اپنی محبت‘ الفت اور تعلق کا نہ برسرعام اور نہ برسرخاص عدالتوں یعنی جے آئی ٹی یا دیگر تفتیشوں میں اقرار کرتے ہیں۔ حالانکہ پرستاروں کا لباس‘ آرائش‘ معیار زندگی اور اُن کی گاڑیاں پکار پکار کر آنٹی کرپشن سے ان کے خفیہ تعلقات کی کہانی سنا رہے ہوتے ہیں۔ پرستاروں کو یہ حلف ازبر ہے کہ آنٹی سے تعلقات کا اقرار قیامت خیز ہوتا ہے یا تو پرستار نااہل قرار پاتا ہے یا جیل جا قیام کرتا ہے۔
آنٹی کرپشن کا المیّہ یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسے اجتماعی طور پر حرام اور ناپسندیدہ قرار دیا جاتا ہے۔ ہجوم میں لوگ آنٹی سے آنکھ تک نہیں ملاتے‘ مگر تنہائی میں شریف سے شریف آدمی بھی اسے آنکھ مارنے کی کوشش کرتا ہے۔ عشق چلانے کیلئے ہاتھ پائوں بھی مارتا ہے۔ مگر چالاک آنٹی کرپشن کو سیدھے سادے لوگ بالکل پسند نہیں‘ اسے ہوشیار‘ دغاباز‘ فراڈیے اور چکری افراد بہت مرغوب ہیں۔ آنٹی کو جھوٹ اچھا لگتا ہے‘ جھوٹا رونا‘ جھوٹے آنسو‘ زمینوں کے جعلی کاغذات‘ غیر تصدیق شدہ جعلی مہریں ‘ جھوٹے اور گھڑے ہوئے ثبوت‘ آنٹی کرپشن اور اس کے پیروکاروں کے نمایاں کارنامے تصور ہوتے ہیں۔ آنٹی کے پرستار مقابلے بازی کے بھی شوقین ہیں اور ایک دوسرے سے بڑھ کر خرچ کرتے ہیں۔ پرس میں نئے سے نئے نوٹ رکھتے ہیں۔
آنٹی کرپشن کثیرالجہت شخصیت ہیں‘ ہر کسی کو ان کا الگ روپ پسند ہے‘ ہر کوئی آنٹی کی تعریف کا الگ نقطہ نظر رکھتا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے پانچ اندھے ہاتھی کو ٹٹول کر اندازہ لگائیں تو ہر ایک کا اندازہ الگ ہو گا۔ ایک اندھا جس نے ہاتھی کی ٹانگوں کو ٹٹولا وہ کہنے لگا کہ ہاتھی ستون کی مانند ہوتا ہے ‘ جس نے سونڈ پر ہاتھ پھیرا ہو گا وہ ہاتھی کو خالی ٹیوب قرار دے گا اور جس نے پیٹ کا جائزہ لیا ہو گا وہ اسے بھینس سے بڑا جُثّہ قرار دے گا۔ آنٹی کرپشن کے پرستاروں کی بھی ان کے بارے میں بڑی دلچسپ توجیہات ہیں ۔آنٹی کرپشن کے پرستاروں میں حسد بھی بہت ہے‘ اِسی لئے ایک دوسرے کو کہتا ہے میرا ضمیر صاف ہے‘ میں نے کسی کا حق تھوڑا کھایا ہے‘ یہاں سے اپنا ہی پیسہ باہر لے کر گیا ہوں۔ اس میں غلط کیا ہے‘ بے شک اسے منی لانڈرنگ کہا جائے مگر پیسہ میرا ہے۔ آنٹی اسے کہتی ہے کہ دیکھیں یہ زمانہ ہی ظالم ہے وگرنہ آپ کا قصور تو کوئی نہیں ہے۔ دوسرا کہتا ہے کہ میں نے باہر سے پیسے کمائے‘ اپنی مہارت کا امتحان لینے کیلئے جُوا کھیلا۔ اس میں غلط کیا ہے اور آنٹی اسے بھی کہتی ہے کہ تمہارا موقف صحیح ہے۔ اصل معاملہ خراب اس وقت ہوتا ہے جب یہ حاسد ایک دوسرے کے سامنے آ جاتے ہیں اور آنٹی کرپشن کی طرف اشارے کر کے ایک دوسرے پر آوازے کستے ہیں۔ آنٹی کی رائے یہ ہے کہ جب بھی یہ راز کھلتے ہیں سب کی بدنامی ہوتی ہے‘ اس لئے ان رازوں کو دبا ہی رہنے دیں۔
آنٹی کرپشن کی پیروی میں ان کے سارے حامی گروپ کو جائیدادیں خریدنے کا شوق ہے۔ سرمایہ کہاں سے آتا ہے؟ منی ٹریل کیا ہے؟ رسیدیں کہاں ہیں؟ اس بارے میں گروپ جواب دینے کو تیار نہیں۔ ہائیڈ پارک لندن کے سامنے جائیدادیں ہوں یا بنی گالہ کی پہاڑیوں پر فارم ہائوسز‘ چھانگلہ گلی میں قدرتی نظاروں کے خوبصورت مناظر کے بیچ فارم ہائوس ہو یا پھر راول جھیل کا نظارہ کرنے والا پہاڑی کاٹیج‘ یہ سب کچھ عزت‘ شان اور مال میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔
آنٹی کرپشن‘ بجلی چوری‘ گیس چوری اور بغیر بل دیئے ٹیلی فون استعمال کرنے کے حربوں میں ماہر ہیں۔ آنٹی کرپشن کے پسندیدہ ترین ٹھکانے ٹھیکے داروں کے گھر‘ محکمہ انہار‘ محکمہ بجلی‘ محکمہ آب پاشی‘پٹوارخانے اور پولیس تھانے ہیں۔ آنٹی کرپشن اور ان کے حواری مزیدار کھانوں پر جان دیتے ہیں۔ آنٹی ہر بڑے ہوٹل کے افتتاح کے موقع پر خود موجود ہوتی ہیں۔ آنٹی کو گرمیوں کے آغاز پر لان خریدنے کاجنون ہوتا ہے۔ انہیں نئی سے نئی برانڈڈ لان پسند ہے۔ آنٹی کے تمام مداحوں کی بیویاں بھی ان کا ساتھ دیتی ہیں۔ آنٹی کا گروپ بجلی چوری کے لئے لائن مینوں کو ''انعام‘‘ دیتا ہے۔ سارا سال ایئرکنڈیشنر چلتے ہیں اور بل صرف سینکڑوں میں...آنٹی زندہ باد۔
آنٹی کرپشن کو گاڑیوں کے نئے ماڈل پسند ہیں۔ پرانی گاڑیاں انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتیں‘ آج کل آنٹی کو سیلون کاریں نہیں بلکہ جیپ پسند ہے‘ کیونکہ بڑی بڑی جیپوں میں بیٹھ کر پروٹوکول خود بخود بڑھ جاتا ہے۔ آنٹی کا خیال ہے کہ اگر زندگی میں عیاشی نہ ہو‘ آرام نہ ہو تو وہ کیسا جینا ہے۔ وہ کھائو‘ پیو اور عیش کرو کے فلسفے پر عمل پیرا رہتی ہیں۔
آنٹی کرپشن اِن دنوں کافی پریشان ہیں۔ پاکستان کی مڈل کلاس ہر روز آنٹی کو برا بھلا کہتی ہے اور حکمرانوں کے آنٹی سے تعلقات کا رونا رہتی ہے۔ اخبارات‘ ٹی وی اور عدالتوں میں دن رات آنٹی کا نام بدنام کیا جاتا ہے‘ حالانکہ آنٹی کا اس بارے میں موقف بڑا واضح ہے ‘وہ کہتی ہیں کہ میں بتا نہیں سکتی مگر میرے مداح اور پرستار معاشرے کے ہر طبقے میں موجود ہیں‘ صرف سیاستدانوں اور صرف حکمرانوں کو نشانہ بنا کر میری ساکھ خراب کی جا رہی ہے۔ آنٹی کا کہنا ہے کہ دفاعی سودوں میں بھی اُن سے کافی کام لیا جاتا ہے اور کوئی سکینڈل سامنے آبھی جائے تو اس پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ ابھی پچھلے دن ایک عدالت خان کے ڈرائیور کے اکائونٹ سے کروڑوں روپے ملے‘ احتساب بس اتنا ہوا کہ انہیں رضاکارانہ طور پر استعفا دینے کی پیشکش ہوئی جو اُنہوں نے مان لی۔ ایسے میں آنٹی کا کوئی سیاستدان مدّاح ہوتا تو اسے اُلٹا لٹکا دیا جاتا۔ آنٹی کہتی ہے کہ اس کے جج اور جرنیل پرستار ہمیشہ فائدے میں رہتے ہیں...
آنٹی کرپشن بڑی دوراندیش ہیں‘ مستقبل کا اندازہ پہلے سے کر لیتی ہیں۔ آج کل وہ اندازے لگا رہی ہیں کہ وزیراعظم نوازشریف کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر مقدمے کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ آنٹی کا خیال ہے کہ وزیراعظم کے لئے دونوں آپشنز خطرناک ہیں (i) سپریم کورٹ انہیں نااہل قرار دے (ii) انہیں اہل رکھے مگر بطور وزیراعظم ان کے مقدمات احتساب عدالتوں میں چلیں۔ آنٹی کرپشن کا مشورہ یہ ہے کہ وزیراعظم عوامی عدالت میں مقدمہ لڑیں‘ قانونی عدالت میں ان کے دلائل متاثر کن نہیں تھے۔ آنٹی آج کل حکمرانوں کے خلاف لائن لے رہی ہیں اور سرعام کہتی ہیں کہ انہیں موجودہ کمزور حکومت سے اب کسی بڑے فیصلے کی توقع نہیں‘ نئی حکومت آئے گی تو مزے آئیں گے۔ نئے منصوبے‘ نئے ٹھیکے‘ نئے کمیشن اور نئے تقرر اور تبادلے...آنٹی کرپشن زندہ باد۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *