فوجی خالو

tariq ahmed

بھلے وقتوں میں ھمارے ایک خالو ھوا کرتے تھے۔ موصوف جسم کے جسقدر پتلے تھے۔ غصے کے اتنے ھی شدید تھے۔ سارے خاندان پر انہوں نے اپنی دہشت قائم کر رکھی تھی۔ خاص طور پر بچہ لوگ ان کے سائے سے ڈرتے تھے۔ کسی زمانے میں ھمارے یہ خالو انڈین رائل آرمی سے وابستہ تھے۔ اور دوسری جنگ عظیم میں برما کے محاذ پر تعینات تھے۔ راوی بیان کرتا ھے۔ اور عموما یہ راوی ھماری خالہ ھی ھوتیں ۔ کہ برما کے محاذ پر انہیں ھٹلر کی فوجوں کے ساتھ لڑنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ لیکن شومئی قسمت نہ ھٹلر اور نہ ھی جاپانیوں کو خبر ھوئ۔ کہ ایک راجپوت سورما کب سے برما کے محاذ پر کھڑا ان کو للکار رھا ھے۔ نتیجہ یہ نکلا ۔ ھمارے یہ خالو اپنا تمام وقت برما کے جنگلوں میں مچھروں،کن کھجوروں اور بچھوؤں کے ساتھ لڑتے بھڑتے گزار کر واپس آ گئے ۔اس بات کا غصہ انہیں ساری زندگی رھا۔ اور آنے والی کئی نسلوں پر برستا رھا۔ ادھر ھمارے خالو گھر میں داخل ھوتے۔ اور ادھر تمام بچے کونوں کھدروں میں روپوش ہو جاتے۔ کوئی الماری میں گھسا ھے۔ کوئی چارپائی کے نیچے اوندھا لیٹا ھے۔ کوئی کسی صندوق کی اوٹ میں پڑا ھے۔ کوئی چھجے پر چڑھا ھے۔ تو کوئی دروازے کے پیچھے چھپا ھے۔ ایک آدھ ٹائلٹ میں دم سادھے بیٹھا ھے۔ پورے گھر میں جیسے کرفیو کا نفاذ ھو۔ جونہی خالو گھر کی سنجی راہداریوں میں مارچ کرتے اپنے کمرے میں داخل ھوتے۔ بچہ قوم سکھ کا سانس لیتی۔ اپنے اپنے خفیہ مقامات سے تمام بچہ لوگ ایک ایک کرکے برآمد ھوتے۔ اور گھر سے باھر نکل جاتے۔ کچھ ایسا ھی خوف تھا ھمارے ان سابقہ فوجی خالو کا۔ اور مزے کی بات یہ ھے۔ اس خوف کے پھیلانے میں ھماری خالہ کا اپنا ھاتھ بہت زیادہ تھا۔ جو بڑے فخر سے اپنی اور خالو کی طویل ناراضگیوں کی داستانیں ھمیں سناتیں۔ اور ھم بچوں کے دل دھلے رھتے۔ اس میں ایک طویل ترین ایپک حکایت وہ تھی۔ جب ان کی تین سال بول چال بند رھی۔ اور اس دوران ھمارے دو کزنز کی ولادت با سعادت بھی ھوئ۔ کچھ بڑے ھونے پر جب ایک دن ھم نے پوچھا۔ یہ کیسے ممکن ھوا۔ تو خالہ شرما کر بولیں۔ اس کے لیے بول چال کی کوئی خاص ضرورت نہیں پڑتی ۔
ایک دفعہ ھم چھٹیاں گزارنے انہی خالہ کی طرف گئےھوئے تھے۔ برساتوں کے دن تھے۔ اور حبس بھری راتیں تھیں۔ حسب معمول صحن میں چارپائیاں ڈال کر ھم سو گئے۔ ھم نے اپنے توند نکلے کزن کا ڈھیلا ڈھالا الاسٹک والا پاجامہ اپنے پتلے سوکھے پیٹ پر پہن رکھا تھا۔ اور احتیاط" ایک گانٹھ بھی لگا لی تھی۔ رات کے کسی پہر چھما چھم بارش نے آن لیا۔ اب اصول یہ تھا۔ ھر شخص اپنی چارپائی اور بستر خود اٹھا کر برآمدے میں لاے گا۔ چناچہ ھم نے بستر گول کرکے ایک بغل میں دبایا ۔ اور دوسری بغل میں چارپائی دبا کر برآمدے کی جانب دوڑ لگا دی۔ اس تگ و دو میں نجانے کس وقت ھمارے پاجامے کی گانٹھ کھل گئ۔ قمیض اتار کر سونے کی ویسے ھی عادت تھی۔ معلوم تب ھوا جب پاجامہ سرک کر پیروں میں الجھ چکا تھا۔ اور ھم اس حالت میں کودتے پھاندتے برآمدے کی جانب جا رھے تھے۔ جہاں ھمارے تمام کزنز ھماری اس ھیت کزائ پر دل کھول کر قہقہے لگا رھے تھے۔ برسات جوبن پر تھی۔ ھر طرف پانی تھا۔ اور ھم اس پانی میں ایک مینڈک کی مانند پھدک رھے تھے۔ اور ستم ظریفی دیکھیے ھمارے خالو جن کے خوف سے ھم رک نہیں رھے تھے۔ جونہی ھم برآمدے میں پہنچے۔ برٹش رائل آرمی کے اس سابقہ سولجر نے ھماری ننگی پیٹھ کو تھپتھپایا اور ہلکا سا مسکرا کر پوچھا ۔ یہ تم نے سرکس میں کب سے کام شروع کردیا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *