وہ وقت جب بے نظیر بھٹو کو سیٹھ عابد نے اغوا کر لیا تھا !

images

کراچی کا صرافہ بازار کسی زمانے میں کامل گلی میں ہواکرتا تھا، اسی صرافہ بازار میں پاکستان کے نامور بزنس مین سیٹھ عابد کے والد کی دکان بھی ہواکرتی تھی ، اللہ نے انہیں چھ بیٹے عطا کئے جن میں آج کتنے زندہ ہیں اس کاعلم نہیں لین اتنا ضرور اندازہ ہے کہ ان چھ بیٹوں میں سے ایک ارب پتی تو ضرور ہے ۔ ایک اوربات جوان بھائیوں میں مشترک تھی وہ یہ ہے کہ سب کے سب حاجی تھی ان بھائیوں میں شیخ عابد کے پاس سب سےز یادہ دولت تھی ،شیخ عابد حسین اپنے سارے بھائیوں میں وہ سب سے زیادہ ہوشیار ، ذہین اوربات کی تہہ تک فوراً پہنچنے والے ہیں۔ ان کا دماغ ایک کمپیوٹر کی طرح کام کرتا ہے ،ان کی تصویر آج تک کسی نے نہیں دیکھی ، پبلک ریلیشنگ کا انہیں سرے سے کوئی شوق نہیں ۔

ذرائع کے مطابق کسی بورڈنگ ہائوس میں رہتے ہیں ۔ ان کے دونوں چھوٹے بیٹے گونگے ہیں۔ ان کا ایک بیٹا جو حافظ قرآن تھا لاہورمیں کچھ عرصہ قبل قتل کردیا گیا تھا ، بہت کم لوگ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ جب امریکی حکومت نے پاکستان پر ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ درآمد کرنے پر سخت پابندی عائد کررکھی تھی تویہ سیٹھ عابد ہی تھے جنہوں نے فرانس سے ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ بحری راستے سے پاکستان پہنچایا تھا ، ذوالفقار علی بھٹو اس زمانے میں پاکستان کے وزیراعظم تھے ۔ انہوں نے پانچ کروڑ روپے پیپلزپارٹی کےلئے بطور فنڈز سیٹھ عابد سے طلب کرلئے ، انہوں نے دینے سے صاف انکار رکردیا ، بھٹو صاحب کی ہدایت پر سیٹھ عابد کی گرفتار ی کےلئے ہرجگہ چھاپے مارے جانے لگے لیکن وہ موجود ہوتے ہوئے بھی کوئی ان کو ہاتھ نہ لگا سکا۔ اسی زمانے میں ایک بار کچھ فوجی ٹرک ان کے گھر کے سامنے کھڑے دیکھے گئے معلوم ہو کہ وہ سیٹھ عابد کی اکلوتی بیٹی نصرت شاہین کی گرفتاری کےلئے آئے ہیں۔ فوجی سیٹھ عابد کی صاحبزادی کو ٹرک میں بٹھا کرلے گئے ، جب سیٹھ عابد کے علم میں یہ بات آئی تو انہوں نے لندن میں زیرتعلیم بے نظیر بھٹو کو اغواء کروالیا۔ اب سیٹھ عابد کی بیٹی بھٹو کی قید میں اوربھٹو کی دختر سیٹھ عابد کی تحویل میں ، بہرکیف دونوں میں سمجھوتہ ہوگیا اورنصرت شاہین اوربے نظیر بھٹو اپنے اپنے گھر پہنچا دی ،یہ بات پاکستان کی عوام سے ڈھکی چھپی نہیں کہ یا ممکن ہے کہ آپ کو یہ جان کر تعجب اورحیرت ہوگی کہ بھٹو کے قصوری قتل میں سلطانی گواہ بننے والا شخص مسعود محمود ’’بھٹو صاحب کی بنائی ہوئی فیڈرل سکیورٹی فورس کا سربراہ اور سیٹھ عابد کا حقیقی برادر نسبتی (سالہ) تھا بھٹو مقدمے میں گواہی دینے کے بعد وہ امریکہ چلا گیا تھا وہیں اس نے اپنی زندگی کے آخری سانس لئے تھے ، ادھر سیٹھ عابد کے دونوں بیٹے بھی جو امریکہ میں مقیم ہیں کراچی میں ایک ادار دیوا اکیڈیمی جو کہ ڈس ایبل بچوں کو امداد فراہم کرتا ہے اس ادارے کی منعقدہ تقریب میں صدر جنرل ضیائ الحق سیٹھ عابدکے ہمراہ شریک تھے ، کہ منتظمین کی طرف سے کوکا کولا سے مہمانوں کی تواضع کی گئی کوک پینے کے دوران اس کے چند قطرے سیٹھ عابد کے بش کوٹ پر گر گئے جو کہ سیٹھ عابد کا پسندیدہ لباس تھا ۔ صدر مملکت جنرل ضیائ الحق نے جھٹ اپنی جیب سے رومال نکال کر ان دھبوں کو صاف کرنا شروع کردیا، خیر سیٹھ عابد اورقاسم بھٹی خلیج کے کسی ملک سے سونا سمگل کرکے پاکستان لا رہے تھے کہ جنرل ایوب خان نے مارشل لاء نافذ کردیا تھا ، دونوں نے ملکر بحیرہ عرب میں اس سمگل شدہ سونے کوچھپا رکھا تھا، قاسم بھٹی کی وفات کے برسوں بعد سیٹھ عابد نے سپریم کورٹ سے اس سمگل شدہ سونے کا مقدمہ جیت لیا اوریہ سارا سونااس کے قبضے میں آگیا ، یاد رہے کہ اسی قاسم بھٹی نے کراچی کے ایک معروف ہوٹل فریڈرکس کیفے ٹیریا میں صدر سکندر مرزا کی اہلیہ ناہید سکندر مرزا کو سونے کا ہار بھی پہنایاتھا ۔ سونے کے بعد سیٹھ عابد نے غیر ملکی کرنسی کی سمگلنگ کا کام شروع کردیا تھا ، آج کل وہ پراپرٹی کے کام سے وابستہ ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *