سیاسی دھماکے سے پہلے جان لیوا دھماکا !

naeem-baloch1

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لاہور فیروز پور روڈ پر واقع مشہور آئی ٹی سنٹر ارفع کریم ٹاور کے قریب ہونے والے دھماکے ہلاکتوں کی تعداد ہر آن بڑھ رہی ہے ۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ابھی تک پانچ افراد کی شہادت کی تصدیق ہوئی ہے لیکن میڈیا اور وہاں موجود لوگوں اور ہسپتال ذرائع کے مطابق بائیس افراد جاں بحق ہو چکے ہیں ۔اورزخمیوں کی تعدادا میں اضافہ ہو رہا ہے جو کہ پنیتیس ہے اور اس میں متعدد افراد کی حالت نازک ہے۔ ۔
مجھے اس دھماکے کی اطلاع میری بیٹی رجا نے دی جو اس وقت ٹاور میں موجود تھی۔ وہ وہاں ٹاور کی پہلی منزل پر اپنے آفس میں کام کر رہی تھی تھی۔ رجا نے مجھے فون کیا اور جلد از جلد ٹاور پر پہنچنے کے لیے کہا کیونکہ عمارت کو متاثر ہونے کی بنا پر خالی کرایا جارہاتھا۔ میں ماڈل ٹاؤن کے بلاک میں موجود تھا اور فوری طور پر ٹاور کی طرف دوڑا ۔ خوش قسمتی سے میں جلد ہی وہاں پہنچ گیا ۔ رجا اتفاق اسپتال کی پارکنگ پر پہنچ چکی تھی۔ اس نے بتایا کہ شدید دھماکے کے بعد پوری عمارت لرزاٹھی ۔ عمارت کا سامنے کا شیشہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے ، اور سیسے کی گولیاں جو عام طور پر خود کش بم بار اپنے دھماکوں میں استعمال کرتے ہیں ، عمارت کے اندر آچکی تھیں اور اسی نے شیشے کی کھڑکیاں توڑ ڈالیں ۔ اس نے بتایا کہ اس کا اندیشہ ہے عمارت کا پورا شیشہ ٹوٹ جائے گا ۔

Image may contain: outdoor

تازہ ترین غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ایک موٹر سائیکل سوار پولیس چوکی میں کھڑے پولیس اہلکار وں میں گھس گیا اور اپنے آپ کو اڑا لیا۔ یہ پولیس چوکی وہاں کی سبزی منڈی میں تجاوزات ہٹانے کے لیے عارضی طور پر بنائی گئی تھی ۔اسی لیے اس حادثے میں آٹھ سے زیادہ پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں ۔ اس دھماکے کے حوالے سے سب سے تشویش ناک حقائق یہ ہیں :
*تین دن پہلے شہر میں دہشت گردی کی واردات کے لیے سیکورٹی اداروں کی طرف سے الرٹ جاری کیا گیا تھا۔اس کے باوجود دھماکا ہونا انتہائی تشویش ناک بات ہے ۔
*ارفع کریم ٹاور کی عمارت اتنی مضبوط نہیں کہ وہ اس طرح کے دھماکے کو برداشت کر سکے ۔ پاکستان جیسے ملک میں اس طرح کے غیر معمولی حالات میں اہم عمارتوں کو بہت زیادہ مضبوط ہو نا چاہیے ۔
* اگرچند ماہ قبل مال روڈ پنجاب اسمبلی کے باہر ہونے والے دھماکے کے واقعے کو سامنے رکھا جائے تو دہشت گردوں کی تکنیک ایک سی ہے ۔ وہ پولیس کے غیر محفوظ اجتماع کو نشانہ بناتے ہیں ۔ اور یہ بات بھی منصوبے میں شامل کرتے ہیں کوئی اہم عمارت قریب ہو تاکہ زیادہ سے زیادہ دہشت اور خوف و ہراس پھیل سکے۔
* سوال یہ ہے کہ عمارتوں کے داخلے کو تو ایک حد تک محفوظ کر لیا گیا ہے لیکن سڑک پر اجتماعات، جہاں رش ہوتا ہے، اسے ان دہشت گردوں سے کیسے محفوظ کیا جائے ،اس چیلنج سے نپٹنا بھی اب نا گزیر ہو گیا ہے ۔
* دہشت گردوں پر قابو پا لیا گیا ہے ، یہ محض ایک واہمہ ہے ۔ وہ لاہور جیسے شہر میں آزادانہ گھوم رہے ہیں اور جب چاہے اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بنا کر اپنے مقاصد حاصل کر سکتے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *