خواجہ آصف وزیراعظم کے طور فوج کو قبول نہیں، پرویز مشرف

Image result for ‫پرویز مشرف‬‎

دبئی -آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ و سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی پیشکش کی تھی، خواجہ آصف کو وزیراعظم بنانا پاکستان کے ساتھ مذاق ہے وہ فوج میں بہت غیر مقبول ہیں، چوہدری نثار واحد وزیر ہیں جن کی کارکردگی بہت اچھی ہے،پانامہ کیس میں انصاف کا بول بالا ہو گا،شریف خاندان اگر سچ بولتا تو بچ جاتا، میرے دور میں نواز شریف معاہدے کر کے چلے گئے تھے، ان کا احتساب نہیں ہو سکا تھا،میرے دور حکومت میں یہ وزراء خود بھاگ کر آتے تھے بیان دینے کیلئے ان پر کوئی دباؤ نہیں ہوتا تھا، سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری ایک فراڈ تھا، میں نے بھی اگر کوئی غلط کام کیا ہے تو میرا بھی ٹرائل ہونا چاہیے،میں نے اپنے دور حکومت میں جو کچھ عوام کیلئے کیااگر دوبارہ موقع ملا تووہی کروں گا،عمران خان غریب آدمی ہے۔ پیر کو نجی ٹی وی کوانٹرویو دیتے ہوئے سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف نے کہا کہ وزیراعظم حکومت چلاتا ہے اور اسے بالکل جوابدہ ہونا چاہیے، آرمی میں اندرونی طور پر احتساب ہوتا ہے اور بہت سخت ہوتا ہے، آرمی میں تو جنرل کو ایک دن میں گھر بھیج دیتے ہیں اور ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپنے دور حکومت میں، میں نے کسی کو یہ نہیں کہا تھا کہ مجھے یہ بتاؤ کہ نواز شریف بے نظیر اور آصف زرداری کے خلاف کتنے کیسز ہیں، اس دور میں نیب کورٹس تھیں وہاں ٹرائل ہوتے تھے، آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو تو 7سے 8کیسز میں بری ہو گئے تھے، ملکی ادارے وزیراعظم اور وزراء چلا رہے ہیں، ان کو بالکل جوابدہ ہونا چاہیے اور ان کے ٹرائل بھی ہونے چاہئیں کیونکہ وہ ملک کو ناکام کر رہے ہیں، میرے خلاف کرپشن کا کوئی چارجز نکالیں، نواز شریف کے پاس کوئی عوامی مینڈیٹ نہیں ہے، پانامہ کیس میں انصاف کا بول بالا ہو گا، میں جب 2009میں ملک سے باہر آیا تو میرے پاس نہ کوئی پراپرٹی تھی اور نہ کوئی بینک اکاؤنٹ تھا، آپ مجھے نواز شریف سے کیسے ملا سکتے ہیں،نواز شریف پر ملکی ترقی کو روکنا، چوری کرنا، عوام کو بدحالی دینے کے الزامات ہیں، میں نے جو کچھ کیا وہ عوام کیلئے کیا، مجھے اگر دوبارہ موقع ملا تو میں وہی کروں گا جو میں نے پہلے کیا۔آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ پرویز مشرف نے کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ایک فراڈ تھا،ہم نے 1947سے اس مخمصے میں پھنسے ہوئے ہیں کہ یا ملک بچا لو یا آئین بچا لو، میرے دور میں نواز شریف معاہدہ کر کے چلے گئے ان کا احتساب نہیں ہو سکا تھا،عوام چاہتی ہے کہ نواز شریف جائیں، میرے بچوں نے میرے عہدے کا کبھی ناجائز استعمال نہیں کیا، وہ اکانومی کلاس میں سفر کرتے تھے، لوگ میرے بچوں کی بہت عزت کرتے تھے۔ سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ میرے دور حکومت میں یہ وزراء خود بھاگ کر آتے تھے بیان دینے کیلئے کہ ان پر کوئی دباؤ نہیں ہوتا تھا، شریف خاندان کے خلاف جتنے بھی مقدمات ہیں وہ زیر التواء ہیں، مجھے معلوم ہے کہ دبئی میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کی کتنی جائیداد ہے،اسحاق ڈار کا دبئی میں میری طرح کا فلیٹ نہیں 40منزلہ بلڈنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں جے آئی ٹی کے کسی ممبر سے نہیں ملا، شریف خاندان نے چوری کی اور اب بہانے بنا رہے ہیں، 1988میں انہوں نے جائیدادیں بنائیں، بے نظیر بھٹو نے شریف فیملی کے خلاف کافی مواد نکالا تھا، میں نے بھی اگر کوئی غلط کام کیا ہے تو میرا بھی ٹرائل ہونا چاہیے، شریف خاندان اگر سچ بولتا تو بچ جاتا۔ سابق صدرجنرل(ر) پرویز مشرف نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی وجہ سے آرمی چیف بنا،وہ واحد وزیر ہیں جن کی کارکردگی بہت اچھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان غریب آدمی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کو وزیر اعظم بنانا پاکستان کے ساتھ مذاق ہے، خواجہ آصف فوج میں بہت غیر مقبول ہیں، میں نے شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی پیشکش کی تھی، افتخار چوہدری بہت کرپٹ انسان تھا۔ پرویز مشرف نے کہا کہ جب میں صدر تھا تو پاکستان میں بہت مقبول تھا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *