یہاں ’’دیو‘‘ رہتا تھا!

sohail warraich

سہیل وڑائچ

نوٹ : یہ 2027ء میں لکھی گئی تحریر ہے‘ اسے وقت سے دس سال پہلے شائع کیا جا رہا ہے۔
ریاست میں پھیلی پراسراریت کی دبیز تہوں کو کھولنے والے بے مثال شاعر منیرؔ نیازی نے سچ کہا تھا ؎
منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
کہانی یوں شروع کرتے ہیں کہ ایک ریاست میں ''دیو‘‘ رہتا تھا ‘جو وہاںکے باشندوں کو نظر نہیں آتا تھا مگر اس کی کارروائیاں نظر آتی رہتی تھیں‘ یہ ''دیو‘‘ ہر حرکت پر نظر رکھتا تھا‘ ہر ایک کی گفتگو سنتا تھا۔ مگر کوئی دوسرا نہ اس کی گفتگو سن سکتا تھا نہ اس کی کارروائیوں کا علم رکھتا تھا‘ یہ وزیراعظم ہائوس ہو یا بنّی گالہ ہائوس ہر ایک کی اندرونی خبروں پر نظر رکھتا تھا اور جب چاہتا تھا ان خبروں کو پراسرار ذرائع سے عام بھی کر دیتا تھا۔
اس ''دیو‘‘ سے ریاست میں ہر کوئی ڈرتا تھا‘ کسی کو اپنے خفیہ سکینڈل بے نقاب ہونے کا ڈر تھا‘ تو کسی کو اپنی خفیہ محبوبہ سے تعلقات عام ہونے کا خدشہ تھا‘ سیاستدانوں کو اپنی کرپشن کی کہانیاں سامنے آنے سے خوف آتا تھا تو صحافیوں کو اپنی خبروں کے ذرائع بند ہونے اور اپنے خلاف تشہیری مہم چلنے کا اندیشہ ہوتا تھا۔ بابو خان بزدل تھا‘ اس لئے وہ بھی اس ''دیو‘‘ کے سامنے جھکا رہتا تھا اور اسی کے فرمان پر عمل کرتا تھا اگر نہ کرے تو پھر اس کی خیر نہیں ہوتی تھی۔
ہمارا ''دیو‘‘ دنیا کی دوسری کہانیوں کی طرح آدم بو‘ آدم بو نہیں کرتا‘ بلکہ وزیراعظم بو‘ وزیراعظم بو کرتا تھا‘ یہ منتخب حکومتیں بناتا‘ اکھاڑتا اور وزیراعظموں کو کھاتا تھا۔ اس عمل میں ''دیو‘‘ نہ تو نظر آتا تھا اور نہ ہی اس کا کوئی کردار نظر آتا تھا۔ سارا کام انتہائی خوش اسلوبی سے ''دیو‘‘ کے سیاسی اور ادارہ جاتی رفیق کرتے تھے اور یہ کام اس صفائی سے ہوتا تھا کہ ''دیو‘‘ کا کہیں نام تک نہیں آتا تھا۔
ہمارے پیارے ''دیو‘‘ کے پنجے سے فیصلے‘ مقدمے اور انکوائریاں دور نہیں تھیں۔ جے آئی ٹی ہو تو اس کی حفاظت بھی پراسرار سائے کرتے تھے۔ یہی آسمانی مخلوق 60 دنوں میں 70 سال کا کیا ہوا کام سامنے لے آتی تھی۔ یہی فرشتے 6 رکنی جے آئی ٹی کے پس پشت چھ سو ماہرین کو اکٹھے کر دیتے تھے۔ یہی پراسرار خلائی مخلوق اتنی ماہر تھی کہ محترمہ جے آئی ٹی کی ٹیم کے ہر رکن کو ایسا بہادربنا سکتی تھی کہ عدالت خان میں پہلی رپورٹ جمع ہونے سے پہلے ہی یہ امر یقینی ہو گیا تھا کہ وزیراعظم کی پارٹی کو ''اوور‘‘ کرنا تھا۔ محترمہ جے آئی ٹی کے بہادر اراکین کو حکومتی خوف سے آزاد کرنا ہمارے پیارے ''دیو‘‘ کا وہ کارنامہ تھا جسے وہ ریاست ہمیشہ ہمیشہ یاد رکھے گی۔
صدیوں پرانی مگر آج بھی نئی‘ اس کہانی کا آغاز ٹویٹ واپس لینے سے ہوا تھا۔ ٹویٹ تو واپس ہو گیا تھا مگر جس طرح ماضی میں فٹ بال کے کھلاڑی بال کو ہٹ کرنے سے پہلے دو فٹ پیچھے ہٹتے تھے ٹویٹ کی پسپائی بھی اسی طرح کی تھی‘ بس فرق اتنا تھا کہ ''اس گیند کو اتنی زور سے ہٹ لگائی گئی کہ ''بال‘‘ وزیراعظم کی گول پوسٹ سے پار ہو گیا‘‘۔ ''دیو‘‘ اتنا طاقتور تھا کہ جب محترمہ جے آئی ٹی کی ٹیم بن رہی تھی تو حکومتی خفیہ سائے آئی بی کو اس کی تشکیل سے مکمل بے خبر رکھا گیا تھا۔ محترمہ جے آئی ٹی کیا بنی ''دیو‘‘ کے جادو سے ایف آئی اے والوں کی ''جون‘‘ ہی بدل گئی تھی۔ وزیر داخلہ نے کہیں ''دیو‘‘ سے بالا‘ بالا‘ واجد ضیاء کو فون کیا تھا مگر واجد ضیاء نے ''دیو‘‘ کے سائے کے زیرِ اثر صاف کہہ دیا تھا کہ وہ صرف اور صرف انصاف سے کام لے گا۔ وزیر داخلہ اتنے بے بس ہو گئے کہ ایس ای سی پی کے معاملے میں ظفر حجازی کی کوئی مدد نہ کر سکے تھے۔ ہمارے ''دیو‘‘ کے راز کھولنے کا نتیجہ بہت برا ہوتا تھا۔ حجازی کو سزا تو ملنی چاہیے تھی کیونکہ یہ وہی تھا جس نے واٹس ایپ والی سٹوری کو آئوٹ کرنے کی جرأت کی تھی۔ ''دیو‘‘ تو وزیراعظموں کو کھا جاتا تھا۔ حجازی جیسے افسروں کی اس کے سامنے کیا اہمیت ہو گی۔
ہمارا محبوب ''دیو‘‘ انتہائی اعلیٰ حسِ لطیف رکھتا تھا۔ اسی لئے جمہوریت نامی نازک پری کو دس دس سال تک اٹھا کر لے جاتا تھا اور جب پری کے زمینی عاشق بہت شور مچاتے تھے تو اسے تھوڑی دیر کے لئے رہا کر دیتا تھا۔ مگر اس کی ڈوریں خود ہلاتا تھا تاکہ پری کبھی بھی اپنی مرضی نہ کر سکے بلکہ ہمیشہ ''دیو‘‘ ہی کی دستِ نگر رہے۔
''دیو‘‘ کے اپنے ہی اصول تھے‘ جارج آرویل کے ناول Animal Farm کی طرح اس کے اپنے قبیلے کے لئے یہ اصول رائج تھا "Some are more equal than others" (اگرچہ سب جانور برابر ہیں لیکن کچھ جانور دوسروں کی نسبت زیادہ برابرہوتے ہیں) جبکہ باقی قبیلوں کا بلاامتیاز‘ کڑا احتساب ہوتا تھا ''دیو‘‘ کا قبیلہ سب پر تنقید کر سکتا تھا مگر کسی کو اس پر اور اس کے کاموں پر مہر تصدیق ثبت کرنے والے ادارے پر تنقید کی اجازت نہ تھی۔ ''دیو‘‘ کے دیس میں باقی محروم قبائل نے ان اصولوں پر سر جھکا دیا تھا اور کوشش کرتے تھے کہ ''دیو‘‘ ہر طرح سے خوش رہے‘ چاہے باقی طبقات کو اس سے کتنا ہی نقصان ہوتا رہے‘ مقصد صرف ایک تھا کہ ''دیو‘‘ ناراض نہ ہو...اور اگر کہیں ''دیو‘‘ ناراض ہو گیا تو پھر کسی کی بھی خیر نہیں۔
''دیو‘‘ صاحب! اس ریاست کے مائی باپ تھے‘ ریاست کے مجبور اور مقہور شہری اکثر ان سے درخواست کرتے تھے کہ نظام کو چلنے دیں۔ سیاستدانوں کو گملوں اور نرسریوں کے ذریعے نہ اگائیں‘ بلکہ انہیں قدرتی طور پر پھلنے پھولنے دیں‘ مگر ''دیو‘‘ صاحب کا فیصلہ حتمی ہوتا تھا‘ یہی نوازشریف کو میڈ اِن پاکستان بنا کر سکیورٹی رسک‘ بینظیر بھٹو کے خلاف میدان میں لائے تھے۔ سکیورٹی رسک بے نظیر بھٹو ملک کے دشمن دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہوئی تو ''دیو‘‘ صاحب کو میڈ ان پاکستان نوازشریف بھی غدّار لگنے لگا تھا۔ اسی لئے اقتدار سے باہر کیا گیا تھا۔
یہ کہانی جاری رہی 70 سال ''دیو‘‘ اِسی طرح اس ریاست پر حکومت کرتا رہا۔ اِسی طرح آدم بو‘ آدم بو کی جگہ وزیراعظم بو‘ وزیراعظم بو کرتا رہا۔ بس ایک مسئلہ ہو گیا کہ آئین کی رو سے ''دیو راج‘‘ کو جائز ہونے کا جواز نہ ملتا تھا۔ آئین کو کئی بار منسوخ کرنے کی کوششیں ہوئیں اسے معطل بھی کیا گیا‘ مگر یہ دستاویز ''دیو‘‘ کے سارے سایوں کو پریشان کرتی رہی۔ آخر میں ایک وقت ایسا آیا کہ ''دیو‘‘ کے ہاتھ خون آلود ہو گئے اور شیکسپیئر کے کردار لیڈی میکبتھ کی طرح بار بار ہاتھ دھونے کے باوجود خونی دھبے اُترنے کا وھم دور نہ ہوتا تھا‘ اور ''دیو‘‘ لیڈی میکبتھ کی طرح بار بار کہتا تھا ''ابھی بھی خون کی بُو باقی ہے‘‘۔ عرب کے تمام عطریات اور خوشبوئیں بھی میرے ہاتھوں کو صاف نہیں کر سکتیں۔ اوہ...اوہ...
اب عرصہ ہوا ''دیو‘‘ اس دیس سے جانے کی تیاری میں ہے کیونکہ یہ انسانوں کا دیس ہے۔ ''دیو‘‘ مداخلت کرتے رہے تو دیس نہیں چلے گا۔ وزیراعظموں اور ملک کے نظام کا خون ہوتا رہا تو المیّہ مشرقی پاکستان پر فیض احمد فیضؔ کے تبصرے کو یاد کرتے رہیں گے ؎
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبّے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
''دیو‘‘ کو بھی احساس ہو گیاایسے نہیں چل سکتا‘ کیونکہ اگر دوبارہ ''جمہوری پری‘‘ اغواء ہوئی یا وزیراعظم کا خون ہوا تو ''دیو‘‘ کی غیر مرئی پوزیشن ختم ہو جائے گی اور کوئی نہ کوئی یہ سارا معاملہ لوگوں کے سامنے لے آئے گا۔ ''دیو‘‘ کی جان اس طوطے میں ہے جسے خفیہ رکھا جاتا تھا جس دن یہ خفیہ طوطا سامنے آیا ''دیو‘‘ کی جان بھی نکل جائے گی۔
کہانی کا انجام : ''دیو‘‘ کو بالآخر شعور آ گیا اور باقی دنیا کی طرح وہ اپنا کام کرنے لگا اور یوں سب ہنسی خوشی رہنے لگے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *