حضورؐ کی دعا

Screenshot_70

بنی نجیب کے جن لوگوں نے اسلام قبول کرلیا تھا وہ آقائے دوجہاںﷺ کی زیارت کے لئے بے چین تھے۔آخر کار ۹ ہجری میں 13لوگوں کا ایک وفدحضورکریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ اس وقت وہ ساتھ اپنے قبیلے کی زکوٰۃ لے کر آئے تھے۔سرکار دوعالم ﷺ نے فرمایا ’’ اسے واپس لے جاؤ اور اپنے قبیلے کے فقراء میں بانٹ دو۔‘‘
وفد نے عرض کیا ’’یا رسول اللہ حاجت مندوں کو دے کر جو کچھ بچ رہا ہے ہم وہی لائے ہیں۔‘‘
سرکار دوعالم ﷺ یہ سن کر بہت خوش ہوئے ۔ ان لوگوں نے دین کے بارے میں حضورﷺ سے چند سوالات پوچھے۔ آپ ﷺنے ان کے جوابات لکھوا دیئے۔ یہ لوگ کچھ دن سرکار دوعالم ﷺ کے مہمان رہے تاہم انہیں واپسی کی بھی بڑی بے قراری تھی۔
صحابہ کرامؓ نے پوچھا ’’تم یہاں سے جلد جانے کے لئے کیوں بے تاب ہو۔‘‘
انہوں نے کہا ’’ہم چاہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے ہمیں جو فیوض و برکات حاصل ہوئے ہیں ان کی خبر اپنے اہل قبیلہ کو جلد از جلد پہنچائیں۔‘‘
جب وہ رخصت ہونے لگے تو سرکار دوعالم ﷺ نے ہر ایک کو فرداً فرداً انعام عطا فرمایا اور پھر پوچھا ’’ تم میں سے کوئی رہ تو نہیں گیا ‘‘
انہوں نے عرض کیا ’’ایک نوجوان کو ہم اسباب کی نگرانی پر مقرر کر آئے تھے وہ باقی ہے۔‘‘
سرکار دوعالم ﷺ نے اس کو بھی بلایااور تحفہ عطا کرنا چاہا تو اس نے عرض کیا’’اے اللہ کے حبیبﷺ میرے لیے تو فقط دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کو غنی بنا دے اور مجھے بخش دے۔‘‘
سرکار دوعالم ﷺ نے اسکی خواہشن سنی اور تبسم فرمایاپھر اسکی منشا کے مطابق دعا فرمائی۔
رویات میں آتا ہے کہ حجۃ الوداع کا موقع تھا ۔ اس قبیلے کے سولہ آدمی سرکار دوعالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپﷺ نے ان سے پوچھا کہ اس نوجوان کے بارے میں دریافت فرمایا کہ اسکا کیا حال ہے۔
وفد والوں نے عرض کیا’’یا رسول اللہ اس کے استغناء کا یہ حال ہے کہ سارے جہان کی دولت اس کے قدموں پر ڈھیر کر دی جائے تو وہ آنکھ اْٹھا کر نہیں دیکھتا۔‘‘ سرکار دوعالم ﷺ نے فرمایا ’’میں اللہ سے آرزو کرتا ہوں کہ ہم سب کا خاتمہ اسی حالت پر ہو۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *