عمران خان اور کرپشن کا حلوہ

usman ghazi
شریف خاندان کی طرح عمران خان بھی اتنا بڑا فراڈ نکلے گا، ہم نے تو تصور بھی نہیں کیا تھا-ابھی قطری خط کے حملے سے ہم سنبھل نہیں پائے تھے کہ راشدی خط کی یلغار سے ڈھیر ہوئے اور آخری خط جس نے ہمارے ارمانوں کو ٹھنڈا کیا، وہ آسٹریلوی خط ہے-عابد راہی پرانے گھاگ صحافی ہیں، انہوں نے عمران خان کے آسٹریلوی خط کا سراغ لگالیا، یہ خط سواں اسپورٹس کی جانب سے لکھا گیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے عمران خان کی تین سال کے لیے 75 ہزار ڈالر کے عوض 1977 میں خدمات حاصل کی ہیں-جبکہ آسٹریلوی بزنس نمبرز کے مطابق سواں اسپورٹس سیریز کے سات سال بعد یعنی 1984 میں رجسٹرڈ ہوئی، سواں اسپورٹس کے لیٹر ہیڈ پر پرتھ کا پتہ درج ہے جبکہ آسٹریلوی بزنس نمبر کے مطابق یہ فرم کوئنز لینڈ میں قائم ہے-خط میں پی او باکس نمبر 8206 ویسٹرن آسٹریلیا 6008 لکھا ہوا ہے جبکہ یہ پتہ پانی کی تحقیق پر کام کرنے والی فرم گپس لینڈ کا ہے-یہ صرف ایک خط کا حال ہے، ایکسل شیٹ پر عمران خان کی منی ٹریل اور کیری پیکر سیریز کی جانب سے ای میل میں ایسے فراڈ سامنے آئے ہیں کہ الامان الحفیظ-بنی گالا محل کے باسیوں کی رنگینیوں اور کرپشن کی کہانیاں سامنے لانا اتنا ہی مشکل ہے کہ جتنا کبھی نوے کی دہائی میں نوازشریف کی کرپشن کی وہ کہانیاں سامنے لانا مشکل تھا جو آج ہر ایک کی زبان پر ہیں-

بنی گالا کا محل عمران خان کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے-کبھی کہتے ہیں لندن فلیٹ بیچ کر محل بنایا، کبھی کہتے ہیں کہ بیوی نے تحفے میں دیااب تو صاف صاف کہہ دیا کہ ان کے پاس کوئی منی ٹریل نہیں ہے-اور یہ تو ایک معاملہ ہے، عمران خان اور ان کی بہنوں کی آف شور کمپنیاں، بھارت اور اسرائیل سمیت مختلف ممالک سے پی ٹی آئی کو فنڈنگ اور اس میں گھپلے، شوکت خانم کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں عمران خان کی فیملی براجمان ہے، وہ کیا گل کھلارہی ہے، اگر سامنے آگئے تو وہ داستانیں رقم ہوں گی کہ سپریم کورٹ کے درودیوار کپکپاجائیں گے-عمران خان سالوں سے کبھی اسٹے آرڈر تو کہیں عدم حاضری سے منہ چھپاتے پھررہے ہیں، خیبرپختونخوا میں کرپشن کی جو کہانیاں رقم ہوئی ہیں، ملکی تاریخ میں ان کی کوئی دوسری مثال نہیں

نوازشریف کا پھنسنا ایک مشکل کام تھا اور یہ ہوچکا مگر عمران خان کی کرپشن تو پلیٹ میں رکھا وہ حلوہ ہے کہ جس پر آسانی سے ہاتھ صاف کیا جاسکتا ہےمصنوعی طریقوں سے پروان چڑھائی گئی لیڈرشپ میں ایک یہ بہت بڑا مسئلہ ہوتا ہے کہ ان کی کوئی ساکھ اور کریڈیبلٹی نہیں ہوتی، یہ پیراشوٹر مختلف مقاصد کے تحت لائے جاتے ہیں اور ایک خاص وقت تک استعمال ہونے کے بعد بیچارے بے نقاب ہوجاتےہیں-نوازشریف جنرل ضیا کے دور میں اگایا جانے والا ایسا ہی ایک پودا تھا، جس کی آج جڑیں کاٹ دی گئی ہیں اور اب دوسری پراڈکٹ عمران خان کی باری ہے، یہی دردناک انجام الطاف حسین کا ہوادلچسپی کی بات یہ ہے کہ آج سپریم کورٹ میں تحریک انصاف نے صاف انکار کردیا کہ ان کے پاس کوئی منی ٹریل نہیں ہے کیونکہ کاؤنٹی کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں ہےجبکہ فواد چوہدری نے نیوزکانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے منی ٹریل فراہم کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کے تمام خدشات دور کردیئے-نہیں صاحب ۔۔ یہ عمرکوٹ میں تحریک انصاف کے وڈیرے کی جانب سے کیا جانے والا کوئی تشدد کا معاملہ نہیں ہے کہ جس میں سوشل میڈیا پی ٹی آئی کا ذکر گول کرکے صرف وڈیرے کا تذکرہ کرے اور بات دب جائے-یہاں عمران خان بھی نہیں بچ سکتے اور یہ دونوں جب تباہ ہوجائیں گے تو پھر ان کی شاید سمجھ آجائے کہ یہ لڑائی کسی اور کی تھی-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *