بکری کے دودھ کے ایسے فوائد کہ آپ دنگ رہ جائیں گے!

لاہور -جب سے مارکیٹ میں دودھ کے نام پر زہر بکنا شروع ہوا ہے اور ناقص دودھ نے لوگوں کو پریشان کررکھا ہے تب سے وہ متبادل کے طور پر ایک ایسے دودھ کی تلاش میں ہےں جو غذائی اعتبار سے زیادہ مفید بھی ہو اور انہیں گوالوں اور ملک کمپنیوں پر انحصار نہ کرنا پڑے تو انکی نظر بکریوں پر جانے لگی ہے۔ ویسے بھی جدید تحیقیق نے بھی بکری کے دودھ کو سب سے بہتر دودھ قرار دے رکھا ہے ۔بکری کا دودھ پینا سنت بھی اور صحت کے انتہائی مفیدبھی ۔شہروں میں تو بکری کا دودھ ملنا محال ہوچکا ہے اور نوجوان نسل شاید ہی یہ بات جانتی ہوگی کہ بکری کا دودھ پیا بھی جاسکتا ہے لیکن اگر وہ بکری کا دودھ پینا شروع کردیں تو ان کی صحت قابل رشک ہوجائے۔

بکری کے دودھ کی غذائی اہمیت کا اندازہ اسکی فضیلت سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ کے پیارے انبیا کرام بکریاں چرایا کرتے اور ان کے دودھ پر گزر بسر کرتے تھے۔ اطبا کرام زمانہ قدیم سے بکری کے دودھ کو دوسرے دودھ پر اہمیت دیتے آئے ہیں، حیران کن بات یہ ہے کہ گائے اور بھینس کے دودھ کی نسبت بکری کا دودھ بلحاظ وزن مخصوص پانی اور فیٹ ، پروٹین وغیرہ کی وجہ سےدوسرے درجہ پر ہے۔ بکری کا دودھ بچے کی نشوونما کیلئے زیادہ غذائیت بخش ہے کیونکہ یہ زود ہضم ہوتا ہے اور اس سے معدہ اور انتڑیاں بار بار خراب نہیں ہوتیں‘ بالخصوص ایسے مریض اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کی نشوونما رک جائے۔ تحقیق کے مطابق بکری کا دودھ دِق کے جراثیم سے خالی ہوتا ہے بلکہ ایسے جراثیم کا مقابلہ کرتا ہے اور تباہ شدہ ٹشوز کو دوبارہ نشوونما دینے میں نمایاں حصہ لیتا ہے ۔جن بچوں کے گلے جلد خراب ہوتے ہوں انہیں خاص طور پر بکری کا دودھ پلانا چاہئے۔اس سے بلغم پیدا نہیں ہوتا۔جدید تحقیق کے مطابق جن لوگوں کو لیکٹوز پرابلم ہواور ان کی آنتیں گائے اور بھینس کے دودھ کو ہضم نہیں کرسکتیں انہیں بکری کا دودھ پینا چاہئے،محقیقین نے بکری کے دودھ کو گائے کے دودھ پر افضل قرار دیا ہے ۔خاص طور پر دماغی کام کرنے والوں کے لئے بکری کے دودھ سے بہتر کوئی اور غذا نہیں۔
بکری کے دودھ کی خاصیت یہ بھی ہے کہ اس سے پینے والے کے بدن کی جلد بہت نرم و ملائم ہوجاتی ہے۔کولیسٹرول نہیں بڑھتااور جسم میں الرجیز سے لڑنے کی قوت مدافعت بڑھتی ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *