وکیل نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے منی ٹریل دکھانے کا مطالبہ کر دیا

Judge

اسلام آباد: ایک وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کےچیف جسٹس منصور علی شاہ کی منی ٹریل پیش کرنے کی درخواست پیش کی ہے جنہوں نے 2004 میں 350 ملین قرضے لیے اورا بعد میں معاف کروا لیے۔ انہوں نے یہ قرضے منصور ٹیکسٹائل ملز اور آج ٹیکسٹائل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے حاصل کیے تھے۔Image result for justice mansoor ali shah

ایک ماہر قانون انور ڈار نے اپنے وکیل انعام الرحیم کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں انہوں نے قرض حاصل کرنے اور معاف کروانے سے متعلقہ اکاونٹس کی تفاصیل پیش کرنے کی درخواست کی ہے۔
انہوں نے سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے چئیر مین ، یونائیٹڈ بینک کے صدر اور صحافی عمر چیمہ اور سیکرٹری آف دی پنجاب بار کونسل کے ریسپانڈینٹ کے طور پر نام شامل کیے۔لاہور ہائی کورٹ کے جج نے کرپشن کے الزامات پر اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔اس کیس کی سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے 13 جولائی کو کرنی تھی۔ کونسل کا کہنا تھا کہ مساوات کے اصول ججوں پر بھی لاگو ہیں کیونکہ انہیں بھی قرضے عوامی پیسے سے دیے گئے ہیں اور اگر انہوں نے یہ قرضے واپس کرنے کی بجائے معاف کروائے ہوں تو ان کے پاس بھی اس ملک کی عدالت میں جج کے منصب پر بیٹھنے کا حق نہیں ہے۔قرض سے متعلق خبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رحیم نے کہا کہ انہوں نے اس خبر کی صداقت پرکھنے کی کوشش کی تھی اور اس حوالے سے ایک تحریری درخواست 15 جون کو لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کےسامنے معلومات کے حصول کے حق سے متعلقہ قانون کے تحت پیش کی تھی لیکن انہیں اس درخواست کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

courtesy:The Express Tribune

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *