سلیم ملک مسلم لیگ (ق) میں شامل ہوگئے

سلیم ملک نے لاہور میں مسلم لیگ (ق) کے سینئر رہنما چوہدری پرویز الہٰی سے ملاقات کی—۔فوٹو/ بشکریہ نادر گرامانی

سابق کرکٹر سلیم ملک نے بھی سیاست کے میدان میں قدم رکھتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ق) میں شمولیت کا اعلان کردیا۔ سلیم ملک نے لاہور میں مسلم لیگ (ق) کے سینئر رہنما چوہدری پرویز الہٰی سے ملاقات کی اور ان کی جماعت میں شامل ہونے کا باقاعدہ اعلان کیا۔

ملاقات کے دوران ق لیگ کے دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔

مسلم لیگ کے ترجمان کے مطابق سلیم ملک نے ق لیگی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر چوہدری پرویز الہٰی نے سلیم ملک کو خوش آمدید کہا اور امید کا اظہار کیا کہ کرکٹ کی طرح سیاست میں بھی وہ نام پیدا کریں گے۔ سلیم ملک کا شمار ایک زمانے میں پاکستان کے سب سے باصلاحیت بلے بازوں میں ہوتا تھا۔

1982 میں ڈیببو کرنے والے سلیم نے پاکستان کے لیے 103 ٹیسٹ میچوں میں 43.69 اوسط سے 15 سنچریوں اور 29 نصف سنچریوں کی مدد سے 5768 رنز بنائے۔ کلائیوں کے استعمال اور بہترین ٹائمنگ کے ذریعے سلیم نے دنیا بھر کے اسپنرز پر حکمرانی کی جبکہ وہ فاسٹ باؤلرز کے خلاف بھی بہترین بیٹنگ کرتے تھے۔

تاہم بعدازاں سلیم ملک پر میچ فکسنگ کا بھی الزام لگا، جب سابق کرکٹر راشد لطیف نے 1995 کے دورہ زمبابوے اور جنوبی افریقہ کے موقع پر پہلی مرتبہ پاکستان کرکٹ میں میچ فکسنگ کا انکشاف کرتے ہوئے ساتھی کھلاڑیوں سلیم ملک اور دیگر پر الزامات عائد کیے تھے۔ اسی سال آسٹریلین اسپنر شین وارن، ٹم مے اور مارک وا نے انکشاف کیا تھا کہ سلیم ملک نے 1994 میں آسٹریلیا کے دورہ پاکستان کے موقع پر انہیں اچھی کارکردگی نہ دکھانے کے عوض رشوت کی پیشکش کی تھی۔

ان الزامات کی بنیاد پر حکومت پاکستان نے 1998 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج ملک محمد قیوم کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا تھا جس نے دو سال بعد (یعنی 2000 میں) تحقیقات کی بنیاد پر سلیم ملک اور ساتھی فاسٹ باؤلر عطا الرحمان پر تاحیات پابندی عائد کردی تھی، جبکہ 6 کھلاڑیوں وسیم اکرم، وقار یونس، سعید انور، مشتاق احمد، انضمام الحق اور اکرم رضا پر جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

تاہم 2003 میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک کمیشن نے عطا الرحمان پر لگی پابندی کو ختم کردیا تھا۔ سلیم ملک پر لگی پابندی بھی 2008 میں لاہور کی شہری عدالت نے ختم کر دی تھی جبکہ بعدازاں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی تھی :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *