پاناما سے اقامہ تک

Haq Nawaz Jillani

یہ عجیب اتفاق ہے یا گیم کا حصہ کہ دنیا میں زیادہ تر پناما کیس میں نام آنے والے زیادہ تر ایک دوسرے کے جان پہچان والے ہیں ۔ جہاں پر جان پہچان نہ تھی وہاں پناما انکشاف کے بعد جان پہچان بن گئی ۔ پاناما میں نام آنے کے بعد پاکستان کے سیاستدان یا اشرافیہ کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ ان لوگوں نے ناجائز ، کرپشن اور لوٹ مار سے پیسا بنایا اور پھر ملک سے باہر لے گئے جہاں پر ان لوگوں نے جائیدادیں بنائی یا رقم مختلف بنکوں اور کمپنیوں میں رکھ دی ۔اس تاثر میں زیادہ تر حقیقت بھی ہے لیکن اس میں ایسے کاروباری یا پروفیشنلز بھی شامل ہے جو کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہے ہیں یایوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے کرپشن اور لوٹ مار سے پیسہ نہیں کمایا بلکہ اپنی کمائی کو ملک سے باہر لے گئے جس پر سوال اٹھائیں جاسکتے ہیں کہ انہوں نے کس طرح پیسہ باہر منتقل کیا ؟ کیا انہوں نے اپنے ملک کے قانون کے مطابق کام کیا یا قانون کی خلاف ورزی کی؟ قانون کے مطابق آف شورز کمپنیاں بنانا بھی جائز ہے اور ان کمپنیوں میں رقم رکھنا یا اپنی جائز منافع کیلئے کمپنی بنا نا خلاف قانون یا غلط بھی نہیں لیکن غلط صرف یہ ہے کہ عوامی یا سرکاری عہدے پر کوئی رہے، کرپشن اور لوٹ مار کرکے دولت بیرونی ملک جمع کریں تو یہ غلط ہے جس پر بہت سے ممالک میں عوامی عہدے پر رہنے والے سیاستدانوں نے پناما میں نام آنے کے بعد اخلاقی طور پر استعفے بھی دیے۔پاکستان میں چونکہ پہلی بار اس طرح کا انکشاف ہوا جس میں بعض نام ان لوگوں کے آئیں ہے جو سرکاری عہدیدار رہ چکے ہیں یا ابھی بھی کام کررہے ہیں ۔ان لوگوں نے خود استعفا نہیں دیا اور نہ ہی قانون کے سامنے پیش ہوئے البتہ جب عمران خان نے اس ایشو کو بھر پور طریقے سے اٹھایا تو سپریم کورٹ نے ایکشن لیا جس پر حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ شریف خاندان اپنے اثاثوں کے بارے میں کچھ بھی عدالت یا جے آئی ٹی میں ثبوت پیش نہ کرسکی جس سے معلوم ہو جائے کہ ان کی دولت جائزہے یا انہوں نے جائز طریقے سے دولت کمائی ۔ اپنی دولت کی ساری تفصیلات اور ثبوتوں کو پیش کرنا تو درکنار انہوں نے دس فی صد بھی ثبوت پیش نہیں کیے کہ اتنے کھربوں روپے کہاں سے آئے ہیں؟ ججز سوالات پوچھ پوچھ کر مایوس ہوئے لیکن شریف خاندان صر ف میڈیا کے سامنے پروپیگنڈا کرتا رہا۔
شریف خاندان 35سال تک یہ کہتا رہاہے کہ ہماری تو ذولفقارعلی بھٹو سے لے جنرل مشرف تک سب نے احتساب کیا اور بھٹونے ہمارے کارخانے بھی بند کرائیں جب کہ اپنے ٹیکس گوشوروں میں یہ بتاتے رہے کہ ہمارے کاروبار نقصان میں ہیں ، قرضوں پر کام چل رہا ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جو قر ض بنکوں سے لیا وہ بھی واپس نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ کاروبار نقصان میں ہے لیکن دوسری طرف بیرونی ممالک میں جائیدادیں بن رہی ہے ، مال و دولت میں الحمدو للہ سے ہر مہینے غیبی خزانوں سے اربوں سے کھربوں کا اضافہ ہوگیا ہے لیکن ثبوت کوئی نہیں کہ کس کارخانے یا کاروبار سے دولت کمائی ۔ سچ تویہ ہے کہ شریف خاندان کا آج بھی صحیح احتساب نہیں ہوا ہے بہت سے حقائق اب بھی چھپائے گئے ہیں جو انشاء اللہ آنے والے وقتوں میں سامنے آئیں گے۔
وزیراعظم میاں نواز شریف تو پناما کیس یا جے آئی ٹی میں کوئی ثبوت سوائے قطری خط کے پیش نہ کر سکے جس میں لکھا ہے کہ ہمارے دادانے ان کوکروڑں روپے دیے جس پر انہوں نے لندن میں فلیٹس خریدے جب کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ جس قطری شہزادے نے ان کو یہ خط دیا ان پر قطر میں کرپشن کے الزامات ہے اور ان کا بھی پناما میں آفشورز کمپنیاں اور نام آیا ہے اوریہ بھی حقیقت ہے کہ قطری شہزاد ان کو بچانے کیلئے نہیں آیا جو کہ پاکستان میں شکار کیلئے شریف حکومت کی خاص اجازت سے آتا رہا ہے۔ملک میں تلور کی شکارپر پابندی کے باوجود حکومت نہ صرف ان کو اجازت دیتی ہے بلکہ پوری سرکاری مشینری ان کیلئے وقف ہوتی رہی ہے۔ ان حالات سے حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔
دوسری طرف اب ایک اور مسئلہ جس کی حقیقت جے آئی ٹی رپورٹس میں آئی کہ وزیراعظم میاں نواز شریف دوبئی میں ایک کمپنی کے چےئرمین ہے اور وہاں سے تنخواہ بھی لے رہے ہیں جب کہ ان کا اقامہ بھی ہے جس پر عام لوگوں نے بھی کافی سوالات اٹھائیں کہ ایک ایٹمی ملک کا سربراہ دوسرے چھوٹے ممالک میں مارکیٹنگ مینجر کی نوکری کرتا ہے اور وہاں اقامہ ہولڈرہے جو ملک وقوم کیلئے شرمندگی کاباعث ہے ۔ یہ سوالات اور جوابات جاری تھے جب مزیدانکشافات ہوئے کہ بیرونی ممالک میں صرف وزیراعظم کا اقامہ نہیں بلکہ وزیراعلیٰ سندھ ، وفاقی وزیر بجلی ودفاع خواجہ آصف، احسن اقبال وزیر پلاننگ اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی دبئی اور سعودی عرب میں نوکری کرتے رہیں اور اقامے بھی لیے ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ بھاشن دینے اور اہم وزارت سنبھالنے والے خواجہ آصف کے اقامہ نے سب کو حیران کردیا کہ انہوں نے پچھلے سال دبئی میں اقامہ کی تجدید بھی کرائی ہے اور ہر ماہ وزیراعظم سے زیادہ دبئی میں تنخواہ لیتے رہے ہیں، جب کہ ان کا دبئی میں ولی کانام بھی پناما کیس میں آیا ہے۔باقی کن کن وزرا کے دبئی اور سعودی عرب میں اقامے ہیں ان کی تفصیلات بھی بہت جلد قوم کے سامنے آئے گی ۔ یہ ہے وہ حقائق جو عام لوگوں سے چھپائے گئے تھے اور جو ہمارے لئے ڈوب مرنے کامقام ہے کہ ہمارے اعلیٰ عہدوں پر فائز یہ لوگ بیرونی ممالک میں نوکریاں کررہے ہیں وہاں اقامے لئے ہوئے ہیں لیکن ان سب کے پیچھے آور حقائق بھی چھپے ہیں ،اپنی لوٹ مار کی دولت کو جو یہ لوگ ٹیکس ریٹرن میں تو شامل نہیں کرتے لیکن دبئی وغیرہ میں پراپرٹی ضرور بنائی ہے ۔ ان کا مقصد یہ بھی ہے کہ کل اگر ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوتی ہے تو یہ لوگ وہاں بھاگ جائے اور ان کو وہاں رہنے میں مسئلہ درپیش نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ میں اپنے بندے کو اس وقت تک دنیا سے نہیں اٹھاؤں گا جب تک ان کی اچھائی اور برائی دنیا کے لوگوں پر ظاہر نہ کردوں۔ ایک طرف ملک کا وزیراعظم دوسری طرف اعلیٰ عہدوں پر مقیم وزراجن کے دبئی اور سعودی عرب میں اقامے موجود ہے اس سے بڑی بے عزتی شاید ہی کوئی آور ہو۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عام لوگ آنے والے الیکشن میں ایسے لوگوں کو بالکل ری جیکٹ کر دے جو بیرونی ممالک میں پناما یا اقاموں پر ہو۔عام لوگوں کی ذمہ داری زیادہ اسلئے بھی بنتی ہے کہ ہم ان لوگوں کے خلاف آواز بلند نہیں کرتے ۔اللہ تعالیٰ نے ان کی پکڑ کردی ہے اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کو پکڑے اور ان کو سزا دینے کیلئے آواز بلند کریں تاکہ ان کی مزید حقیقت سامنے آئیں اور لوٹاہوا پیسا ملک میں واپس آجائیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *