جاوید ہاشمی کی چاند ماری

asghar nadeem syed.

عمران خان اور نواز شریف کے لشکریوں کی گولا باری کے بیچ جاوید ہاشمی نے بھی ’’چاند ماری‘‘ شروع کر دی ہے۔ اس چاند ماری کا نقصان عمران خان کو ہو سکتا ہے اور فائدہ ظاہر ہے نواز شریف اور اس کی پارٹی کو ہورہا ہے۔اس چاند ماری کی معنویت کیا ہے؟ کسی چینل نے اس پر غور نہیں کیا۔ ایک عرصے سے چُپ کے شکارجاوید ہاشمی کو اچانک کیسی انگڑائی آئی کہ اس نے نواز شریف کو اپنا کندھا پیش کر دیا‘ کیا یہ حسن طلب ہے کہ ’’حضور مجھے منانے کے لیے کسی کو بھیج دیں‘‘۔ میرا خیال ہے جاوید ہاشمی جانتا ہے کہ نواز شریف کے دل سے جو اُتر گیا سو اُتر گیا۔ وہ دل میں رکھنے والا آدمی ہے‘ اُس کے ہاں معافی نہیں ہے۔۔۔اور گاڈ فادر وہ ہے یا نہیں مگر یہ صفت اس میں گاڈ فادر والی ضرور ہے۔تو کیا پھر یہ محض باسی کڑاہی میں اُبال جیسی بات ہے یا بوڑھا شیر کچھا ر میں بیٹھے بیٹھے بور ہوگیا ہے اور باہر آنا چاہتا ہے؟ یا یہ ایک سوچی سمجھی Move ہے؟
پہلی بات تو یہ کہ سیاستدان بوڑھا نہیں ہوتا‘ دوسری بات یہ کہ جسے سیاست سیاست کھیلنے کا چسکا لگ جائے وہ گھر نہیں بیٹھ سکتا۔وہ نوابزادہ نصراللہ خان ہو‘ جاوید ہاشمی ہو یا ایک تانگے کی سواری۔۔۔اُس نے سیاست کی کھیر کھانی ہی کھانی ہے۔ اس سے پہلے کہ میں کوئی قیاس آرائی کروں‘ اپنا تعلق جاوید ہاشمی سے ثابت کردوں‘ تھوڑا سسپنس ہے۔۔۔مگرچوہدری نثار علی خان والا سسپنس نہیں‘ انہوں نے تو’’شریکے‘‘ والا کام کیا ہے جو ہر شادی پر روٹھ کے بیٹھ جاتاہے کہ کوئی اسے منائے۔ یہی ہوا ہے‘ آخر اسے منا لیا گیا ہے۔میرا سسپنس اصلی ہے۔
جاوید ہاشمی اور میں ایمرسن کالج میں اکٹھے پڑھتے رہے ہیں‘ وہ مجھ سے ایک سال پیچھے تھے۔نوجوان جاوید ہاشمی کالج میں بے حد متحرک اور فعال رہنما کے طور پر ابھر رہے تھے۔ وہ خود دائیں بازو سے تعلق رکھتے تھے مگر الیکشن جیتنا ان کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔میں بائیں بازو سے تعلق رکھتا تھا‘ اب بھی رکھتا ہوں۔میں ترقی پسند اخبار’’امروز‘‘ میں ہفتہ وار ’’کالج راؤنڈ اپ‘‘ کے نام سے کالم لکھتا تھا۔اُس زمانے میں طلباء یونین کے الیکشن نظریاتی بنیادوں پر ہوتے تھے اور طلباء ذات برادری کو بھول کر الیکشن میں حصہ لیتے تھے۔جاوید ہاشمی الیکشن لڑنے کا فن بھی جانتے تھے اورسیاست کے داؤ پیچ بھی ۔وہ سیاست کو کاروبار یا ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنے کے سخت خلاف تھے۔ کالج میں پورا سیزن سفید قمیص اور کالی پتلون میں گذارتے تھے۔ الیکشن میں پیسہ خرچ کرنے کے لیے جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں تھی ۔ ان کے نظریاتی ساتھی چائے پانی کا خرچہ اٹھاتے تھے۔ جاوید ہاشمی کو الیکشن میں اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے میں نے نہیں دیکھا۔ جاوید ہاشمی کو معلوم تھا کہ پروفیسروں میں اکثریت بائیں بازو سے تعلق رکھتی ہے‘ انہوں نے ان کی عزت و تکریم میں رتی برابر فرق نہیں آنے دیا تھا‘ وہ رواداری اور محبت سے طلباء کے دل جیت لیتے تھے۔جاوید ہاشمی کو کسی نے نفرت بھری تقریر کرتے نہیں سنا اس لیے ہم آپس میں نہ صرف اخلاص سے ملتے‘ بلکہ تقریبات میں بھی اکٹھے ہوتے۔دل میں کوئی میل نہیں ہوتا تھا۔
جاوید ہاشمی سے تعلق اور دوستی ایک طرف ۔۔۔نظریات پر ہم اپنی اپنی جگہ قائم تھے۔اگرچہ ہر کالم میں جاوید ہاشمی سے چھیڑ چھاڑ تو مجھے کرنا ہی تھی کہ میں اپنے نظریہ کے نقطہ نظر سے کالم لکھتا تھا۔میرے ایڈیٹر مسعود اشعر تھا اور وہ جانتے تھے کہ اخبار میں کیا چھپنا ہے اور کیا نہیں چھپنا۔ ایک کالم میں کچھ تلخ باتیں اور طنزیہ انداز مجھے اختیار کرنا پڑاکیونکہ الیکشن قریب تھے۔ کالم کا فیڈ بیک مجھے کالج ہی میں مل چکا تھا۔میں گھر آیا ‘ میرا معمول تھا کہ شام کو نواں شہر کے بابا ہوٹل میں دوستوں سے محفل لگاتا تھا۔ڈاکٹر انوار احمد اور کچھ اور ترقی پسند یہاں بیٹھتے تھے۔میں شام کے قریب جانے کے لیے تیار ہورہا تھا‘ سائیکل پر نواں شہر پانچ سے سات منٹ کا فاصلہ تھا۔ ڈاکٹر انوار احمد جو اس وقت تو ڈاکٹر نہیں تھا‘ مجھ سے ایک سال کالج میں سینئر تھا لیکن میرا گہرا دوست تھا۔ وہ گھر آگیا اور اُس نے کہا کہ ’’گھر سے نہیں نکلنا‘نواں شہر کے چوک پر جاوید ہاشمی کاجیالاشمشیر بٹ پستول لے کر تمہارا استقبال کرنے کے لیے ٹہل رہا ہے‘‘۔ شمشیر بٹ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ بٹ تھا بلکہ شمشیرِ برہنہ بھی تھا۔ شکل و صورت سے سینڈو تھا ‘اور کالج کی باڈی بلڈنگ کا ٹائٹل اس کے پاس تھا۔فولادی بازو اور ڈولے دیکھ کر لوگ قریب نہیں آتے تھے۔ شمشیر بٹ سے میری ہیلو ہائے تھی مگر یہ نہیں پتا تھا کہ وہ جاوید ہاشمی کا جیالا ہے اور مجھے قتل کرسکتا ہے اور وہ بھی محض ایک کالم پر۔
میں نے انوار احمد سے کہا’’یار صلح صفائی کراؤ۔۔۔میں کب تک گھر میں قید رہوں گا؟‘‘ انوار احمد سائیکل پر بھاگا اور اس نے کچھ دوستوں کی مدد سے جاوید ہاشمی کو ڈھونڈ نکالا۔ واضح رہے کہ اس وقت موبائل فون تو دور کی بات دوسرا فون بھی مشکل سے دستیاب تھا ۔ میرے پاس انوار احمد آیا اور کہا کہ سب انتظام ہوگیا ہے۔ بابا ہوٹل میں جاوید ہاشمی آچکا ہے اور صلح صفائی کا ماحول بن گیا ہے‘ اب چلو تاکہ معاملہ ختم ہوجائے۔ میں اور انوار احمد بابا ہوٹل پہنچے‘ جاوید ہاشمی نے کھلے دل سے محبت بھرے انداز میں گلے سے لگایا اورکہا’’یار مجھے نہیں پتا تھا ورنہ میں شمشیر بٹ کو سمجھا دیتا‘ آپ جو بھی لکھتے ہیں اس سے مجھے کوئی پرابلم نہیں ‘ یہ اپنا اپنا طریقہ ہے سیاست کرنے کا‘‘۔ اب آپ 1970 میں جاوید ہاشمی کا انداز دیکھیں۔ شمشیر بٹ کو بلایا گیا‘ پہلے اس نے پستول میز پر رکھا اور پھر جاوید ہاشمی نے اسے میرے گلے لگوایا‘ ہاتھ ملایا اور ہم نے بیٹھ کر چائے پی۔ظاہر ہے مجھے بھی معافی مانگنی پڑی کہ اگر آپ کا دل دُکھا ہے تو میں معذرت چاہتا ہوں۔ یہ شام تو گذر گئی‘ اب آپ یقین نہیں کریں گے کہ صرف دس دن بعد اُسی نواں شہر کے چوک میں شمشیر بٹ نے اُسی پستول سے دو قتل کردیے اور پھر معلوم ہوا کہ وہ یورپ کے کسی شہر کو بھاگ گیا ہے جہاں کا اُس وقت ویزا یا تو نہیں ہوتا تھا یا آسان تھا۔ اُس کے بعد سے اب تک شمشیر بٹ کو کسی نے نہیں دیکھا۔
اب آتے ہیں جاوید ہاشمی کی ’’چاند ماری‘‘ پر۔۔۔تو سسپنس کو ختم کرتے ہیں ‘ ایک سیاستدان کی نظر کئی جگہوں پر ہوتی ہے۔ جاوید ہاشمی مسلم لیگ نواز سے چوہدری نثار کی وجہ سے الگ ہوا تھا۔ اس کا خیال تھاکہ میاں صاحب جدہ سدھار گئے تھے اور چوہدری نثار PIMS میں داخل ہوگئے تھے۔ ان کی کمر کا درد اس وقت بھی سیاسی تھا‘ آج بھی سیاسی ہے۔اب جب میاں صاحب مشکل میں ہیں تو چوہدری نثار بھاگنا چاہتے ہیں‘ ایسے میں جاوید ہاشمی کو دکھائی دے رہا ہے کہ مسلم لیگ نواز دو تین ٹکڑوں میں تقسیم ہونے لگی ہے۔ ایسا میڈیا پر آچکا ہے۔ِاب ایسے میں جاوید ہاشمی ہی وہ لیڈر ہے جو جنوبی پنجاب اور لاہور کے اطراف کے بہت سے ممبرز کو اپنی چھتری تلے لا سکتا ہے کیونکہ وہ لیڈر ہے وہ دیانت دار ہے اور بھلے اسے منانے مریم نواز گئیں تھیں پھر بھی وہ باغی کا ٹائٹل تو رکھتا ہے ، اب ایسے میں سمجھنے کی بات ہے کہ باغی کی چھتری کے نیچے باغیوں نے ہی آنا ہے ۔ وہ باغی ممبر کون ہوں گے اور پارٹی کا وہ دھڑا باغی نے ہی چلانا ہے ۔ اس لئے جاوید ہاشمی کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ اپنی چھتری کھول کے دیکھے کہ اس پر کتنے کبوتر بیٹھتے ہیں ۔ یہ محض قیاس آرائی ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *