سپریم کورٹ کا فیصلہ حق میں آئے یا مخالف، استعفیٰ دے کر سیاست چھوڑ دوں گا، چوہدری نثار

nisar

اسلام آباد:چوہدری نثار نے آخر پریس کانفرنس کر ہی دی‘ انہوں نے پریس کانفرنس میں بڑے جذباتی انداز میں کہا کط میں نے اتوار پیر کو جو میٹنگ بلائی تھی اس میں ایک بڑا فیصلہ کرلیا تھا اور اس میں ایک بڑا اعلان کرنا تھا‘ یہ اعلان میڈیا پر آنے والے تجزیوں اور پیش گوئیوں کے مطابق تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ نواز شریف کے سامنے سچ کہا‘ میں غلط ہوسکتا ہوں لیکن میری نیت میں فرق نہیں۔میں ہمیشہ نواز شریف سے کہتا تھا کہ رومن ایمپائر جب فیصلے کرتے تو ان کے دائیں بائیں بیٹھے لوگ ان کے کانوں میں سرگوشیاں کرتے تھے‘ میں نواز شریف سے کہتا تھا کہ میرا بھی وہی رول ہے‘ نواز شریف بڑے ڈیسنٹ ہیں لیکن لوگ انہیں کسی اور طرف لے جاتے ہیں۔چوہدری نثار نے کہا کہ میں نے 33 سال پارٹی کے ساتھ مشکل وقت میں ساتھ دیا۔انہوں نے شیخ رشید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شیخ صاحب میں کسی اور ٹرین کا مسافر نہیں ہوں‘ ساری زندگی ایک ہی ٹرین پر بیٹھا ہو ں خواہ وہ چلی یا رُکی۔انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں مخالفین نے بھی کہا کہ چوہدری نثار پارٹی نہیں چھوڑے گا‘ اس سے بڑا تمغہ میرے لیے کوئی نہیں۔چوہدری نثار نے انکشاف کیا کہ میں اندر سے مشکلات اور سازشوں کا شکار ہوا ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ نواز شریف کو ’’ڈیولز ایڈوکیٹ‘‘ کے طور پر مشورے دیے تاکہ انہیں پتا چلتا رہے کہ کیا غلط ہورہا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ میں نے میاں نواز شریف سے پوچھا کہ کیا میں آپ سے اختلا فی باتیں کیا کروں؟ جواب میں میاں صاحب نے خوشدلی سے کہا کہ یہ باتیں مجھے اچھی لگتی ہیں آپ ضرور کیا کریں۔چوہدری نثار نے کہا کہ میں منافقت نہیں کر سکتا‘ میں سیدھے راستے پر چلنے کی کوشش کرتاہوں‘ مجھ سے جھوٹ نہیں بولا جاتا۔میں نے کیبنٹ میں کہا کہ مجھے وہ جگہ اور مقام پتا ہے کہ کس نے کہاں اور کیا بات کی ہے‘ میں نے وزیر اعظم سے کہا کہ آپ نے ایسے لوگوں کی باتیں کیوں سنیں‘ مجھے بلا کر تصدیق کیوں نہیں کی۔چوہدری نثار نے کہا کہ میں نے وزیر اعظم سے کہا کہ پاکستان میں خوشامد پر پابندی لگانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میں ڈان لیکس کے حوالے سے بات کرنا چاہتا تھا‘ فوج کے حوالے سے بات کرنا چاہتا تھا‘ میری فوج سے قربت 1985 سے ہے۔ہمارے خاندان میں کئی فوجی گذرے ہیں‘ میرا باپ اور دادا بھی فوجی تھا لیکن میں سیاستدان ہوں۔ایک ملٹری مائنڈ سیٹ ہوتاہے اور ایک سویلین مائنڈ سیٹ۔میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ دونوں میں ہم آہنگی رہے۔اسی لیے فوج سے قربت کے حوالے سے مجھ پر الزامات لگے۔جنرل مشرف نے جب ہماری حکومت کو فارغ کیا تو میں نے ان سے دشمنی کی حد تک مخالفت کی۔میں نے کبھی کمپرومائز نہیں کیا۔میں نے مختلف آرمی چیف کی میٹنگ میں سخت سے سخت بات کی ہے۔میں نے کبھی اپنے یا اپنی حکومت کے حوالے سے کبھی کوئی الفاظ نہیں کہے۔مجھے ڈان لیکس سے ایشو ہے لیکن میں تفصیل سے بات نہیں کروں گا کہ کیا ہوا اور کس کا کیا رول تھا۔میں نے تو اس وقت ملٹری اور گورنمنٹ کے معاملات کو ہینڈل کرنے کی کوشش کی تھی۔ آج معاملات بہت گھمبیر ہیں‘ میرا دل سیاست سے اچاٹ ہوگیا ہے‘ میں انتہائی قدم اٹھانے والا تھالیکن دوستوں کے دباؤ‘ محبت اور پیار کی وجہ سے میں نے ارادہ ملتوی کردیاکہ پہلے سپریم کورٹ کا فیصلہ آجائے پھر کوئی قدم اٹھاؤں گا۔جس دن سپریم کورٹ کا فیصلہ حق یا مخالفت میں آئے گا میں استعفیٰ دے دوں گا اور سیاست چھوڑ دوں گا۔انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف حقیقتا" نہایت شریف النفس سیاستدان ہیں، میں سپریم کورٹ کا فیصلہ حق میں آنے پر انہیں مبارک باد دینے جائوں گا-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *