میں جناح کا وارث ہوں

محسن علی طاب

mohsin taab

محمود ظفر اقبال ہاشمی صاحب کا نیا ناول‘مَیں جناح کاوارث ہوں’کوئی عام آو سٹوری یا لیلی مجنوں اور سسی پنوں ٹائپ کی کہانی نہیں۔ یہ بیرون ملک مقیم ایک محب وطن پاکستانی کی اپنے وطنِ عزیز کے ساتھ محبت کا منفرد ترین اظہار ہے۔ یہ ناول پاکستان کا مقدمہ ہے جو انہوں نے بہت مدلل انداز میں بمعہ بہترین حل پیش کیا ہے۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کسی ناول نگار نے کبھی چائلڈ لیبر اور قیادت جیسے موضوعات کو اپنے ناول کا حصہّ بنایا ہو اور اس دلچسپ پیرائے میں پیش کیا ہو۔ ناول ختم کرنے کے بعد قاری کے دل و دماغ میں پہلا خیال آتا ہے وہ یہی ہے کہ ناول میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے ویسا اب تک کیوں نہیں ہوسکا اور آئندہ اس کے ہونے میں آخر کیا رکاوٹ ہے۔ پاکستان سے متعلق ہاشمی صاحب نے جو حقائق اور اعداد و شمار پیش کئے ہیں وہ حیرت انگیز بھی ہیں اور دلچسپ بھی اور اس میں تمام نوجوانوں سمیت تمام پاکستانیوں کے لئے جامع معلومات بھی ہیں۔ مٓیں ان گنت ناول پڑھ چکا ہے مگر سچ یہ ہے کہ آج تک ایسا ناول نہ مٓیں نے پڑھا اور نہ ہی شاید پاکستان کی اردو ادب تاریخ میں پہلے کبھی لکھا گیا ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ اس ناول کو ختم کرنے کے بعد میری طرح آپ کے دل سے یہ صدا نہ آئے کہ مَیں بھی جناح کا وارث ہوں!main jinah ka waris hoon
محمود ظفر اقبال ہاشمی کون ہیں اور اب تک ناول نگاری میں انہوں نے کیا منفرد کارہائے انجام دئیے ہیں اس پر مختصر نظر ڈالنا بہت ضروری ہے۔ ہاشمی صاحب 18 اگست 1965 کو جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یارخان میں پیداہوئے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے انگش ادب میں ماسٹر ڈگری کے حصول کے بعد 1990 ء کے اوائل میں ذریعہ معاش کی غرض سے بیرون ملک چلے گئے تھے۔ تب سے وہ سعودی عرب میں مقیم ہیں اور ایک تجربہ کار ہیومن ریسورس مینیجمنٹ پروفیشنل کی شناخت رکھتے ہیں۔ ان کا پہلا ناول‘سفید گلاب’2012 میں شائع ہوا اور بہت کم عرصے میں قارئین اور ناقدین سے پسندیدگی کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے والا ناول قرار پایا۔‘سفید گلاب’محبت کی ایسی لازوال داستان ہے جس نے سب کو محبت کے اصل معنی یاد دلائے۔ انہوں نے پاکستان کے آثارِ قدیمہ، روایات اور ثقافت کو محبت کی خوبصورت کہانی میں اس کمال مہارت سے پرویا کہ بہت سے قارئین آج بھی اسے ہاشمی صاحب کا بہترین ناول قرار دیتے ہیں۔
‘اندھیرے میں جگنو’ان کا دوسرا شاہکار ناول تھا جو 2015 میں شائع ہوا تھا۔ انہوں نے اس ناول میں اپنے شاعرانہ طرزِ تحریر اور ایک خواب نگر تخلیق کرکے سب کے دل جیت لئے۔ مٓیں ناول پڑھ کر بہت دنوں تک یہی سوچتا رہا کہ اتنی اچھی دنیا سے نکل کر پھر اسی خود غرض اور بے رحم دنیا میں واپس کیوں آ گیا۔ اس ناول میں انہوں نے آرٹ اور ادب کی بقا اور ترقی کے لئے ایسا نسخہ تجویز کیا جس پر اگر پچاس فیصد بھی عمل ہو جائے تو ہمارے ملک میں فن و ادب کا منظرنامہ ہی بدل جائے۔
ان کا تیسرا ناول‘قلم، قرطاس اور قندیل’2016 میں دیگر ناولز کی طرح ماورا پبلشرز لاہور نے ہی شائع کیا۔ اس ناول میں انہوں نے روایتی خطاطی جیسے موضوع کو محبت کی ایک اور لازوال کہانی میں پرویا۔ ملک کے محنت کش طبقے، ان کے مسائل اور زندگی کو اس کمال مہارت سے پیش کیا کہ ناول پڑھتے ہوئے قاری کو محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ان کے ساتھ ہی سانس لے رہا ہے۔ اس ناول میں منظر نگاری اور کردار نگاری میں ہاشمی صاحب کا فن اپنے نقط? عروج پر نظر آتا ہے۔
اردو ادب اور ناول نگاری میں محمود ظفر اقبال ہاشمی کو بجا طور پر درخشندہ ستارہ قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے فِکشن کو مقصدیت کے ساتھ پھر سے یکجا کیا ہے اور یہ ناممکن ہے کہ ان کی کوئی بھی تحریر پڑھنے کے بعد آپ نئی عینک اور نئے عزم کے ساتھ محبت، ملک، ملت اور دیگر ان گنت مسائل کو نہ دیکھیں۔ ان کی محبت، امید، توازن، برداشت، حب الوطنی اور امن کا پیغام دینے والی تحریریں ہمارے نصاب کا حصہ بننی چاہئیں اور ان کی خدمات کا اعتراف حکومتی سطح پر بھی کیا جانا چاہئیے۔ ہاشمی صاحب پاکستان اور محبت کے سچے سفیر ہیں اور ان کے چاروں ناولز پڑھنے کے بعد مٓیں انہیں دل کی گہرائیوں سے سلیوٹ کرتا ہوں اور پرزور انداز میں کہنا چاہتا ہوں کہ ان کا نیا ناول‘میں جناح کاوارث ہوں’ہر پاکستانی کو ضرور پڑھنا چاہئیے۔ اسے پڑھ کو آپ کو لگے گا کہ یہ نہ صرف آپ کے دل کی بلکہ وقت کی آواز بھی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *