دوبئی کی ایک جھلک

Amir bin ali

عر ب کی گری یو ں تو ضر ب المثل ہے مگر میرا تا ثر یہی تھا کہ سو رج غروب ہو نے کے بعد یہاں بھی پاکستا ن کی طر ح درجہ حرارت میں کمی آجا تی ہو گی ، مگر یہ میری خا م خیالی تھی ۔ رات کے گیا رہ بجے 38 ڈگری کی گر م ہوا چل رہی تھی ، سو چا کہ صبح صا دق کے وقت مو سم خو شگوار ہو گا ، مگر عین فجر کے وقت بھی دوبئی میں اس گر م درجہ حرارت میں کو ئی کمی دیکھنے میں نہیں آتی ۔ غسل کر نے کے لیے پا نی کا نل کھو لا تو گرم ابلتاہواپانی بہنے لگا ۔ مجھے لگا کہ شا ید میں نے غلط ٹو نٹی کھول دی ہے ، غو ر کیا تو پتا چلا کہ دائیں ہا تھ کی نیلی ٹو نٹی ہی تھی ، تھو ڑا انتظا ر کیا کہ تھو ڑی دیر میں ٹھنڈا پا نی آنے لگے گا ، مگر طویل انتظا ر کے بعد جب دائیں ، با ئیں کی دونو ں نلو ں میں ایک جیسا گرم پا نی رواں ،دواں رہا تو میں نے ہو ٹل کے استقبا لیہ پر فو ن کیا کہ جناب !میرے کمرے کے غسل خا نہ کے دو نو ں نلو ں میں گیزرپا نی آرہا ہے ۔ استقبا لیہ نے بڑا حیران کن انکشا ف کیا کہ یا حبیبی !ہمار ے ہو ٹل میں تو سرے سے گیزر کا کو ئی وجو د ہی نہیں ہے ۔ مزید یہ کہ ہو ٹل ہذا کے نلوں میں بہنے والے پا نی کا بلند درجہ حرارت ہی متحدہ اما رات میں بہنے والے قدرتی پا نی کا مروجہ ٹمپریچر ہے ۔ سا تھ ہی تجو یز دی کہ نہانے سے پہلے ٹب میں پا نی ٹھنڈا ہو نے کے لیے کچھ وقت کے لئے رکھ چھو ڑیں ۔ میں سو چنے لگا کہ آج تو پھر بھی یہا ں جدید زندگی کی سہو لیات ، ائیر کنڈیشنر اور فریج سے گر می کا مقا بلہ کیا جا سکتا ہے ، مگر صدیو ں پہلے لو گ یہا ں کیسے زندگی بسر کر تے ہو ں گے ؟ یقیناًبہت سخت جا ن اور جفا کش ہو تے ہو ں گے ۔
خلیج فا رس کی چھو ٹی سی ریا ست دوبئی یو ں تو متحدہ عرب اما رات کی سا ت ریا ستوں میں سے ایک ہے مگر عالمی سطح پر ملک کی سب سے مقبول ریا ست ہے ۔یو ں تو ابو ظہبی معا شی اور قدرتی وسا ئل کے اعتبا ر سے سب سے آگے ہے ، علا وہ ازیں ، اسے متحدہ عر ب اما رات کا دارلحکومت ہو نے کا بھی اعزاز حا صل ہے ، مگر دنیا بھر کے سیا حو ں اور صحرا نو ردوں میں دوبئی کی مقبولیت ابو ظہبی کی نسبت زیا دہ ہے ۔ تیس لا کھ آبا دی اور پندرہ سو مربع میل کے اس مختصر سے دیس میں غیر ملکیو ں کی دلچسپی کی بڑی وجہ شا پنگ کے علا وہ یہا ں کی حکومت کی سیا حت کو فروغ دینے کی انتھک کو ششیں ہیں ۔ دنیا کی بلند ترین عما رت بر ج خلیفہ یقیناًدیدہ زیب ہے اور پا م جمیرا کا بھی دنیامیں کو ئی ثا نی نہیں مگر اصل چیز جو سیا حو ں کو دو بئی میں کھینچ کر لا تی ہے وہ یہا ں کا پر سکو ن ما حول ، قا نو ن کی با لا دستی ، تحفظ کا احسا س اور حکام کا دوستا نہ رویہ ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ واقفا ن حال میرے’’ دو ستا نہ رویہ‘‘ کے تا ثر سے متفق نہ ہو ں ، مگر یہ با ت تو وہ بھی ما نیں گے کہ دو بئی کے لو گ عربو ں میں سب سے کم بدتمیز ہیں ۔ ہا ں ! مغرور تو سبھی عرب ہو تے ہیں ، کچھ نہ کچھ مسا ئل تو ہیں ، تبھی ایک لاکھ چو بیس ہزار پیغمبر اسی صحرائے عرب میں اللہ تعا لی نے اتا رے ۔
دو بئی کی آبا دی کا تین چو تھا ئی حصہ انڈیا ، پا کستان اور بنگلہ دیش کے لو گو ں پر مشتمل ہے ۔ ہندوستا نی لو گ یہا ں ہم سے دوگنا زیا دہ ہو ں گے اور بنگا لیو ں کی آبا دی ہم سے تین گنا کم ہے ۔ مقامی عرب مجمو عی آبا دی کا فقط بیس فیصد حصہ ہیں ۔ ان کی شنا خت کو غیر ملکیو ں سے کو ئی خطرہ نہیں چو نکہ غیر ملکی افرا د کو یہ اپنے ملک کی شہر یت دیتے ہیں اور نہ ہی مستقل رہا ئش کی اجا زت ، سبھی تا رکین وطن یہا ں ’’اقا مہ‘‘پر ہی مقیم ہو تے ہیں ۔ جیسے سعو دی عر ب میں ’’کفیل‘‘بڑی خو فنا ک چیز ہو تا ہے ، یہا ں پر ’’اربا ب‘‘وہی کر دار نبھا تا ہے مگر ذرا کم خو فنا ک اور قدرے زیا دہ مہذ ب ہو تا ہے ۔ ریا ست کا واحد شہر بھی دو بئی ہی ہے ، با قی آبا دی چھو ٹے چھو ٹے قصبا ت اور دیہا ت پر مشتمل ہے ۔ زیا دہ تر حصہ لق ودق صحرا پر مشتمل ہے جہا ں اب بھی اکثرریت کے طو فا ن آتے ہیں ، سمندری طو فان ان ریت کے طو فانو ں کے سا منے بیچ ہیں۔
عام تا ثر یہی پا یا جا تا ہے کہ دو بئی کی اس چمک ، دمک اور رنگا رنگی کا اصل سبب تیل کی برآمد سے حا صل ہو نے والی دو لت ہے ۔ یہ تا ثر با لکل غلط ہے۔ دو بئی کی آمدنی میں تیل سے حا صل ہو نے والا حصہ پا نچ فیصد سے بھی کم ہے ۔تجا رتی اور کا رو با ری خدمات کے سا تھ سا تھ سیا حت کا شعبہ ہے جو قو می پیداوار کا غالب حصہ ہے ۔ دو بئی کے حکمران خا ندان، خصو صا مر حو م حکمران را شد المکتو م نے ایک دا نشمند ی ضرور کی کہ تیل سے حا صل ہو نے والی دو لت کو فضول کا مو ں میں ضا ئع کر نے کی بجا ئے ملک کا انفراسٹرکچربنا نے میں صرف کیا ۔ بہتر تجا رتی پا لیسی ، سرمایہ کا ری کے لیے دو ستا نہ ما حول اور جدید شہری سہو لیا ت وہ عنا صر تھے جہنو ں نے دنیا بھر کے سرما یہ کا رو ں کو دو بئی کی جانب متو جہ کیا ۔ بینکا ری کے شعبہ میں غیر معمو لی آسا نیو ں اور رعا یتوں نے اسے دنیا بھر میں ایک اہم معا شی مرکز بنا دیا ہے ۔ جزیرہ العرب میں جدیدطرز زندگی اور روایتی اسلا می تمدن کا ایسا مثا لی امتزاج کہیں اور نہیں ملتا جیسا دو بئی میں نظر آتا ہے ۔
دو بئی کی وجہ تسمیہ کی کہا نی بھی قو س قزح کے رنگو ں جیسی رنگ بر نگی ہے ۔ اس با بت آدھ درجن روایا ت میں نے بھی سن رکھی ہیں ۔ جن میں سے معتبر ترین با زار کی نسبت سے اور دوسری روایات عربی ضرب المثل ’’دبا دبئی‘‘سے متفق ہے ، زمانہ قدیم سے ہی یہ چونکہ معمو لی بندرگاہ کا علا قہ شما ر ہو تا تھا، اسی سبب سے یہا ں سے عرب کے دیگر مما لک میں جا نے والو ں کے با رے میں کہا جا تا تھا کہ ’’دبا دبئی‘‘یعنی یہ ما ل کے سا تھ آئے ہیں ، یا ما لدار ہیں ۔ ایک اور روایت جو بظا ہر تو ضعیف سنا ئی دیتی ہے مگر دلچسپ ہے ۔ دو بئی کا مصدر دو بھا ئی بیا ن کیا جا تا ہے ۔ زمانہ قدیم میں اس بندرگا ہ پر دو بھا ئیوں کی طویل عر صہ تک اجا رہ داری قا ئم تھی ۔ یہ دو بھا ئی بحری جہا زوں کو ایندھن مہیا کر نے کے علا وہ تجا رت بھی کر تے اور اپنی خدما ت کے عو ض راہداری وصو ل کر تے تھے۔ انہی دو بھا ئیوں کی نسبت سے یہ بندرگا ہ ’’دو بھائی ‘‘ کہلانے لگی جو بعد ازاں’’دوبئی‘‘بن گیا۔ ۔ اب متحدہ ارب امارات میں یہ شامل سب سے کثیر الآبا د ریا ست ہے ، علا وہ ازیں ابو ظہبی کے علا وہ یہ یو اے ای کی واحد ریا ست ہے جیسے ویٹو پا ور حا صل ہے ۔ بنو امیہ کے دو ر میں جب اسے مسلما نو ں نے فتح کیا تو یہ لو گ ایرانیوں کی طرح آتش پر ست تھے ، مگر یہ تذکرہ پھر کبھی کر یں گے۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *