نقالوں سے ہوشیار رہئے

Afshan Huma

اگر آپ کی عمر تیس سال سے زئد ہے، پنڈی شہر میں پیدا ہوئے اور یہاں کی مشہور کھانے پینے کی جگہوں سے واقفیت رہی تو اس میں سموسے،مٹھائیاں، کھیر، تکہ ہائوس اور پلائو  کباب کی پرانی دکانوں کے ناموں سے آپ یقینا" واقفیت رکھتے ہوں گے۔ جن لوگوں کو جلیبی سے لگائو ہے وہ گراٹو جلیبی کا نام تو ضرور جانتے ہوں گے اور جنہوں نے سیٹلائت ٹاءون میں تعلیم حاصل کی وہ ماموں برگر کھائے بغیر جوان کیسے ہو سکتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں سکستھ روڈ کالج میں تھی تو گراٹو جلیبی اور ماموں برگر کے نام سے پہلے ایک پھر دو اور پھر تین تین دکانیں بن گئیں۔ میں اپنے تئیں سوچتی تھی کہ کتنے بیوقوف ہیں یہ نقال؛ ہم تو اچھی طرح جانتے ہیں کہ اصلی دکان کونسی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے احساس ہوا کہ وہ قطعی بے وقوف نہیں تھے۔ شہر بھر میں کتنے لوگ ہوں گے جو اصل دکان سے واقف تھے۔ اور دوسرے شہروں سے آنے والے لوگ تو  صرف نام ہی جانتے ہیں، لہزا ان کے لیے تو یہ تعین کرنا انتہائی مشکل ہے کہ وہ اصل اور نقل کی پہچان کریں۔ پھر وقت گزرتا گیا اور میرا شمار نئی نسل کی جگہ پرانی نسل میں ہونا شروع ہو گیا تو مجھے یہ بھی معلوم پڑا کہ نئی نسل کے لیے اب اسلی اور نقلی کا فرق ختم ہو گیا۔ اس کے لیے تو گراٹو جلیبی اور ماموں برگر وہی اچھا ہے جس کا زائقہ اسے پسند ہو۔ اتنے سال گزر جانے کے بعد اگر مجھے بھی کوئی پوچھتا ہے تو میں بھی کہہ دیتی ہوں کہ سارے ہی کافی پرانے ہیں جس سے پسند ہو کھا لو۔

جہاں تک کھانے پینے کی اشیا کا تعلق ہے تو شاید یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ وقت کے ساتھ ساتھ سیکھ گئے ہوں گے لیکن یہاں ایک محاورہ یاد آجاتا ہے "نیم حکیم، خطرۃ جان"؛ ایک مرتبہ یہ سوچئے کہ ایک شخص ایسے ہی ایک کلینک کھول کر بیٹھ جائے تو کیا آپ دس پندرہ سالوں میں اسے ڈاکٹر تسلیم کر لیں گے اور وہ یہ بھی کہے کہ اس نے کلینک کھولنے سے پہلے سو تین ماہرین کے ساتھ کام کر رکھا ہے، کیا آپ اس دلیل پر اپنے بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کا علاج اس سے کروائیں گے؟ اگر ہاں تو اللہ آپ کے خاندان کا حامی و ناصر ہو اور اگر نہیں تو کیوں نہیں؟ وہ کیا عناصر ہیں جن کے زریعے ہم یہ یقین کر سکتے ہیں کہ سامنے والا شخص ایک پروفیشنل ہے۔ ایک تو ہے اس کی تعلیمی قبلیت، دوسرا اس کا تجربہ اور تیسرا اس کی شہرت۔ ان میں سے کسی ایک کا بھی نہ ہونا اس کے پروفیشنلزم پر شکوک پیدا کر سکتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ایک فلم پاکستان میں بنی جس کا نام تھا ایکٹر ان لاء۔ میری طبیعت پر اس کے بہت سے منفی اور مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ مثبت تو یہ کہ معاشرے کی بہت سی خاموش سچاءیوں کو اس فلم میں اجا گر کیا گیا تھا، لیکن منفی یہ کہ غلط طریقہ کار اور خصوصا" وکالت جیسے شعبے کے لیے اس فلم سے خاصا غلط پیغام بھی چلا گیا۔

ہمارے ہاں آجکل اسی قسم کے غیر تربیت یافتہ اور خود ساختہ کنسلٹنٹ تقریبا" ہر شعبہ میں دستیاب ہیں۔ ایک طرف تو یونیورسٹیز کی پی ایچ ڈی فیکلٹی اور دوسری جانب زیادہ سے زیادہ ایم اے کیے ہوئے کنسلٹنٹ، موٹیویشنل سپیکر، لیڈرشپ کے ماہرین اور کونسلر۔ یہ سمجھنا ایک عام آدمی کے لیے انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ کسی بھی شعبہ کی تعلیم، تربیت اور تجربہ ایک شخص کو ماہر بناتا ہے نہ کہ اس کی سوشل میڈیا فین فالوونگ۔ حال ہی میں کچھ ایسے ہی لیڈرشپ کےخود ساختہ  ماہرین اور موٹیویشنل سپیکرز سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ انہوں نے نہ صرف مجھے یہ بتلایا کہ تعلیم اور ڈگری بے معنی ہوتی ہے بلکہ یہ بھی جتلا دیا کہ وہ ایک ہفتہ میں میرے ایک ماہ کی تنخواہ کے برابر کما لیتے ہیں۔ اس گفتگو کے بعد بھی میں ان کی مداح نہ ہو سکی یہ میری بدنصیبی ہے۔ اسی طرح کے کچھ افراد آجکل ایگ اے ایف ایس سی اور میٹرک کے طلباء کو کونسلنگ کی خدمات بھی پیش کر رہے ہیں۔ ان میں سے اکثریت کو سٹیو جاب اور مارک زکربرگ کی سوانح عمری زبانی یاد ہے اور اس میں باقی کا مواد وہ ہم ٹی وی کے ڈراموں کی طرح خود ڈال لیتے ہیں۔ ان کی بنی بنائی تقاریر اور پریزینٹیشنز کسی بھی ریفرنس کی مھتاج نہیں کیونکہ وہ تو خاود ہی ماہر ہیں۔ کتب کا مطالعہ ان کے لیے غیر ضروری ہے کیونکہ انہوں نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھ رکھا ہے، کبھی کبھی دل کرتا ہے پوچھ لوں زندگی کہیں وہ پیار سے اپنی گرل فرینڈ کو تو نہیں کہتے۔ ایک اور حضرت سے جان پہچان ہوئی جو مجھے آمادہ کر رہے تھے کہ میں ان کے ساتھ کلینیکل سائیکالوجسٹ کے طور پر کام کروں، ایم ایس سی کی ڈگری ہونے کے باوجود میں نے کہا کہ میرے پاس تھیریپی کرنے کا لائسنس نہیں تو وہ بولے یہاں تو کار چلانے والوں کے پاس بھی لائسنس نہیں ہوتا، آپ کی تھیریپی سے کونسا کسی کی جان چلی جانی ہے، اور اس پر سب سے بہترین دلیل انہوں نے یہ دی کہ ڈاکٹر تو لگا ہی ہوا ہے آپ کے نام کے ساتھ۔

میں ان تما م خود ساختہ کنسلٹنٹ، موٹیویشنل سپیکر، لیڈرشپ کے ماہرین اور کونسلرز پر پریشان تھی کہ میرے علم میں اضافہ ہوا جب مجھے بتایا گیا کہ پاکستان کے دو صوبوں میں اساتزہ کی قبل از ملازمت پیشہ ورانہ تعلیم کو ختم کرنے کی تجویز دی جا چکی ہے۔ کچھ بیوروکریٹک مائنڈ سیٹ رکھنے والے افراد کا خیال ہے کہ وہ تین سے چھ ماہ کی آن جاب تربیت میں یہ تمام علم گھول کر پلا لیں گے لہزا یونیورسٹیز کو اس زحمت سے کنارا کر لینا چاہئے۔ اگر یہ تجاویز منظور کر لی گئیں تو گزشتہ پانچ سال میں اساتزہ کی تربیت کے ھوالے سے کیا جانے والک بیش بہا کاوشیں اور اس پر اٹھائے جانے والے اخراجات سب مٹی میں مل جائیں گے۔ وہ تمام لوگ جو اساتزہ کی تربیت کے کورسز اور پروگرام نئے سرے سے بنا رہے ہیں اور ان پر دن رات محنت کر رہے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ میڈیسن انجنئرنگ وکالت یا کسی بھی اور شعبہ کی طرح تدریس کو بھی ایک اعلی درجہ کا شعبہ بنایا جائے۔ ہم اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت کے ساتھ ایک اور کھیل نہیں کھیل سکتے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہم اپنے بچوں کا علاج کسی نیم حکیم سے نہیں کروا سکتے۔اللہ ہمارے حال اور مستقبل دونوں پر رحم کرے اور ہمیں بہتر فیصلوں کی توفیق دے،  آنے والی نسلیں ہمارا ہی مکافات عمل ہوں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *