پانامہ پیپرز پراستعفی دینے والوں کی تفصیل آگئی!

لاہور -پانامہ دستاویزات میں نام آنے پر دنیا کے مختلف ملکوں اور اداروں کے سربراہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ مالی بدعنوانی اور ٹیکس چوری کے حوالے سے صحافیوں کی تنظیم آئی سی آئی جے نے وسطی امریکا کے ملک پانامہ میں کام کرنے والی ایک لا فرم موزیک فونزیکا کی خفیہ دستاویزات منظر عام پر لے آئی۔ دستاویزات کے سامنے آتے ہی مختلف ملکوں اور تنظیموں میں شامل ان افراد کے مستعفی ہونے کے مطالبے سامنے آنے لگے اور ان مطالبوں کے آگے سب سے پہلے سر جھکایا آئس لینڈ کے وزیراعظم سگمندر گنلاگسو نے، انہوں نے دستاویزات شائع ہونے کے تین دن بعد 5 اپریل 2016ء کو استعفیٰ دے دیا۔ گنلاگسو اور انکی اہلیہ کی آف شور کمپنی تھی۔ پانامہ پیپرز میں نام آنے پر سپین کے وزیر صنعت جوز مینوئل سوریا نے چھ اپریل کو استعفیٰ دیا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی چلی برانچ کے صدر گونزالو ڈیلاوو نے پانامہ لیکس میں نام آنے پر استعفیٰ دے دیا۔ فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کی ایتھکس کمیٹی کے رکن ایڈووکیٹ یوان پیڈرو دامیانی نے استعفیٰ دے دیا، انکا تعلق یوروگوائے سے ہے، انکی لا فرم فیفا کے سابق نائب صدر یوجینیو فیگریڈو کی پاناما میں آف شور کمپنیوں کے امور کی نگرانی کر رہی تھی۔ اے بی این ایمرو بینک کے سپروائزری بورڈ کے رکن برٹ میرشٹاد کو پانامہ پیپرز میں نام آنے پر استعفیٰ دینا پڑا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *