ریپ اور ریاست

 رانا علی زوہیب 

rana ali zohaib

برائے مہربانی مجھے یہاں سے لے جاؤ ، مجھے یہاں سے دور لے جاؤ ، میں اس درد کو محسوس نہیں کرنا چاہتی اور نہ مزید کوئی آنسو بہانا چاہتی ہوں ، میں اس اندھیرے کی دنیا میں بالکل اکیلی ہوں ، میرے تحفظ کے لیے کوئی راستہ نہیں ہے کیا ، اپنی آنکھوں کو کیوں کھول نہیں سکتے آپ۔؟ یہ وہ سوال ہیں جو ایک معصوم کلی اپنی عزت لٹنے کے بعد اس معاشرے سے ، اپنے ارد گرد کے ماحول سے اور بے حس انتظامیہ اور نیند خرگوش میں موجود موجودہ حکمرانوں سے کرتی ہے ۔ ریپ بنیادی طور پر انگریزی زبان کا لفظ ہے جسکو اگر اردو میں ترجمہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے اسکا مطلب ہے ’’عصمت دری‘‘ یعنی کسی معصوم کی عزت کوتار تار کرنا محض اپنی جنسی ہوس کو پورا کر نے کے لیے ۔ پنجائت سسٹم پاکستان کو وہ قانون ہے جسکی اصل میں قانون میں کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے لیکن پھر بھی ریاست کے اندر ایک اور ریاست اور قانون کے ہوتے ہوئے ایک اور قانون جو صدیوں کی روایت ہے چلتا آرہا ہے ، لیکن اسکو نہ تو جمہوری اقتدار والے اور نہ ہی آمرانہ حکومت والے ہمیشہ کے لیے ختم کروا سکے ۔ پنچائت کے ناپاک فیصلے کی بھینٹ چڑھی پاکستان کی ایک اور بیٹی ، جس نے اپنے بھائی کی غلطی کا سزا خود کو کسی غیر کے سپرد کر کے بھگتی ۔ ملتان کے ایک علاقہ راجنپور میں 16 جولائی کو 12 سالہ شمیم اپنے گھر میں موجود چوپائے کے لیے گھاس کاٹنے کھیتوں میں گئی جہاں اسکا کزن عمر وڈا نے شمیم کو دیکھا ، دیکھتے ہی زہن میں شیطانیت آئی اور شمیم کو کھیتوں میں ہی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا اور فرار ہوگیا ، اس وقت نہ زمین پھٹی اور نہ آسمان گرا ۔

Related image

ایک 12 سالہ معصوم کلی جو اس جنسی عوامل سے بالکل بے خبر تھی اسکی عزت اب اس دنیا میں نہیں رہی ۔ درد اورزخموں سے چُور شمیم جب گھر پہنچی تو ماں باپ کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ، ماں کو ہوش نہ رہا ، باپ صدمے میں چلا گیا ۔ غریب خاندان اپنی عزت کو  مٹی میں ملنے سے ڈرتا ہوا متعلقہ لڑکے عمر وڈا پر قانونی کاروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اورسوچا کہ گاؤں سے باہر اس بات کا پتا نہیں چلنا چاہیے ۔ گھر کے فرد میں یہ فیصلہ ہوا کہ پنچائت بلائی جائے ۔ 18جولائی 2017 کو پنچائت بلائی گئی جس میں چالیس سے زیادہ لوگ صرف پنچائت کے ممبر تھے ، پنچائت نے شمیم کے گھر والوں کے سامنے عمر وڈا کی فیملی سے چار رشتے رکھے جنہیں قبول نہیں کیا گیا اور کہا گیا کہ کوئی کنوارہ اور سب سے کم سن رشتہ سامنے لایا جائے ۔ چنانچہ عمر وڈا کی 17 سالہ بہن عزرا کا انتخاب کیا گیا ۔ عزرا کو تمام گاؤں والوں اور ماں باپ کے سامنے شمیم کے بھائی اشفاق کے سپرد کیا گیا اور کہا گیا کہ اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو جیسا تمہاری بہن شمیم کے ساتھ کیا گیا ۔ لہذا وہاں پر ایک اور حوا کی بیٹی کی تمام گاؤں ، اپنے گھر والوں اور پنچائت کے سامنے عزت کو اتارا کیا اور اس سے ریپ کیا گیا ۔ ریپ کے بعد اشفاق موقع سے فرار ہوگیا ۔ 20 جولائی کو عزرا کی فیملی نے قانونی کاروائی کا ارادہ کیا اور پولیس اسٹیشن مطفر آباد ملتان میں مقدمہ درج کروا دیا ۔ جب دوسری پارٹی یعنی شمیم کے گھر والوں کو پتا چلا تو وہ بھی 24جولائی کو تھانے میں مقدمہ درج کروانے پہنچ گئے ۔ یوں دونوں گھروں کی پہلے عصمت دری کی گئی اور پھر قانون کی یاد آئی اور چل دیے پولیس کی جانب ۔ واقعہ کی خبر میڈیا کی ہوئی تو پولیس حرکت میں آئی اور سپنچ امین سمیت 20 افراد کو حراست میں لے لیا ، تا ہم عمر وڈا اور اشفاق ابھی تک مفرور ہیں ۔ ریپ در ریپ ۔ بدقسمتی سے پاکستان کا شمار ان 10 بد ترین ممالک میں ہوتا ہے جہاں ہر دن 4 لڑکیاں ریپ ہوتی ہیں ۔ پاکستان کے ساتھ ہمسایہ ملک ہندوستان ریپ اور گینگ ریپ کے معاملے میں کسی ملک کی مماثلت نہیں رکھتا ۔ انڈیا کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 2013 میں 24,923 ریپ کیسز رجسٹرڈ ہوئے ۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دوسرے ایشیائی ممالک میں بھی حوا کی بیٹی کی عزت محفوظ نہیں ہے ۔ لیکنسوال یہ ہے کہ کیا آج تک جتنے بھی کیسز رجسٹرڈ ہوئے ان میں کسی کو سزا بھی دی گئی یا نہیں ، سزا سے یاد آیا کہ اسکی سزا ہے کیا ، پاکستان کا آئین اور قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے ، پاکستان پینل کوڈ 1860 کے مطابق ریپ کے کیسز پر چارجز 375 اور 376 لاگو ہوتے ہیں جنکی سزا ’’سزائے موت یا عمر قید‘‘ ہے ۔ یعنی اگر کوئی شیطان ریپ کرتا ہے تو اسے قانون کے مطابق یا تق پھانسی دی جائے یا عمر قید سنائی جائے۔ لیکن بد قسمتی سے ہم ایک ایسے معاشرے اور ملک میں موجود ہیں جہاں قانون تو ہے ملک کا قانون کا اطلاق کروانے والا کوئی نہیں ہے ۔ پاکستان میں کتنے لوگوں کو ریپ کے بعد سزا دی گئی آئیے اسکا بھی جائزہ لیتے ہیں ۔2002 میں تیس سالہ مختارہ بی بی جو کہ مختارہ مائی کے نام سے جانی جاتی ہے اس سے گینگ ریپ کیا گیا ، 6لوگوں کو گرفتار کیا گیا ، 5 کو عدم ثبوت پر بری کردیا گیا ، ایک کو عمر قید سنادی گئی ۔ معاملہ انٹرنیشنل میڈیا اور فورم پر اٹھایا گیا لیکن ہوا کیا ، کچھ بھی نہیں ۔ اسلام علمبردار اور عامر جنرل مشرف کے دور میں یہ واقعہ ہوا لیکن وہ بھی اس پہ قابو نہ پا سکا ۔ الٹا مختارہ مائی کے لیے پاکستان کی سرزمین کو تنگ کردیا ۔ 2014 میں اسی پنچائت نے جس نے مختارہ مائی کو گینگ ریپ کروایا مطفر گڑھ ڈسٹرکٹ میں پھر ایک لڑکی کو ریپ کروایا ۔ کائنات سومرو ، تیرہ سالہ معصوم لڑکی کو پہلے اغوا کیا گیا پھر گینگ ریپ کیا ، معاملہ پولیس تک گیا تو کائنات کے بھائی کو قتل کر دیا گیا ۔2014 میں لیہ ڈسٹرکٹ میں 21 سالہ لڑکی کو گینگ ریپ کیا اور پھر مار دیا گیا ۔ 2014 میں فیصل آباد کے مشہور سیاسی شخصیت میاں فاروق کے تینوں بیٹوں کو گینگ ریپ کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ۔ بعد ازاں سیاسی اسرو رسوخ سے وہ اپنے تینوں بیٹوں کو رہا کروانے میں کامیاب ہوگیا ۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2014 میں پاکستان میں 772 ریپ کیسز سامنے آئے ۔ لیکن ان تمام کیسز میں کسی ملزم کو کوئی نہ تو سزا دی گئی اور نہ ہی جرمانہ کیا گیا ۔ ہمارا مذہب اسلام یہ کہتا ہے کہ خون کے بدلے خون ، ہاتھ کے بدلے ہاتھ ۔۔ لیکن قانون کے مطابق ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اندھا قانون ہے ، کرپٹ حکمران ہیں ، مافیا کی بالادستی ہے ، پولیس انصاف دلانے میں ناکام ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پولیس کے ہوتے ہوئے پنچائت کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی تو میں نے جتنے کیسز کا پیچھے زکر کیا ان میں سے کسی ایک کو بھی سزا نہیں دی گئی ۔ معصوم کلیوں کی عزت سے کھیل کے اپنی جنسی حوس پوری کر کے یہی لوگ پھر باہر دھندناتے پھرتے ہیں اور پھر سے کوئی نیا شکار ڈھونڈنے لگتے ہیں ۔ علم اور شعور کی کمی کی وجہ سے انسان اپنے زہن سے یہ نکال دیتا ہے کہ اسے اسکا حساب دینا ہے ، یہ قرض ہے اسکے اوپر جو اس نے نہیں اسکے کسی فیملی ممبر نے اتارنا ہے ۔آج میڈیا والے اور قانون دان اس پنچائت کو بُرا بھلا کہہ رہے ہیں بجا ہے ، غلط ہے کہنا چاہیے لیکن لیکن اس معصوم بارہ سالہ شمیم کا کیا قصور تھا جسکی عزت کو تار تار کیا گیا ۔کیا وہ کسی کی بہن نہیں تھی ، وہ کسی کی بیٹی نہیں تھی ۔کیوں قانون حرکت میں نہیں آیا ، قانون سے انصاف کی توقع اُٹھی تو بات پنچائت تک پہنچی ۔ اور پنچائت نے جو فیصلہ کیا وہ اس وقت کی ضرورت اور معیار اور معصوم شمیم کے مرجھائے ہوئے چہرے اور انصاف مانگتی آنکھوں کو دیکھ کر کیا ۔ اور بالکل ٹھیک کیا ۔ مجھے دکھ سے عزرا کا جس نے بھائی کی غلطی کی سزا پائی ، لیکن اگر یہی ہمارا قانون واقعی قانون ہوتا تو شمیم بھی آج عزت والی زندگی بسر کرتی ، کسی ایک کو بھی پاکستان میں پھانسی دی گئی ہوتی تو آج یہ مزید لڑکیاں اپنی عزت سے ہاتھ نہ دھو کر بیٹھتی۔ یہاں بات ہماری عدلیہ کے انصاف پر بھی ہے ۔ ججز ایک منٹ میں ضمانت منظور کر لیتے ہیں ۔ نہیں دیکھتے کہ وہ لڑکی زمانے کے قابل تو نہیں رہی لیکن ہم سے انصاف کی توقع ضرور کرتی ہے ۔ کیوں پھانسی پہ نہیں لٹکایا جاتا ریپ کرنے والوں کو ۔۔ کیوں انکے ساتھ تھانوں میں بھی ترمی برتی جاتی ہے ۔ آج قانون قانون ہوتا تو نہ شمیم کی عزت جاتی ، نہ پنچائت پیٹھتی ، نہ عزرا کی عزت بھی جاتی۔ مسئلہ گراس روٹ لیول پہ ہے ۔ ہمیں پہلے تو خود سوچنا ہوگا ، سیاست دانوں کو ، قانون لوگو کرنے والے اداروں کو سوچنا ہوگا ۔ ایک پھانسی دے دیں کسی کی جرأت نہیں ہوگی ریپ کرنے کی ساری زندگی چاہے جتنی مرضی رضا مندی شامل ہو ۔جب ایک لڑکی ریپ کا شکار ہوتی ہے تو پھر منہ سے جو کلمات نکلتے ہیں وہ کچھ یوں ہوتے ہیں ’’ اوہ خدایا مجھے کیوں اس دنیا میں بھیجا ، کس طرح ایک آدمی اس حد تک جا سکتا ہے ، کس طرح وہ انسانیت کا قتل کر سکتا ہے ، کب یہ سلسہ ختم ہوگا ، میرے جسم کو ہی نہیں روح کو بھی تکلیف پہنچی ہے ،میں کیسے ہر شخص سے خود کو چھُپاؤں ، اپنی شرم کہاں سے لے کر آؤں ، ماں کی روح تڑپ رہی ہے ، باپ ماتم کی سی صورت حال میں ہے ، وہ سوچتا ہے کہ وہ کیوں اس دنیا میں آیا ، صرف آپ ہی خدا ہیں جو انکی اور میری روح کو چین دے سکتے ہیں ، قانون اور حاکم انکی مدد نہیں کر رہے ، سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں ، ایسے میں آپ ہی خدا ہیں ، آپ سے بڑھ کر کوئی نہیں ، اے خدا !! ہم آپکو دیکھتے ہیں ، ہم آپ پر اعتماد کرتے ہیں اور زناکار کا فیصلہ آپ ہی کر دیجیے !! ۔ آپ سے بڑی عدالت کوئی نہیں ۔‘‘ سوائے آنسوؤں اور دامن پہ لگے داغ کے کچھ پاس نہیں ہوتا ۔ ساری زندگی بھی چاہیں تو اس داغ کو نہیں مٹا سکتے ۔ مٹے گا تو مر کر مٹے گا ۔ جسم کے ساتھ یہ داغ بھی دفن ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ پاکستان اور پاکستان کی عزت کو محفوظ رکھے۔ آمین۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *