مہرباں کیسے کیسے

nasir malik final

اردو کے ایک معروف مزاح نگار نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ہمارے ہاں بعض لوگ صرف دعا مانگنے کے شوق میں پوری نماز پڑھ لیتے ہیں۔خدا جھوٹ نہ بلوائے حصول تعلیم کے ضمن میں اپنا بھی قریب یہی عالم رہا کہ صرف ہاسٹل میں رہنے کے چکر اور شوق میں پوری تعلیم حاصل کر لی ۔جب سے ہوش سنبھالاہاسٹل میں رہنے کا اشتیاق ہمیشہ ساتھ رہا اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہا۔ اس دوران جب پطرس بخاری کے مضامین پڑھے تو ان میں ہاسٹل لائف کے تذکرے نے گویااس شوق کے لیے مہمیز کا کام کیا۔چنانچہ اس ضمن میں اصل مقصد ہمیشہ ہاسٹل لائف سے لطف اندوز ہو نا ہی رہا لیکن اس کے ساتھ ساتھ خیال یہ بھی تھا کہ اگر تعلیم بھی حاصل ہو جا ئے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ایف اے اور بی اے میں تو بوجوہ ہاسٹل میں نہ رہ سکے ۔ لیکن ایم اے کے دوران ہمیں ہاسٹل میں رہنے کی اجازت مل گئی۔اس طرح ایک طرف جہاں ہاسٹل میں قیام کا ہمارا دیرینہ خواب پورا ہوا وہیں یہ قیام ایک ایسا ڈراﺅنا خواب ثابت ہوا کہ آج تک بھلایا نہیں جا سکا ۔ آج یہاں اس اجمال کی تفصیل درج کرنا مقصود ہے ۔
والدین اور بعض رشتے داروں کی طرح ہاسٹل روم میٹ کا انتخاب بھی آپ خود نہیں کرتے ۔ اس میں آپ کو قسمت کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے جو مل جائے اس کے ساتھ نباہ کرنا پڑتا ہے۔ بس اسی اُصول نے ہاسٹل لائف کے بارے میں ہمارے خیالات اور تمام رومینٹک تصورات کو تباہ کر کے رکھ دیا ۔بطور روم میٹ ہمارے لیے جس شخصیت کا انتخاب کیا گیاان کا نام نامی جناب گوہر بزمی تھا۔ بزمی صاحب سے ملاقات اور اُن کے ساتھ ایک ہی کمرے میں قیام ہماری زندگی کے اُن عجب ترین واقعات میں سے ہے جنہوں نے ہمارے ذہن کو بے انتہا مُتاثر کیا۔ آپ کا تعارف پیش کرنا قدرے مشکل کام ہے۔آپ ایک انتہائی عجوبہ قسم کی شخصیت کے مالک تھے ۔ہم نے آپ جیسا بے سمت اور بے ہمّت انسان آج تک نہیں دیکھا۔آپ کا تعلّق انسانوں کی اُس قِسم سے تھا جنہیں دیکھ کر خودکُشی کی تمام " Theories" بالکل " Justified" لگنے لگتی ہیں۔ بزمی صاحب نےایم اے سائیکالوجی میں داخلہ لیا تھا اور سچّی بات ہے کہ انہیں ضرورت بھی اسی سبجیکٹ کی تھی۔یہ بالکل ایسےجیسے کوئی دمے کا مریض  چیسٹ سپیشلسٹ بننے چلا ہو۔

room

گھنٹوں ایک جگہ بے مقصد بیٹھے رہتے ۔عجیب ” دھرنا پسند “ قسم کی طبیعت پائی تھی۔ (ایسے لوگ ” شاہراہ زندگی “ پرنہیں صرف” شاہراہِ دستور “ پر اچھے لگتے ہیں )۔اُن کی ہر عادت اُن کو دوسروں سے مُنفرد اور ’ مُمتاز ‘ بناتے ہوئے دوسروں کو ان سے متنفر کرنے کا باعث بنتی تھی۔۔مثلاًنہانا آپ کے نزدیک ”قبیح“ عمل اور وقت کا ضیاع تھا۔ ۔ہماری بے حد درخواست پر وہ کبھی کبھی اتوار کو نہاتے اور پھر اس ” مُشقّت “ کے بعد سارا دن سستاتے اور ہمیں کوستے رہتے۔ عزت وتوقیر،غیرت اور حمیت جیسے خصائص کا آپ کی زندگی میں کوئی دخل نہیںتھا،بلکہ انہیں وہ ” خرافات“ سمجھتے تھے۔۔ڈھٹائی آپ کا واحد ایجنڈا تھا جس پر آپ بڑی مُستقل مزاجی سے عمل پیرا تھے۔آپ کی گفتگو مقصد ، محبت اور اخلاق وغیرہ سے بالکل عاری اور سماعت پہ بے حد بھاری ہوتی۔ کوئی بھی نارمل انسان آپ کی گفتگو دو منٹ  بھی برداشت کرنے سے قاصر تھا ، تصور کریں ہم نے دو سال کیسے گزارے ہوں گے؟ ان کی خاموشی بھی ایک طرح کے زہریلے پن کا اظہار تھی تواندازہ کیجئے  تکلّم کس بلا ہو گا۔غالب نے شائد آپ جیسوں کےبارے میں ہی کہا تھا
گرمی سہی کلام میں ۔۔ ۔۔ ۔۔ لیکن نہ اس قدر
کی جس سے بات اُس نے شکایت ضرور کی

تو صاحبو ! ایسے میں ہاسٹل لائف کا رومانس چند دنوں میں ہی ہمارے دماغ سے نکل گیا۔تعلیم تو خیر پہلے بھی ہماری ” ترجیح اوّل “ نہ تھی چنانچہ بہت جلد ہی ہم یہ سوچنے لگے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اپنے گاﺅں واپس چلتے ہیں۔ لیکن پھر بزمی صاحب کا خیال آتا تو ہم سوچتے ، ” کس کے گھر جائے گا یہ سیلابِ بلا میرے بعد “ ۔ چنانچہ اس خیال سے ہم ہاسٹل چھوڑنے یا کسی اور کمرے میں شفٹ ہونے کا ارادہ ملتوی کر دیتے ۔  کچھ عرصہ گزرا تو جیسے وہ انگلش میں کہتے ہیں کہ جب کسی مصیبت سے جان چھڑانا ناممکن ہو تو اس کو انجوائے کرنا شروع کردینا چاہیے، ہم بھی بزمی صاحب کی صحبت کو انجوائے کرنے لگے ۔ بزمی صاحب انسانی مطالعے کے لیے ایک بڑی زبردست ” چیز “ تھے ۔مردم بیزاری کا یہ عالم تھا کہ آپ کا کوئی ذاتی دوست تو کیا کوئی دور نزدیک کا واقف کار بھی نہیں تھا۔ادھر ہم وسیع حلقہ احباب رکھنے والے ایک محفل باز قسم کے انسان واقع ہو ئے تھے ۔ ہمارے کئی قریبی دوست اور واقف کار تھے ۔لیکن بزمی صاحب کی طویل صحبت کی ’ برکت ‘ سے ہمارے ان ذاتی دوستوں نے ہم سے کنارہ کشی اختیار کرنا شروع کر دی۔یوں تو بزمی صاحب کاکوئی قول و فعل کبھی بھی باعثِ سکون نہیں رہالیکن اُن کے ساتھ کھانا پینا تو حد درجہ اذیت ناک ہوتا تھا۔ واللہ ہم مروتاً ہمیشہ ان کو کھانے کی دعوت دیتے اور ہمیشہ پچھتاتے ۔ وہ ہمیشہ ’ کمال ‘ بھیانک انداز میں اور کسی انجانے خوف کےپیش نظر بہت تیزی سے کھانا کھاتے تھے ۔مُنہ ابھی بھرا ہوتا تو اُس میں ایک اور نوالہ ٹھونس لیتے ، اس پر مستزاد تیزگفتگو حسبِ عادت جاری رہتی بلکہ اُس میں اور بھی پھرتی آ جاتی ، ایسے میں خوراک کے اجزاءنیچےگرتے پڑ رہے ہوتے اور ” تبرکاً “ ساتھ والوں کے کھانے کا حصّہ بنتے رہتے ۔
غرض ! بزمی صاحب کا تذکرہ ایک کتاب کا متقاضی ہے ۔ان کے ساتھ ہاسٹل میں قیامکے دوران ہمارے تمام آئینی و قانونی حقوق مسلسل معطل رہے ۔ اظہارِ رائے کا حق، پرائیویسی کا حق حتیٰ کہ آزاد اور تازہ فضا میں سانس لینے کا حق ۔۔سب اس دوران بری طرح پائمال ہوتے رہے اور وہ دو سالہ ہاسٹل لائف کا عرصہ جسے ایک سہانے ، میٹھے خواب کی مانندہماری یادوں کا حصہ ہونا تھا اُسے بزمی صاحب کی معیت نے غارت کر کے رکھ دیا - وہ عرصہ اب ایک بھیانک منظر کی صورت ہمارے دماغ میں موجود ہے۔۔۔منیر نیازی کا یہ شعر بھی ہمیں انہی دنو ں سمجھ آیاتھا ۔
میری ساری زندگی کو بے ثمر اُس نے کیا
عُمر میری تھی مگر اس کو بسر اُس نے کیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *