پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ ، برطانیہ کے موقف میں تضاد

imran khan

لندن: پاکستان تحریک انصاف نے اپیکس کورٹ کے سامنے 688 صفحات پر مشتمل منی ٹریل پیش کی ہے جس میں غیر ملکی فنڈنگ کی تفصیلات درج ہیں۔لیکن کہیں بھی یہ نہیں بتایا گیا کہ چندہ کی رقوم کی بینک سٹیٹمنٹ کہاں ہیں تا کہ عدالت سے سوالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ برطانیہ کی کمپنیز ہاوس میں پی ٹی آئی ایک لمیٹڈ کمپنی کی حیثیت سے شامل ہے (پاکستان تحریک انصاف یو کے ، پی ٹی آئی یو کے کمپنی نمبر 07381036)۔ ا س کمپنی کے ہینڈلر دو ڈائریکٹر ہیں جن کے نام شاہد حسین اور محمد اقبال ہیں۔ عمران خان نے محمد اقبال شاہد حسین کو فائنانس بورڈ چلانے کی ذمہ داری دے رکھی ہے جس کا کام پارٹی لیڈر کو جواب دینا ہے نہ کے یو کے ممبران یا یو کے پارٹی لیڈر شپ کو جواب دینا۔برطانیہ میں جمع کیے گئے فنڈز کی ٹرانسپیرنسی کے متعلق بہت اہم سوال پیدا ہو چکے ہیں ۔ پی ٹی آئی کی منتخب آسامیاں پچھلے کئی عرصہ سے تضادات کا شکار ہیں کیونکہ فنانس بورڈ نے اب تک کئی بار رقم کی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف پارٹی عہدیدار عمران خان کے سامنے جواب دہ ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف انگلینڈ کی ایک جانی پہچانی پارٹی ہے جہاں اس سے 9000 سے زیادہ ممبران موجود ہیں جو ماہانہ پارٹی فنڈز جمع کرواتے ہیں۔ پہلے ہر ممبر سے سالانہ 36 پاونڈ لیے جاتے تھے جو کم کر کے 18 پاونڈ کر دیے گئے ہیں تا کہ ممبران کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکے۔ حال میں پارٹی نے 1 لاکھ 60 ہزار پاونڈ ممبرشپ فیس جمع کر رکھی ہے لیکن ایک سینئر عہدیدار نے دی نیوز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پی ٹی آئی نے 36 پاونڈ کی فیس کے دورانیہ میں 2لاکھ پاونڈ سے زیادہ رقم جمع کی تھی۔

اس کے ساتھ ساتھ بہت سے فنڈز بھی کھلے عام اپیل کر کے حاصل کیے گئے ہیں جن کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا گیا ہے نہ ہی ان فنڈز کے بارے سرکاری مطالبات کے جواب دیے گئے ہیں۔ دوسینئر پارٹی ممبران نے بتایا کہ انہوں نےپارٹی لیڈر شپ کو کہا تھا کہ بینک سٹیٹمنٹ کو عوام کے سامنے لایا جائے کیونکہ انہیں یہ معلوم ہوا تھا کہ پارٹی فنڈ کی زیادہ تر رقم انویسٹمنٹ کےلیے دبئی بھیجی جاتی ہے اور بہت کم رقم پاکستان لائی جاتی ہے۔

ایک سینئر لیڈر کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور پاکستان میں رقم کی ٹرانپیرنسی پر مختلف میٹنگز میں سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں لیکن کہیں بھی مسئلہ حل نہیں ہو کیا گیا کیونکہ قیادت کسی بھی قسم کی وضاحت پیش کرنے کےلیے تیار نہیں ہے۔ سینئر پی ٹی آئی عہدیداروں نے دی نیوز کو بتایا کہ آفس آف انٹر نیشنل چیپٹرز ( اوآئی سی) میں بہت سی شکایات درج کروائی گئی ہیں لیکن ہر درخواست کے جواب میں خاموشی کے سواکچھ نہیں ملا۔ جو شخص زیادہ مستعدی دکھائے اسے علیحدہ کر دیا جاتا ہے اور قیادت کی طرف سے اسے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پی ٹی آئی کی قیادت جن میں عمران خان، ان کی بہن علینا خان اور دوسرے رہنما شامل ہیں اکثر برطانیہ جا کر چندہ جمع کرتے ہیں۔ یہ حضرات وہاں چئیرٹی شو اور ڈنر پارٹیوں میں شرکت کرتے ہیں جہاں بہت سے چندے جمع کیے جاتے ہیں۔ یہ چندے تین اداروں کے نام سے جمع کیے جاتے ہیں، جن میں پی ٹی آئی یوکے، نمل کالج (حبیب بینک اے جی زورچ نمبر 70067212125300، سورٹ کوڈ 60-91-95، چئیرٹی رجسٹرڈ نمبر 1144897)اور شوکت خانم (بارکلے بینک اکاونٹ نمبر 40550256 سورٹ کوڈ 20-37-75 )شامل ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ احتجاج کے دوران پی ٹی آئی پاکستان میں پارٹی کےلیے چندہ جمع کرتی دکھائی دی ہے۔

برطانیہ میں آزادی مارچ اور سونامی مارچ کے لیے بہت سے فنڈز جمع کیے گئے۔ یہ مارچ 2014 میں نواز شریف کے خلاف اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق دھرنے کےلیے 3 لاکھ پاونڈ جمع کیے گئے۔ فائنانس بورڈ کو خطوط لکھے گئے جن میں رقم کے خرچ کی تفصیلات کا مطالبہ کیا لیکن کوئی جواب جمع نہیں کروایا گیا۔ جولائی 2014 میں عمران خان نے اپنے دوست انیل مسرت کا 5 لاکھ پاونڈ فنڈز جمع کرنے پر شکریہ ادا کیا ۔

پچھلے سال مئی میں عمران خان نے لند ن میں دو تقریبات میں شرکت کی۔ عمران خان نے کہا کہ انہوں نے صرف ڈیڑھ گھنٹے میں ساڑھے پانچ لاکھ پاونڈ چندہ حاصل کیا۔ پی ٹی آئی نے ایک بیان میں کہا کہ لندن اور مانچسٹر میں نمل کےلیے ساڑے 7 لاکھ پاونڈ چندہ میں جمع کیے گئے۔ پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کے مطابق یہ رقم فنانس بورڈ کو بھیجی گئی لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ کیا پوری رقم پاکستان آئی بھی ہے یا نہیں۔ دی نیوز نے محمد اقبال اور شاہد حسین سے رابطہ کی کوشش کی لیکن دو دن تک انہوں نے کال کا جواب نہیں دیا۔


بشکریہ : دی نیوز

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *