ہم جنس پرستی کی خواہش کیوں ہوتی ہے؟ یہ وبا کیسے پھیلی؟ ایک انتہائی علمی و تحقیقی رپورٹ

سپیشل رپورٹ

gay

ہم جنس پسندی (انگریزی: Homosexuality) ایک ہی جنس کے حامل افراد کے مابین پائے جانے والے جنسی میلان کا رویہ جس کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اِرثی یا وراثتی یا موروثی ہے. انگلستان اور ویلز میں باہمی رضا مندی کے تحت قانون جنسی جرائم مجریہ 1967ء کے تحت اسے جائز قرار دیا گیا ہے۔ کئی دیگر ممالک میں بھی اسے جائز قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اسلام سمیت اکثر دوسرے مذاہب میں یہ ناجائز اور سخت حرام ہے اور اس کا مرتکب مستوجب سزا ہے۔

اس قبیح حرکت کا آغاز بمطابق ابراہیمی ادیان،پہلی مرتبہ قوم لوط نے کیا۔قرآن میں اس قوم اور ان کی کہانی کا ذکر باتفصیل کیاگیا ہے۔ اور یہ اسی قوم کا ایجادت ہے۔آج دنیا بھر میں ہم جنسی سرپزیر ہے جہاں پر اکثر غیر اسلامی ممالک نے اسے جائز قراردیاہے۔اس کے نتیجے میں ان ممالک میں بچّے بہت کم جنے جاتے ہیں اور ن ممالک کے گورنمنٹ کو بچے جننے والوں پر لاکھوں رائج الوقت رقم خرچ کرنا پڑتا ہے اور ان ممالک میں عورتوں کا بھی برا حال ہے ،یہی وجہ ہے کہ اسلام اور دیگر مذہبوں نے اس کام کو ناپاک قرار دیتے ہوئے منع کیا ہے اور فاعل اور مفعول دونوں کو محمد ﷺ نے سخت سزا کے موجب قراردیے ہیں۔

تاریخی پس منظر

عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے ہم جنس شادیوں کی مذمت کی ہے۔انہوں نے یہ بات ویٹیکن کے دورے پر آئے ہوئے امریکی پادریوں سے ایک خطاب کے دواران کہی۔ پوپ نے خبردار کیا کہ ’پراثر سیاسی اور ثقافتی لہریں شادی کی تعریف کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ انہوں نے امریکی پادریوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے گرجوں میں اس بات پر زور دیں کہ شادی سے پہلے کسی کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنا نہ صرف ایک بہت بڑا گناہ ہے بلکہ اس سے معاشرتی استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ پوپ بینیڈکٹ کے یہ بیانات ایک ایسے وقت آئے ہیں جب امریکی ریاستوں واشنگٹن اور میری لینڈ نے گذشتہ ماہ میں ہم جنس شادیوں کو قانونی طور پر جائز قرار دے دیا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے امریکہ کی ریاستوں نیویارک، کنیکٹیکٹ، آئیوا، میساچوئسٹ، نیو ہمشائر اور ورمونٹ میں ہم جنس پرستوں کی شادیاں پہلے ہی قانونی قرار دی جا چکی ہیں۔
ہم جنس پرستی کو فروغ دینے میں اس وقت اور جو ممالک سرگرم ہیں ان میں امریکہ پیش پیش ہے۔ امریکہ کے تحقیقی ادارے بھی اس پر کام کر رہے ہیں اور ہم جنس پرستی کے حق میں مختلف دلائل دے رہے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق میں امریکی تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ ہم جنس پرست مردوں کی آپس کی شادیاں صحت مند ماحول پیدا کرنے میں معاون ہوتی ہیں۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ شادی کے بندھن میں بندھ جانے والے ہم جنس پرست مرد بیماریوں کا کم شکار ہوتے ہیں۔ کیونکہ قانونی جیون ساتھی مل جانے سے ہم جنس پرست مرد اس اضطراری کیفیت سے نکل آتے ہیں جس کا شکار وہ ہم جنس پرست ہونے اور اپنا ساتھی نہ ملنے کے باعث رہتے تھے ۔
جبکہ بھارتی سپریم کورٹ بھی کچھ اسی قسم کا سوال پوچھتی ہے کہ آخر ہم جنس پرستی غیر فطری عمل کیسے ہے؟ عدالت کا کہنا ہے کہ کیا سروگیٹ مائیں ( کرائے پر مادر رحم دینے والی خواتین) اور ٹیوب کے ذریعے پیدا ہوئے والے بچے بھی فطرت کے خلاف ہیں؟
اس وقت دنیا بھر کے 113ممالک میں ہم جنس پرستی کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ جن میںمالی، اردن، کاغستان، ترکی، تاجکستان، کرغزستان، بوسنیا اور آزربائیجان جیسے 9مسلمان ممالک بھی شامل ہیں اور 76ممالک میں غیر قانونی ہے ۔

یہ بھی پڑھئے :عورت اپنے خاوند کی جنسی ضروریات پوری نہ کرے تو
پاکستان میں بھی اگرچہ ہم جنس پرستی قابل تعزیر جرم ہے لیکن اب کچھ غیر ملکی سفارت کار خصوصاً امریکی سفارت کار ہم جنس پرستی کو پرموٹ کر رہے ہیں۔ امریکی سفارتخانے کے چارج ڈی افیئرز اور سینئر سفارتکار رچرڈ ہوگ لینڈ پاکستانی ہم جنس پرستوں کو یکجا کرنے میں پیش پیش ہیں۔ امریکہ نے تمام ”گیز“ کو مدد کا یقین دلایا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ قبل امریکی سفارتخانے میں ہم جنس پرستوں کاایک اجتماع امریکی تنظیم ”گے اینڈ لزبین فارن افیئرز ایجنسی“ کے تعاون اور اشتراک سے ہوا تھا۔ جس میں امریکی ہم جنس پرستوں کے علاوہ پاکستانی ہم جنس پرستوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ان میں نہ فقط ہم جنس پرستی کا شوق اور شغف رکھنے والے اور رکھنے والیاں موجود تھیں بلکہ ایڈز کی روک تھام کا لباس پہنے ہوئے ہم جنس پرستوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم گے، لیسبین، ہائی سیکسوڈل اینڈ ٹرانس جینڈر (جی ایل بی ٹی) کے عہدیداروں اور ممبران نے خصوصی حصہ لیا۔ جبکہ دیگر چھوٹی چھوٹی تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے۔

Image result for homosexualاس اجتماع کی خبر افشاءہوتے ہی پاکستانی معاشرے کے مختلف طبقات کی طرف سے ردعمل دیکھنے میں آیا۔ حسب توقع مذہبی عناصر اس اجتماع کے خلاف پیش پیش رہے۔جبکہ سیاسی وسماجی طبقات نے بھی اپنے محدود انداز میں اس اجتماع کی آڑ میں کی جانے والی اصلی کوششوں کی مذمت کی۔ ایک مذہبی طلباءتنظیم نے اب تک اس موضوع کو اپنے اجتماعات اور احتجاج کا حصہ بنایا ہوا ہے لیکن جس طرح توقع کی جارہی تھی کہ مذہبی طبقہ اس اہم ایشو پر اور وہ بھی امریکی سفارت خانے کے ایماءپر ہونے والی حرکت کے خلاف ملک بھر میں سراپا احتجاج ہوجائے اس توقع کا عشر عشیر بھی پورا نہیں ہوا۔
اس اجتماع میں امریکی سفارتکاروں نے پاکستانی ہم جنس پرستوں کو یقین دلایا کہ وہ کسی بھی حالت میں انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ یاد رہے کہ اس پہلے عراق اور افغانستان میں بھی امریکی سفارتکار ہم جنس پرستوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر چکے ہیں۔
ماہر عمرانیات کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرستی کا کوئی ٹھوس جواز نظر نہیں آتا کیونکہ اس کا سب سے بڑا نقصان کسی مذہب یا مسلک کو نہیں بلکہ براہ راست انسانیت کو ہے۔ اگر سارے مرد ہم جنس پرست ہوجائیں یا ساری عورتیں اس شوق کی اسیر ہوجائیں تو انسانیت کی بقاءکا کیا ہوگا؟ اگر نسل انسانی منقطع ہوجائے انسانوں کی پیدائش اور بڑھوتری کا سلسلہ ہی ختم ہوجائے تو کائنات کا وجود ‘ سائنس کی تحقیقات اور ارتقاء‘ اور علو م وفنون کے تمام راستے مسدود ہوکر بالآخر یہ زمین اور کائنات انسانوں کے وجود سے ہی خالی ہوجائے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرسارے مرد‘ اور ساری عورتیں ہم جنس پرست ہوجائیں تو شاید کائنات میں موجود انسان ایک صدی کے اختتام سے پہلے ہی ختم ہوجائیں۔

یہ بھی پڑھئے: عورتیں کب جنسی عمل کی طلب محسوس کرتی ہیں؟
طبی ماہرین ہم جنس پرستی کو خالصتا نفسیاتی معاملہ قرار دیتے ہیں اور ہم جنس پرستوں کی طرف سے دئیے جانے والے فطرت سے متعلقہ جوازوں کو ماننے کے لیے تیار نہیں اور بتاتے ہیں کہ ہم جنس پرست خواتین حضرات اگرچہ کتنے ہی تعلیم یافتہ اور اعلی اقدار و شعور کے حامل کیوں نہ ہوں لیکن اس معاملے میں وہ نفسیاتی اور جنسی مریض کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا جب انسان ہم جنس پرستی کے اس لطف سے آشنا اور اس علت کے عادی ہوجاتے ہیں تو اسے بعض اوقات فطرت کا لباس پہنانے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض اوقات خلقت میں شامل کر لیتے ہیں اور پھر اپنے اس سلسلے کو مستقل اور قائم رکھنے کے لیے قوانین بنوانے کی جدوجہد شروع کردیتے ہیں۔
ہم جنس پرستوں کی عالمی تنظیم International Lesbian, Gay, Bisexual, Trans and Inter-sex Association( آئی ایل جی اے) 1978 میں معرض وجود میں آئی ۔ جس کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں بسنے والے ہم جنس پرستوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ اب یہ تنظیم 110ممالک میں کام کر رہی ہے۔
آئی ایل جی اے کو 2008میںاس وقت شہرت ملی کہ جب اس کی کوششوں سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پہلی مرتبہ ہم جنس پرستوں کے حقوق کی توثیق کی۔ اس موقع پر گرما گرم بحث ہوئی اعلامیہ کے حق میں 23 جبکہ مخالفت میں 19 ووٹ پڑے۔ اس اعلامیہ کے حق میں امریکہ ، یورپی یونین ، برازیل اور دیگر لاطینی امریکی ممالک نے ووٹ دیا جبکہ روس ، سعودی عرب ، نائجیریا ، پاکستان نے مخالفت کی ہے جبکہ چین اور دیگر ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔ موریطانیہ سمیت کچھ ممالک نے اس قرارداد کو انسانیت کے بنیادی حقوق کو تبد یل کرنے کی کوشش قرار دیا ۔

یہ بھی پڑھئے:صبح کے وقت جنسی قربت کیوں بہترین ثابت ہوتی ہے؟
جن ممالک میں ہم جنس پرستی کی اجازت ہے ان میں سے بیشتر ممالک میں اب اسی موضوع پر فلمیں بھی بن رہی ہیں۔ جیسے اب بھارت میں با لی ووڈبھی ہم جنس تعلقات پر فلمیں بن رہی ہیں۔ جس میں “مامی ” نامی فلم بہت اہم ہے۔دوستانہ ون اور دوستانہ ٹو بھی اسی نوعیت کی فلمیں ہیں۔ اسی طرح ترکی میں فلم Zenne میں ہم جنس پرستی سے متعلق ایک حقیقی واقعے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ واقعہ 2008میں پیش آیا تھا جب 26سالہ طالب علم، احمد یلدز کو استنبول میں اس کے فلیٹ کے باہر اس کے والد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔کیونکہ اس کا والد اپنے بیٹے کو ایک ہم جنس پرست کے طور پر دیکھنا برداشت نہ کر پایا تھا۔اس فلم کو ترکی کے مذہبی حلقوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق یہ فلم ہم جنس پرستی کی حمایت میں پروپیگنڈا ہے۔جبکہ اس فلم نے پانچ ایوارڈ بھی جیتے ہیں۔ایک ملین ڈالر کی لاگت سے تیار کی گئی اس فلم کی مالی معاونت ہالینڈ کے سفارت خانے نے کی تھی۔
اب تو بھارت میں مرد ہم جنس پرست جریدے ”تفریح“ کی اشاعت شروع ہو چکی ہے ۔یہ میگزین جب مارکیٹ میں آتا ہے تو ہاتھوں ہاتھ بک جاتا ہے۔ اس میگزین کی اشاعت جولائی2011 میں شروع کی گئی تھی۔ جس میں نوجوانوں اور جنسی مسائل سے متعلقہ مضامین کے ساتھ ساتھ انڈرویئر پہنے ہوئے ماڈلز اور جدید کاروں کی تصاویر شائع کی گئیں تھیں۔

یہ بھی پڑھئے:
ہم جنس پرستی کے حوالے سے برطانیہ میں اپنی نوعیت کے پہلے مقدمے کی سماعت بھی جاری ہے کہ جس میں تین مسلمانوں کو ہم جنس پرستی کے خلاف نفرت پھیلانے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ان افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے ایسا تحریری مواد تقسیم کیا جس میں کہا گیا تھا کہ معاشرے کو ہم جنس پرست خواتین اور مردوں سے چھٹکارا دلوانے کے لیے سزائے موت جائز ہے۔انہیں اس نئے انگلش قانون کے تحت قصوروار پایا گیا جس میں لوگوں کے جنسی میلان کی بناء پر ان سے نفرت کرنے پر ابھارنا ایک جرم ہے۔

Image result for homosexualہم جنس پرستوں کی شادی جائز قرارد دینے اور اس کا قانون بنانے سے برطانوی معاشرتی اخلاقی گراوٹ دن بدن بڑھ رہی ہے اور سرکاری طور پر بتایا گیا کہ اس قانون سے ”استفادہ “کرنے کیلئے رجسٹریشن کرانے والے جوڑوں کی تعداد پچاس ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ قومی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق برطانوی معاشرے میں جوڑے بننا اور ٹوٹنا معمول بن چکا ہے۔ ان جوڑوں میں ہم جنس پرست مردوں کے ساتھ ساتھ ہم جنس پرست خواتین بھی شامل ہیں۔ برطانیہ نے ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں کو باہم ”شادی“ کرنے کا قانون ”سول پارٹنرشپ“دسمبر 2005ءمیں بنایا تھا۔
بہرحال دنیا اب ایک ایسے دورائے پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں کچھ عرصہ پہلے کی برائیاں اچھائیاں بنتی جا رہی ہیں اور اچھائیاں برائیوں میں بدلتی جا رہی ہیں۔ اب یہ دنیا کہاں جا کر رکے گی اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
آئی ایل جی اے کی رپورٹ کے مطابق جرمنی میں ہم جنس پرستی کو 1968میں قانونی قرار دیا گیا جبکہ یونان میں 1951،امریکہ 2003، آسٹریلیا اور ہنگری 1962، آئس لینڈ 1940، آئرلینڈ 1993، اٹلی 1890، کوسوو 1994، لٹویا 1992، لیتھونیا 1993، لگسمبرگ 1795، برکینا 2004، چاڈ ، کانگو، آئیوری کاسٹ ،گنی، 1931گبون ، گنی بساﺅ 1993، مڈاگاسکر ، مالی ، نائیجر، روانڈا، جنوبی افریقہ 1998، کمبوڈیا ، چین 1997، مشرقی تیمور 1975، بھارت 2009، انڈونیشیا، اسرائیل 1988، جاپان 1882، اردن 1951، کازکستان 1998، کرغستان 1998، لاﺅس ، منگولیا 1987، نیپال 2007، شمالی کوریا، فلپائن ، جنوبی کوریا، تائیوان 1896، تاجکستان 1998، تھائی لینڈ 1957، ترکی 1858، ویتنام البانیہ فلسطین 1995، انڈورہ ، آرمینیا2003، آسٹریا 1971، آزربائیجان 2000، بلجیم 1795، بوسنیا 1998، بلغاریہ 1968، کروشیا 1977، سائپرس 1998، چیک رپبلک 1962، ڈنمارک 1933، اسٹونیا 1992، فن لینڈ 1971، فرانس 1791، جارجیا 2000، میکوڈینیا 1996، مالٹا 1973، مالدیپ 1995، مناکو1793، مانٹیگرو1977، نیدر لینڈ 1811، ناروے 1972، پولینڈ 1932، پرتگال 1983، رومانیہ 1996، روس 1993، سان مارنیو 1865، سر بیا 1994، سلاوکیہ 1962، سلوانیا1979، سوئٹزرلینڈ 1942، یوکرائن 1991، برطانیہ 1929، ویٹی کن سٹی 1929، ارجنٹائن1887، باہاماس1991، بلوویا1831، برازیل 1831، کوسٹ ریکا1971، چلی 1999، کولمبیا 1981، کیوبا 1979، ایکاڈور1997، سالواڈور ، گوئٹے مالا، ہیٹی، ہنڈراس1899، میکسیکو 1872، نکاراگوا 2008، پاناما 2008، پیراگوئے 1880، پیرو 1836، سورینام 1869 ، اوگرائے 1934، وینزویلا ، فیجی 2010، مارشل آئی لینڈ 2005، نیوزی لینڈ 1986 میں ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دے دیا گیا تھا ۔
آئی ایل جی اے کی رپورٹ کے مطابق ایران ، سعودی عرب، ماریطانیہ، یمن ، پاکستان اور سوڈان سمیت 76ممالک میں ہم جنس پرستی پر پابندی ہے اور اس جرم میں سزائے قید سے لے کر سزائے موت تک دی جاتی ہے۔ ان ممالک میں الجیریا، انگولا، بوسٹوانہ ، بورونڈی، کیمرون ، کوموروس، مصر، ایریٹیریا، ایتھوپیا، گیمبیا، گنی، کینیا، لائیبیریا، لیبیا، ملاوی، مراکش، موزمبیق، نائیجریا، سینیگال، سیریا لیون ، صومالیہ، تنزانیہ، یوگنڈا، زمبابوے، افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، برونائی، برما، کویت، لبنان، ملیشیائ، عمان، قطر، سنگاپور، سری لنکا، شام، ترکمانستان، متحدہ عرب امارات، ازبکستان، یمن، برمودہ اور جمیکا وغیرہ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: عورتوں کی زندگی کے جنسی راز

Image result for homosexual

جب ہم جنس پرستی کی ریسرچ کا آغاز ہوا تو اسے پہلے پہل ایک نفسیاتی خرابی کے طور پردیکھا جاتاتھا۔اس مسئلہ پر سائیکالوجی برسوں کے منظم مطالعہ کے بعد موجودہ پوزیشن پر پہنچی ہے۔لیکن ہم جنس پرستی سے متعلق موجودہ رویے کی جڑیں۔مذہبی قانونی اور ثقافت کی مضبوط قدروں میں پیوست ہیں۔قرون وسطی کے آغاز میں عیسائی چرچ ہم جنس پرستی کو برداشت کرتا یا کم سے کم چرچ کے باہر اسے نظر اندازکردیا جاتا تھا۔ تاہم بارہویں صدی کے آخر میں یورپ کے سیکولراور مذہبی اداروں میں ہم جنس پرستی کو قابل نفرت نگاہوں سے دیکھا جانے لگا تھا۔عیسائی مذہبی رہنما ایکویناس سینٹ اور دیگرنے اپنی تحریروں میں ہم جنس پرستی کو غیر فطری قرار دیتے ہوئے اس کی خوب مذمت کی ۔انیس ویں صدی تک ہم جنس پرستی کو فطرت کے خلاف بغاوت تصور کیاجاتھا تھا۔قانون کی نظر میں یہ بدفعلی نہ صرف قابل سزاتھی بلکہ اس کے مرتکب کو موت کی سزا بھی دی جاتی تھی۔جس کے بعد لوگ ہم جنس پسندی کی وجوہات معلوم کرنے کیلئے زیادہ دلچسپی لینے لگے۔ طب اور سائیکالوجی نے اس مسئلہ کو سمجھنے کیلئے قانون اور مذہب کے ساتھ تصادم کی راہ اختیار کرنے لگا۔19 ویں صدی کے آغاز میں لوگوں نے سائنسی طور پر ہم جنس پرستی کا مطالعہ شروع کیا۔اس وقت سب سے زیادہ یہ نظریہ حاوی تھاکہ ہم جنس پرستی ایک بیماری ہے ۔ لیکن اس نظریہ پر موثر ثقافتی اثرات صاف نظر ارہے تھے۔لیکن بیسویں صدی کے وسط میں علم نفسیات میں ہم جنس پرستی سے متعلق نظریات میں تبدیلی آگئی تھی۔ماہرین نفسیات کو یقین ہوگیاتھاکہ تھراپی کے ذریعے ہم جنس پرستی کا علاج کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح دیگر جینیاتی اور ہارمونل نظریات بھی قبول کرلئے گئے تھے۔ان دنوں ہم جنس پرستی کو عالمی مرضpathological کے طور پر نہیں بلکہ مختلف حالت کے اعتبارسے دیکھا جانے لگا تھا۔
سگمنڈ فرایڈ اور ہیولاک ایلس کی طرح کچھ ماہرین نے ہم جنس پرستی پر مزید قابل قبول مؤقف اختیار کیا ہے ۔ فرایڈ اور ایلس کا خیال تھا کہ کچھ افراد میں ہم جنس پرستی عمومی نتیجہ کے طور پر ابھرتی ہے ۔ الفریڈ کینسے کی ریسرچ اور مطبوعہ تحریرات میں سماجی اور ثقافتی نقطہ نظر کے تحت اس سے متعلق ابنارمل حالت سے دوری اختیار کی گئی ۔ نفسیاتی مطالعہ میں اس نقطہ نظر کی منتقلی کو پہلی مرتبہ 1952 میں (Diagnostic Statistical Manual (DSM کے ورژن میں پیش کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے ۔ لیکن 1973 میں اسے حذف کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: بہت زیادہ جنسی عمل کرنے سے انسان پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

نفسیاتی تحقیق کے اہم مباحث
ہم جنس پرستی کے اہم نفسیاتی تحقیق کو پانچ اقسام میں تقسیم کیا گیاہے:
1۔ وہ کیا وجوہات ہیں کہ کچھ لوگ اپنی ہی جنسی کی طرف مائل ہوتے ہیں ؟
2۔ کن وجوہات کی بنیاد پر ہم جنس پرست عوامی امتیاز کا شکار ہوتے ہیں۔ اور کیونکر یہ متاثر کن ہوسکتا ہے؟
3۔ ہم جنس پرستی کی عادت سے کسی کی عمومی اور نقسیاتی صحت متاثر ہوتی ہے ؟
4۔موافق ساجی حالات کی تبدیلی کیلئے کونسےکامیاب طریقہ کار اختیار کئے جاسکتے ہیں ؟کیوں کچھ لوگوں کیلئے ہم جنس پرستی مرکزی شناخت رکھتی ہے جبکہ دیگرکیلئے ضمنی شناخت کی حامل ہے۔؟
5۔ہم جنس پرستوں کے بچے کیسے پرورش پاتے ہیں۔؟

ہم جنس پسندی کی وجوہات

ہم جنس پسندوں اور Bisexual ہونے کی وجوہات پر اتفاق نہیں پایا جاتا ہے۔ بہت سے مذاہب میں ہم جنس پسندی یاBisexual کو گناہ سمجھا جاتا ہے ۔ کچھ مذاہب میں اسے اختیاری طور پر یعنی آدمی کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ لیکن بہت سے جدید سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہم جنس پسندی اختیاری نہیں بلکہ جینیاتی اور پیدائش سے قبل ہارمون کے زیر اثر (جب بچہ رحم مادرمیں ہوتا ہے) ہوتا ہے ۔ بعض اوقات ماحول کی وجہ سے بھی آدمی اس کا عادی ہوجاتا ہے ۔ یہ بات تقریبا طئے ہے کہ اب تک ہم جنس پسندی کے پختہ وجوہات کا علم نہیں ہوسکا ہے ۔
اسی طرح بہت سے سائنسداں او ر ڈاکٹرز اس بات پر بھی متفق ہیں کہ ہم جنس پسندوں کے رویے کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے ۔پہلے ڈاکٹر اسے ایک ذہنی بیماری سمجھ کر علاج کرتے تھے لیکن آج بہت سے ملکوں میں ہم جنس پسندی کو ذہنی بیماری کے زمرے سے نکال دیا گیا ہے ۔ تاہم کچھ مذہبی کمیونٹیز آج بھی ہم جنس پرستی کے علاج کی کوششوں میں سرگرم ہیں۔ہم جنس پرستی کے علاج کو Reparative طب کہا جاتا ہے ۔
اس قسم کے علاج میں بہت سے ہم جنس پرستوں نےخودکوHeterosexual ( جنس مخالف کی طرف مائل ) بنانے کی بھی کوشش کی ہے ۔ ان کا دعوی ہے کہ علاج سے ان میں تبدیلی بھی آئی ہے، لیکن بہت سے لوگ ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے ۔

یہ بھی پڑھئے: کس عمر کے مرد جنسی طور پر زیادہ فعال ہوتے ہیں؟

مختلف جانوروں میں ہم جنس پسندی

Image result for homosexual animals

ماہرین کا ماننا ہے کہ ہم جنس پسندی اور مخنثانہ صفت (Transgender) صرف انسانوں میں ہی نہیں بلکہ بہت سے مختلف انواع کے جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے ۔ جیسے پینگوئن، چمپنزی اور ڈالفن میں بھی ہم جنس پرستی دیکھی گئی ہے ۔ کچھ جانور تو انسانوں کی طرح زندگی بھر اس فعل کے عادی رہتے ہیں۔اس میں جنسی فعل، محبت، دوہم جنسوں کے تعلقات اور سرپرستانہ طرز عمل بھی شامل ہیں۔
محقق Bruce Bagemihl کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم جنس پرست رویہ تقریبا 1500 انواع کے جانوروں میں پایاجاتاہے۔Bruce Bagemihl کا یہ جائزہ 1999 میں کیا گیا تھا۔جائزہ کے مطابق 1500میں سے 500 جانوروں کے انواع سے متعلق بہترین دستاویزات بھی تیار کی گئی ہیں۔ مختلف جانوروں میں یہ جنسی رویے بھی مختلف شکلوں میں پائے جاتے ہیں۔بلکہ ایک ہی نوع کے مختلف جانوروں میں بھی جنسی رویہ مختلف پایا گیا ہے۔ جانوروں میں اس رویہ کے مضمرات کو مکمل طور پر سمجھنا ابھی باقی ہے۔جبکہ کئی انواع کے جانوروں کی ہم جنس پرستی کی وجوہات کامطالعہ کیاجاچکاہے۔ Bagemihl کا کہنا ہے کہ جانوروں کی دنیامیں homosexual، bisexual اوربازتخلیقی سیکس سمیت دیگرجنسی تنوع کثیرتعدادمیں پایاجاتاہے۔ سائنسی برادری اور سوسائٹی کے مقابل جانوروں کی دنیا زیادہ جنسی تنوع رکھتی ہے۔

ہم جنس پرستوں کو درپیش مشکلات

آج کے ماڈرن زمانے میں مغربی ممالک میں ہم جنس پرستی کو تسلیم کیاجاتاہے۔بیشتر مغربی ملکوں میں ہم جنس پرستوں کو تشدد اور امتیازی سلوک سے بچانے کیلئے باقاعدہ قانون سازی بھی ہے۔کئی ملکوں میں ہم جنس پرستوں کو امتیازی سلوک کا سامنا ہوتا ہے۔ ان ملکوں میں ہم جنس پرست کو ملازمت سے برطرف کردیا جاتاہے۔ اگرچہ وہ خواہ کتنا ہی اچھا ملازم ہو۔ ہم جنس پرستوں کو کرایہ پر مکان کے حصول اور ریستورانٹس میں کھانے سے محروم رکھا جاتا ہے۔بعض مسلم ملکوں میں اس قبیح فعل کے عادی افراد کو جیل میں ڈالا جاتا ہے جبکہ ان کو موت کی سزا بھی دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 1979کے بعد سے ایران میں تقریبا 4000 ہم جنس پرستوں کو پھانسی دی گئی ہے ۔ برطانیہ میں بھی پہلے ہم جنس پرستی کو جرم قرار دیا جاتا تھا۔لیکن آج انھیں قانونی تحفظ حاصل ہے۔ اس قانون کے مطابق بالغوں کے بیچ جنسی تعلقات جرم نہیں ہے۔یہاں ہم جنس پرست مرد اور خواتین آپس میں شادی تو نہیں کرسکتے، لیکن ان کے درمیان شہری شراکت داری ہوسکتی ہے جس کے تحت شادی سے متعلق کچھ حقوق اور فوائد حاصل ہوسکتے ہیں. ہم جنس پرست مرد فوج میں ملازمت حاصل کرسکتے ہیں.وغیرہ۔۔

عالمی قانون سازی

سانچہ:اقوام متحدہ
اقوام متحدہ تمام اداروں رکن ملکوں کو ہم جنس پسندوں کے حقوق کے تحفظ کی تلقین کرتا ہے۔اس عالمی ادارے کے مطابق ہم جنس پرستی یا جنسی ترجیحات کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک اور تشدد کے خلاف بھی اسی سختی سے کارروائی کی جائے جیسی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف کی جاتی ہے۔
کچھ ملکوں میں ہم جنس پرستوں کو شادی کرنے کی اجازت ہے۔ان ملکوں میں ہالینڈ، ناروے، بیلجیم، اسپین، جنوبی افریقہ، سویڈن اور کینیڈا شامل ہے۔ہالینڈ میں سب سے پہلے ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت ملی۔ہالینڈ میں یہ قانون 2001 میں منظور ہوا تھا۔اسپین میں 2005 میں اسے قانونی حیثیت عطا کی گئی۔سب سے آخری میں کینیڈا نے ان شادیوں یعنی ’’گیے میریج‘‘ کو تسلیم کیا۔سویڈن کے اسٹاک ہوم جیسے مغربی تہذیب کے مراکزمیں ہم جنسی پرستی کی شادیوں کا رواج کافی پرانا ہے لیکن سنہ 2009ء میں حکومت نے اسے قانونی حیثیت دی ۔مصر میں ہم جنس پرستی پر قانونی طور پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن معاشرے میں اس کو اب بھی برا سمجھا جاتا ہے۔

سانچہ:ایران میں ہم جنس پرستی

Image result for homosexual in iran
ایران میں ہم جنس پرست مردوں یا خواتین کو اپنی جنس تبدیل کروانے پر مجبور کرنا سرکار کی پالیسی نہیں ہے، لیکن ان لوگوں پر شدید دباؤ ہوتا ہے۔80کی دہائی میں ایران کے آیت اللہ خمینی نے لوگوں کو اپنی جنس بدلوانے کی اجازت دینے کا فتویٰ جاری کیا تھا۔حکومت کی پالیسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ مخنث ایرانیوں کو اپنی زندگی کو پوری طرح جینے میں مدد دی جا رہی ہے اور انھیں دوسرے ممالک سے زیادہ آزادی حاصل ہے۔لیکن خدشہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو بھی جنس کی تبدیلی کی سرجری کی طرف مائل کیا جا رہا ہے جو مخنث نہیں، بلکہ ہم جنس پرست ہیں۔سال 2006 میں 170 سرجریز کی گئی تھیں جو 2010 میں 370 ہو گئیں۔ لیکن ایک ایرانی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ صرف وہ ہر سال کم از کم 200 آپریشن کرتے ہیں۔

پاکستان میں بھی ہم جنس پسندوں کے باقاعدہ زیرزمین اجتماعات ہوتے ہیں اور پاکستانی ہم جنس پرستوں کے بیرون ملک تنظیموں سے بھی رابطے ہیں۔پاکستانی قوانین میں اس فعل بد کو جرم قرار دیا گیاہے اوراس کے مرتکبین کو دس سال قید یا کوڑے کی سزا دی جاتی ہے۔

ہم جنس پرستی اور علم نفسیات

ہم جنس پرستی کے موضوع پر سب سے پہلے علم نفسیات نے ایک مجرد رجحان کے طور پرمطالعہ کیا ۔ بیسوی صدی سے پہلے اوراس صدی میں جنرل سائیکولوجی نے pathological ماڈل کے لحاظ سے ہم جنس پرستی کو ایک ذہنی بیماری کے طور پرجانچ کی ۔اس ریسرچ کیلئے ہم جنس پرستی کی درجہ بندی کی گئی۔لیکن یہ ریسرچ سائنسی طورپراسےابنارمل اور ڈس‌آرڈر کی حیثیت سے پیش کرنے کیلئے مسلسل ناکام رہی۔جس کے نتیجہ میں ایسی accumulated research ۔ماہرین طب و دماغی صحت سمیت بھیویرئیل اورسوشل سائنس نے ہم جنس پرستی کو ایک ذہنی بیماری کے طورپر درجہ بندی کرنے کی مخالفت کی ہے۔ یادرہے کہ ڈی سی ایمدرجہ بندی ایسے خیالات کی عکاسی کرتی ہے جس کی جانچ پختہ طور پر نہیں کی گئی ہو۔یہ خیالات کسی زمانے میں مقبول سماجی معیاراورunrepresentative نمونوں کے clinical impressions پرمبنی ہیں ۔ یہ خیالات علاج کے خواہیش مند مریضوں اوران مریضوں کومجرمانہ نظام انصاف میں گھسیٹنے والوں کے ہیں۔
1970 کے بعد سے behavioral۔social sciences اور صحت اور ذہنی صحت کے پروفیشنلس نے عالمی سطح پراس بات سے اتفاق کیاہے کہ ہم جنس پرستی انسانی جنسی رجحان کی ایک عام تبدیلی ہے۔ لیکن وہ لوگ جو اسے ڈس‌آرڈر سمجھتے ہیں آج بھی اپنے خیالات پرقائم ہیں۔ 1973 میںAmerican Psychiatric Association نے ہم جنس پرستی کو ایک ذہنی خرابیmental disorder کی درجہ بندی سے خارج کردیا ہے۔اس کےبعد American Psychological Association Council کے نمائندوں نے 1975میں اوردیگردماغی صحت کے تنظیموں سمیت 1990 میں عالمی ادارہ صحتنے بھی آخرکاراسے declassified کردیاتھا۔جبکہ American Psychiatric Association اور American Psychological Association کاماننا ہے کہ حالیہ ریسرچ اورکلنیکل لٹریچرواضح کرتے ہیں کہ ہم جنس پرستی۔ہم جنس کی طرف رومانی طورپر راغب ہونا ،احساسات ہونا انسانی جنسیات کے نارمل اورمثبت تنوع ہے۔

فرائیڈ اور تحلیل نفسی

ہم جنس پرستی سے متعلق سگمنڈ فرائیڈ کے خیالات پیچیدہ تھے ۔ انھوں نے ہم جنس پرستی کے فروغ اور وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ وہ سب سے پہلے bisexuality کی وضاحت کرتا ہے ۔ اس کا کہنا کہ دوجنسیت پرستی دراصل جنسی طلب کا ایک عام حصہ ہے ۔”اس کا مطلب یہ ہوا کہ سگمنڈ فرائیڈ کا ماننا ہیکہ تمام انسان پیدائشی طور پر دوجنسیت پرست ہوتے ہیں ۔ ان کا ماننا ہیکہ libido شہوت یا جنسی لیاقت میں ہم جنس پرستی ہم جنس پسندی اور مخالف جنس پرستی heterosexual کی خواہیش ہوتی ہے ۔یہ دراصل ایک دوسرے پر جیت کا course of development ہے۔ وہ قدرتی bisexuality کیلئے بنیادی حیاتیاتی وضاحت پر یقین رکھتا ہے ۔ اس کے مطابق انسان حیاتیاتی طور پر دونوں اقسام کے سکیس کیلئے پروان چڑھتا ہے ۔ اس لئے وہ وضاحت کرتا ہیکہ ہم جنس پرستی عوام کو دستیاب مختلف جنسی متبادلات میں سے ایک ہے۔
فرائیڈ نے تجویز پیش کی کہ انسانی موروثیت bisexuality کی طرف رہنمائی کرتی ہے ۔ اسی رہنمائی کی وجہ سے افراد بالآخر منتخب کرتے ہیں کہ جنس پرستی کا کونسا طریقہ زیادہ تسکین بخش ہے ۔ لیکن ثقافتی پابندیوں کی وجہ سے لواطت پرستی کے جذبات بہت سے لوگوں میں دب کر رہ جاتے ہیں ۔ فرائیڈ کے مطابق اگر کوئی پابندیاں نہ ہو تو عوام اس طریقہ کار کا انتخاب کریں گے جسے وہ زیادہ تسکین بخش سمجھتے ہیں ۔ اسی طرح وہ پوری زندگی گذار دیں گے ۔ کبھی ہم جنس پرست تو کبھی مخالف جنس پرست بن کر۔
ہم جنس پرستی کے دیگر اسباب میں وہ معکوس لاشعوری پیچیدگی( Oedipus complex )کوبھی شامل کرتاہے جس کے تحت ایک لڑکا خود اپنی ماں اور لڑکی اپنے باپ کے ساتھ جنسی تعلقات کے خواہیش مند ہوتے ہیں۔اس خواہیش کو خودپرستی کہا جاتا ہے۔فرائیڈ کا خیال تھا کہ جن میں خودپرستی کی خاصیت زیادہ ہوتی ہے ان میں ہم جنس پرستی کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہیکہ ہم جنس سے محبت خودپرستی کی توسیع ہے۔

مخالف ہم جنس پسندوں کا موقف

Image result for dead sea area

بحیرہ مرداربحیرہ مردارکے جنوبی حصے میں سدوم اور عمورہ کا علاقہ ہے۔ جب حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام اس علاقے میں آباد تھے تو یہ علاقہ دور دور تک سرسبز و شاداب تھا۔ لیکن یہاں آباد قوم بدکاری سمیت ہم جنس پرستی کے مرض میں مبتلا تھی۔سیدنا لوط علیہ الصلوۃ والسلام نے لوگوں کو اس بدکاری سے روکا تھا۔لیکن اس بدبخت قوم نے اللہ کے اس نبی پر ایمان لانے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ اپنی برائی پر قائم رہے۔جس کے باعث قوم لوط پر اللہ کا عذاب آیا۔ قرآن مجید کے مطابق انھیں مٹی کے دہکتے پتھروں کی بارش برسا کرہلاک کردیا گیاتھا۔
قرآن مجید میں قوم لوط کے ذکر کے ساتھ اس بدفعلی کا بھی بیان ہے ۔سدوم اور قدیم یونان کے لوگوں کو چھوڑ کر پوری تاریخ انسانیت میں ہم جنس پرستی کو ایک برائی کی حیثیت ہی حاصل رہی ہے۔دین اسلام اس فعل بد کو حرام قراردیتاہے اور ہم جنس پرستی کے مرتکبین کیلئے دنیا اور اخرت میں المناک سزا مقرر کی گئی ہے۔

ترمذی شریف کی حدیث ہےکہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
( تم جسے بھی قوم لوط کا عمل کرتے ہوئے پاؤ تو کرنے والے اور جس کے ساتھ کیا گیا ہو (اگر وہ اس فعل پر راضی ہو) دونوں کو قتل کردو)
ائمہ فقہ امام شافعی، امام مالک، اور امام احمد اور اسحاق رحمہم اللہ تعالی کا کہنا ہیکہ انھیں رجم کی حد لگائی جائے گی چاہے وہ شادی شدہ یاکنوارہ ہو۔یاد رہیکہ بعض اوقات اللہ تعالی اپنے بندوں کو سختیوں میں مبتلا کرکے ان کے ایمان کو آزماتا ہے،ان کے گناہ معاف کرتا ہے اور ان کے درجات بلندکرتا ہے لیکن اللہ کسی بندے کو گناہ پر مجبور کرکے اسے عذاب نہیں دیتا۔یہ اللہ تعالی کے عدل کے خلاف ہے۔مخلوق اپنی مرضی اور اختیار سے گناہ کرتی ہے اور سزا کے مستحق ٹھرتی ہے۔
آج مغربی ملکوں میں ایک اقلیتی گروہ اس بدفعلی کی حمایت میں سرگرم ہے۔اس بدکاری کے مخالفین کا کہنا ہیکہ مباشرت ہم جنسی قطعی طور پر فطری وضع کے خلاف ہے۔آج ہم جنس پرستوں کے حامی اپنے غلیظ پروپیگنڈا کے تحت بائیو کیمسٹری کے کچھ تصورات کو توڑ مروڑ کر پیش کررہے ہیں۔
ہم جنس پرستوں کا دعوی ہیکہ انسان کے جسم و دماغ میں کچھ ایسے کیمیکلز ہیں جن کے باعث اس کا فطری میلان صنف مخالف کی بجائے اپنی ہی صنف کی طرف ہو جاتا ہے۔ یہ میلان ان کے ڈی این اے میں بھی پایا جاتا ہے۔ان کا کہنا ہیکہ یہ بدکاری اختیاری نہیں ہوتی اس لیے معاشرے کو ہم جنس پرستوں کو قبول کر لینا چاہیے۔لیکن معاشرے کو برے اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے ہم جنس پرستوں میں پائے جانے والے کیمیکلز کا علاج کیا جانا چاہئے۔ جینز اور ڈی این اے کا مفروضہ ایک غیر ثابت شدہ پروہیکنڈہ ہے۔تحقیقات کے مطابق لوگ کم عمری میں بری صحبتوں کا شکار ہو کر اس گناہ کے عادی ہوجاتے ہیں۔عمر کے ساتھ ساتھ یہ عادت پختہ ہوجاتی ہے۔ کسی اچھے ماہر نفسیات بالخصوص ہپناٹسٹ یا پھر اچھے سائیکاٹرسٹ کی مدد سے ان عادات سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

ہم جنس پرستی بڑھتی ہوئی اور ایڈز کے خطرات بھی

یورپی ملک برطانیہ میں قریب ایک لاکھ دس ہزار افراد ایچ آئی وی کے مہلک وائرس کا شکار ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں اس تعداد میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔
المیہ یہ کے ایچ آئی وی کے شکار ہر چار میں سے ایک شخص میں اس مرض کی تشخیص نہیں ہوئی ہے اور اُسے اس مرض کا شکار ہو جانے کا علم ہی نہیں ہے۔ یہ حقائق نیشنل ایڈز ٹرسٹ کی طرف سے سامنے لائے گئے ہیں۔
برطانیہ میں محض 2013ء میں چھ ہزار افراد میں ایچ آئی وی وائرس کی تشخیص ہوئی۔ ان میں سے نصف سے زیادہ تعداد ’ہم جنس پرست‘ مردوں کی تھی۔ اسی سال برطانیہ کے ایک معروف اور متعدد ایوارڈ یافتہ ڈرامہ ہدایت کار اینڈریو کیٹس میں بھی ایچ آئی وی کے وائرس کی اچانک تشخیص ہوئی۔ وہ بھی ایک ڈرامے کی پروڈکشن کے دوران۔ کیٹس کا تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’میں ایسے سینکڑوں انسانوں سے مل چُکا ہوں جن میں ایچ آئی وی وائرس کی تشخیص ہو چُکی ہے تاہم وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے جس کی وجہ معاشرے میں ایسے افراد کو ایک دھبہ یا کلنک کا ٹیکہ سمجھنے کا رجحان ہے‘‘۔

ایچ آئی وی ایڈز پر بننے والا ڈرامہ

Related image

ایچ آئی وی ایڈز کے موضوع پر بننے والے سب سے پہلے ڈراموں میں سے ایک As Is ہے۔ جس کے ہدایت کار اینڈریو کیٹس ہی ہیں۔ اس ڈرامے کی کہانی ایک غیرفعال ہم جنس پرست نوجوان جوڑے کے گرد گھومتی ہے۔ اس جوڑے کی زندگی نہایت افراتفری اور انتشار کی شکار اُس وقت ہو جاتی ہے جب 80 کے عشرے میں نیو یارک میں ایڈز کی وبا بُری طرح پھیلتی ہے۔
اس پلے کے 30 سال مکمل ہوئے ابھی گزشتہ بُدھ کو اور اس موقع پر اسے لندن کے ٹریفالگر اسٹوڈیوز میں پرفارم کیا گیا۔ لندن میں 1982ء میں جوناتھن بلیک نامی ایک شخص میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی تھی۔ پانچ اور سات جولائی کو As Is کی پرفارمنس کے بعد جوناتھن خود اس بارے میں کیے گئے سوالات کا جواب دے گا۔ اس کا کہنا ہے، ’’80 کے عشرے میں امریکا اور برطانیہ میں ایچ آئی وی کے بارے میں بہت ہی مایوس کُن نقطہ نگاہ پایا جاتا تھا۔ مطلق خوف و ہراس پایا جاتا تھا کہ اچھے بھلے بظاہر صحت مند نظر آنے والے ہم جنس پرست مرد اچانک انتہائی خراب حالت میں مرنے لگے‘‘۔ بلیک نے اپنے اندر ایچ آئی وی وائرس کی تشخیص کے بعد خود کُشی کی کوشش بھی کی تھی۔

ایچ آئی وی کے شکار افراد کے ساتھ زندگی گزارنا آسان نہیں ہوتا

جوناتھن بلیک کا کہنا ہے کہ برطانوی معاشرے میں ہم جنس پرست مردوں میں ایچ آئی وی کا غیر معمولی حد تک پھیلاؤ اس امر کا تقاضا کر رہا ہے کہ اسکولوں میں جنسی امور سے متعلق بہتر تعلیم پر توجہ دی جائے۔
طبی جریدے AIDS میں شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک میں جہاں ایڈز کے مریضوں کے خلاف تعصب بہت بڑھا ہوا ہے، اسمارٹ فونز پر ’سیکس ایپس‘ کی مقبولیت سے، ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے خطرات بھی بہت بڑھ رہے ہیں۔

source:firstnight.pk

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *