ابن صفی زندہ ہے

yasir pirzada

اسّی کی دہائی تھی،ابن صفی کے ناول تھے،لڑکپن کے دن تھے اوربے فکری کا زمانہ تھا۔ ابن صفی کی کتابوںکی ایسی لت پڑی کہ آج بھی اگر مجھے کہیں ایڈلاوا،ہمبک دی گریٹ، تین سنکی، بابا سگ پرست، شعلوں کا ناچ، کنگ چانگ، شوگر بینک،ڈاکٹر ڈریڈیا بوغا کا سیٹ کہیں مل جائے تو میں سارے کام چھوڑ کر وہ پڑھنے بیٹھ جاتا ہوں اور تب تک نہیں رکھتا جب تک عمران، سنگ ہی اور تھریسیا کو پچھاڑ نہیں لیتا۔ اگرا ٓپ مجھے اردو کے بہترین لکھاریوں کی فہرست بنانے کے لئے کہیں توابن صفی کا نام میرے نزدیک اس فہرست میں چمکتا دمکتا نظر آئے گا، نقاد چاہے جو بھی کہیں۔ ابن صفی کی تحریر کی پانچ خصوصیات ایسی ہیں جو کم ہی کسی ادیب میں ایک ساتھ پائی جاتی ہیں۔ پہلی، کردار نگاری۔ علی عمران، ابن صفی کا سب سے ہِٹ کردار ہے، ایک ایسا شخص جو بظاہر احمق اور معصوم نظر آتا ہے مگر حقیقت میں بے حد چالاک اور ملک دشمنوں کے لئے سفاک، بلا کا ذہین اور غضب کا فائٹر، عورتیں اُس کی معصومیت پر فدا ہیں مگر وہ عورت اور شراب سے دور بھاگتا ہے، سخت گیر والد جو محکمہ سراغرسانی کے سربرا ہ ہیں اُس کی غیر سنجیدہ حرکتو ں کی وجہ سے اپنے گھر میں دیکھنا پسند نہیں کرتے، وہ اکیلا چھوٹے سے فلیٹ میں اپنے نوکر سلیمان کے ساتھ رہتا ہے اور اپنے دوست کیپٹن فیاض، جو محکمہ سراغراسانی میں عمران کے والد کا ماتحت ہے، کی اکثر کیسوں میں مدد کرتا رہتا ہے۔ ایسے ہی ایک کیس میں اُس نے محکمہ خارجہ کے سیکریٹری سر سلطان کی مدد کی جس کے بعد اسے سیکرٹ سروس کا خفیہ سربراہ بنا دیا جاتا ہے۔ عمران کے چار روپ ہیں، پرنس آف ڈھمپ کے طور پر وہ ایک ان دیکھی ریاست کا نام نہاد پرنس ہے اور رانا تہور علی صندوقی کے محل میں رہتا ہے جو دراصل سیکرٹ سروس کا سیف ہاؤس ہے، عبدالمنان کے طور پر وہ ایک بے وقوف قسم کا خاوند ہے جو بیوی کے ہاتھوں زچ ہوتا رہتا ہے، ایکسٹو کے طور پر وہ سیکرٹ سروس کا سربراہ ہے جسے کسی نے نہیں دیکھا اور اس کے ماتحت اس کی آواز سُن کر کانپ اٹھتے ہیں اور علی عمران کے طور پر جرائم پیشہ افراد اسے ایک پولیس انفارمر کے طور پر جانتے تھے جو اکثر لوگوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر انہیں بلیک میل کرتا ہے۔ علی عمران روزانہ صبح اٹھ کر سر کے بل کھڑا ہو کر ورزش کرتا ہے اور کوئی دیکھ لے تو کہتا ہے ’’میں عبادت کر رہا ہوں!‘‘یہ ابن صفی کے تخلیق کردہ صرف ایک کردار کا خلاصہ ہے۔
یوں کئی لا زوال کردار ابن صفی نے تخلیق کیے۔ جولیانا فٹنر واٹر جو ایک سوئس عورت ہے اور سیکرٹ سروس میں ایکسٹو کے نائب کی حیثیت رکھتی ہے، عمران پر دل و جان سے فدا ہے مگر اس کی بے سروپا حرکتو ں کی وجہ سے مایوس ہے۔ جوزف، جسے عمران نے ایک مرتبہ باکسنگ کے ذریعے ناک آؤٹ کیا، اس کے بعد سے وہ عمران کا غلام ہے مگر روزانہ شراب کی چھ بوتلیں اپنے اندر انڈیلتا ہے جس کا خرچ عمران کے ذمے ہے، جوزف پرائز فائٹر ہے مگر عمران کے سامنے اس کی بھیگی بلی بنا رہتا ہے، افریقہ کے جنگلوں کا اسپیشلسٹ ہے، ان دیکھے دیوتاؤں کا پجاری اور حد سے زیادہ توہم پرست۔ اور میرا پسندیدہ قاسم جو ایک گرانڈیل شخص ہے جس کے باپ نے اس کی مرضی کے خلاف شادی ایک ایسی عورت سے کر دی ہے جو اس کے مقابلے میں نہایت دبلی پتلی اور چھوٹے قد کی ہے، اسی مناسبت سے قاسم اسے گلہری بیگم کہتا ہے، میاں بیوی کے تعلقات نہ ہونے کی وجہ سے قاسم ہر وقت دوسر ی عورت کی تلاش میں رہتا ہے مگر اپنی حماقت اور جثے کی وجہ سے ہمیشہ ناکام رہتا ہے، کیپٹن حمید اسے اکثر اس معاملے میں ’’یلایلیوں ‘‘ (لڑکیوں کا کوڈ ورڈ)کا جھانسا دے کے بیوقوف بناتا رہتا ہے۔ یہ اُن چند کردارو ں کی جھلک ہے جو ابن صفی نے تخلیق کئے، اس کے علاوہ فریدی سے لے کر تنویر تک اور علامہ دہشتناک سے لے کر ظفر الملک تک، ایک طویل فہرست ہے ابن صفی کے کرداروں کی جن پر علیحدہ سے پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔
ابن صفی کی تحریر کی دوسری خوبی منظر نگاری ہے۔ ایک چھوٹے سے گھر کے تنگ کمرے میں رکھی ایک چارپائی پر بیٹھ کر ابن صفی نے یورپ کے ساحلوں اور افریقہ کے جنگلوں کا جو نقشہ کھینچا، وہ ناقابل یقین ہے، ابن صفی نے کبھی متحدہ ہندوستان سے باہر سفر نہیں کیا مگر اُن کی تحریر پڑھ کر یوں لگتا ہے جیسے انہوں نے ہر بر اعظم کی خاک چھانی ہو۔ اُن کی تحریر کی تیسری خصوصیت اسلوب ہے۔ ابن صفی کی کتاب آپ ایک دفعہ پڑھنے کے لئے اٹھا لیں تو اسے مکمل کئے بغیر نہیں رکھ سکتے، بہت کم ادیب ایسے ہیں جن کی تحریر ایسی پُر کشش ہوتی ہے، بڑے بڑے طرم خان لکھاریو ں کی تحریروں میں یہ دم نہیں ہوتا کہ وہ آپ کو پڑھنے پر مجبور کر دیں، ابن صفی ایسے تمام طرم خانوں پر بھاری ہیں۔چوتھی خصوصیت، تحریر کی شگفتگی۔ابن صفی اپنے کردارو ں سے مزاح کا کام تو لیتے ہی ہیں مگر اپنی تحریر میں بھی جا بجا شگوفے چھوڑتے ہیں،ابن صفی کا پیشرس مزاح کا ایک عمدہ فن پارہ ہوا کرتا تھا، ایک ٹکڑا ملاحظہ ہو:’’کچھ حضرات نے ایک غلطی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ’خوفناک منصوبہ ‘ میں فریدی کی ’لنکن‘ کے تذکرے کے ساتھ ایک جگہ اچانک ’کیڈی ‘ پڑھتے ہیں اور تاؤ کھاتے ہیں مجھ پرحالانکہ قصہ دراصل یہ ہے کہ کاتب صاحب مجھ سے کئی بار کہہ چکے ہیں کہ لنکن بِکوا کر فریدی کے لئے دوبارہ کیڈیلاک خرید دوں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ میرے کان پر جوں نہیں رینگتی تو جھلاہٹ میں خود ہی کیڈی کا سودا کر بیٹھے! ‘‘اور تحریر کی پانچویں خصوصیت ابن صفی کی وسعت خیال۔ابن صفی کی کتابیں محض جاسوسی ناول نہیں بلکہ اپنے اندر وہ امکانات کا ایک پورا جہاں لئے ہوئے ہیں، کہیں وہ انسانی نفسیات کی گرہیں کھولتے نظر آتے ہیں اور کہیں فلسفے پر ذہانت سے بھرپور پھبتیاں کستے نظر آتے ہیں، اپنے ناولوں میں انہوں نے مستقبل کی جو پیش بینی کی وہ آج سائنسی ایجادات کی شکل میں ہمارے سامنے حقیقت بن چکی ہے، اُن کی بیان کردہ سائنس فکشن کوئی دیوانے کی بڑ نہیں تھی بلکہ اُس کا ایک پورا سائنسی خاکہ وہ یوں بیان کرتے کہ قاری مبہوت ہو کر اسے حقیقت سمجھتا۔ زیرو لینڈ کے نام سے انہوں نے ایک ایسی دنیا کی تخلیق کی جو زمین کے کسی ایسے خطے پر ہے جسے تا حال دریافت نہیں کیا جا سکا،یہ دنیا تھریسیا کی سربراہی میں اُن سائنس دانوں نے بسائی ہے جو ایک روز زمین پر اپنی حکومت بنا لیں گے۔زیرو لینڈ کی تلاش کے حوالے سے عمران سیریز کے سات ناولوں کا ایک سیٹ ہے جس میں ’’باول دے سوف ‘‘نامی پینٹنگ سے قصہ شروع ہوتا ہے۔ اور تھریسیا اور سنگ ہی کی گرفتاری پر ختم ہوتا ہے۔ یہ سیٹ ابن صفی کی ایک شاہکار تحریرہے۔
عمران سیریز اور کرنل فریدی کی جاسوسی دنیا میں سے زیادہ پذیرائی عمران سیریز کو ملی، جاسوسی دنیا کے کردار جیسے کیپٹن حمید، انور، رشیدہ، نیلم، فنچ اور انسپکٹر ریکھا زیادہ کامیاب نہ ہو سکے، کسی حد تک جیرالڈ شاستری کا کردار عمدہ تھا مگر ایسا نہیں کہ ذہن سے چپک کر رہ جائے۔ عوام میں عمران سیریز ہی مقبول ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ سب سے زیادہ نقالی بھی عمران سیریز کی ہوئی۔ سو عوام جسے منتخب کرلیں اسے دلوں سے نکالنا ممکن نہیں ہوتا اسی لئے ابن صفی کی عمران سیریز آج بھی عوام کے ذہنوں میں ترو تازہ ہے۔26جولائی 1980کو وفات پانے والا ابن صفی سینتیس برس بعد بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔
کالم کی دُم:آج کی تاریخ، دعوے، مٹھائیاں، پشین گوئیاں، تبصرے، تجزیے، تبرّے نوٹ فرمالیں، ان شاءاللہ جلد کام آئیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *