جی فارغاصبہ

اسد جعفری
asad jaffri
امام علی علیہ السلام کے قول سے با ت کا آغاز کرتےہیں مولا فرماتے ہیں" اقتدار شہرت اور دولت ملنے سے انسان بدلتا نہیں بلکہ بے نقاب ہو جاتا ہے "
باب العلم نےاس قول میں  پوری انسانیت کا احاطہ کردیا ہے کیوں کہ انسان   کو اللہ پاک  اقتدار ،دولت اور شہرت دے کا آزماتا ہے اب اگر انسان سمجھ دار ہو گا تو اچانک  اقتدار ،شہرت اور دولت ملنے سے  حواس باختہ نہیں ہو گا  بلکہ  اور عاجزی کا مظاہرہ کرے گااور اگر عقل سے بیدل اور ہوس دنیا کا بجاری ہو گا تو اندر چھی ہوئی شیطانیت کا اظہار  دوسرں کو  تکلیف  دے کے کرے گا  ۔ اسی طرح کے ایک کردار غریدہ فاروقی  کا  ذکراپنے گزشتہ کالم : قدرت کا انتقام میں بھی کیا ۔
 قدرت انسان سے پوچھ کے انتقام نہیں لیتی، وہ تو دیکھ رہی ہوتی کہ انسان جس  کو میں نے نعمتوں سے نوازا ہے اس پر دوسرے انسانوں کی ذمہ داری بھی عائد کر دی کہ وہ دوسرں کی مدد کرے ان کو تکلیف نہ پہنچائے، دکھ اور مصیبت میں ان کا مسیحا ثابت ہو ۔تو ایسے انسان سے خدا خوش بھی ہوتا ہے اور اس کواور زیاده عطا کرتا ہے مگرجو اللہ پاک کی دی ہوئی نعمتوں کو صرف اپنے تصرف  تک محدود کر کے دوسروں کو دھدکارتا اور خود کو ان نعمتوں جو اقتدار شہرت اور دولت کی صورت میں ملتی ہیں اہل سمجھتا ہے اور تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے تو انسان کی پکڑ شروع ہو جاتی ہے کیونکہ تکبر سوائے خدا کے اور کوئی بھی کرے صرف تباہی ہے چاہے وہ وزیر اعظم ہی کیوں نہ ہوے اللہ تو چیونٹی سے ہاتھی مروا دیتا ہے نام نہاد اینکر غریدہ فاروقی کیا چیز ہے ہم اکثر مثال سنتے تھے کہ جب گیڈر کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف رخ کرتا ہے ۔موصوفہ کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا -
اس نے اودھم مچایا ہوا تھا ہر طرف اس کے ظلم و ستم کے چرچے عام تھے چینل کے ورکر بچارے کیا کرتے کوئی پرسان حال نہ تھا۔ہوتا بھی کیسے اتنی جلدی تو وحشیہ بندے نہیں بدلتی جتنی جلدی پروڈیوسرز بدل رہے تھے انتظامیہ نے بھی تنگ آ کر  کہا محترمہ تو جان تیرا پروگرام،اپنی ٹیم خود رکھ روز روز ایچ آر پروڈیوسر تو ڈھونڈے سے رہا  ۔۔یہاں سے شروع ہوتی ہے اس کی ہٹلر گیری- خیر تب تک یہ کوئی 12 پروڈیوسرز کی بلی چڑھا چکی تھی ۔اب تو "سنچیاں ہوں جان گلیاں وچ مرزا یار پھرے " والا حساب تھا 13 مزید پروڈیوسرز کی عزت تار تار کی مگر پھر بھی اس کو شرم نہ آئی اور اپنی روش نہ بدلی  ۔ گھر کے ملازمین کو حبس بے جا میں رکھنا تو موصوفہ کا معمول تھا جو بھی اپنے گھر جانے یا تنخواہ کا ذکر کرتا متعلقہ تھانے میں ان کے خلاف پرچہ کروا دیتی ۔دھماکیاں تو ایسے لگاتی کہ جیسے خاتون اول کی امیدوار ہو ۔
ghareed
 میں اس کے ستم کے شکار باقی لوگوں کا ذکر فی الحال روکتا ہوں لیکن ایک نام کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جس نے پہلی بار اس بدتمیز عورت کو منہ توڑ جواب دیا تھا جس کے بعدیہ سناٹے میں آگئی تھی- یہ نام ہے معروف مزاح نگار اور کالم نگار گل نوخیز اختر کا-یہ قصہ بڑا دلچسپ ہے-الحمراآرٹس کونسل میں غالبا"2014کی ادبی کانفرنس میں ایک سیشن طنزومزاح پر تھا- غریدہ فاروقی کمپئرنگ کر رہی تھیں، تب تک گل نوخیز اور غریدہ فاروقی ایک دوسرے سے نہیں ملے تھے- جب گل نوخیز اختر کی مضمون پڑھنے کی باری آئی تو غریدہ نے انہیں شرارتا" یہ کہہ کر بلایا کہ "اب تشریف لاتی ہیں محترمہ گل نوخیز اختر"- اس بات پر سب لوگ ہنس پڑے-غریدہ کو نہیں پتا تھا کہ اس کا پالا کس سے پڑا ہے، گل نوخیز اطمینان سے سٹیج پر آئے تو غریدہ نے فورا" کہا" معافی چاہتی ہوں، میں اب تک آپ کو عورت سمجھتی رہی ہوں"- گل نوخیز نے مسکرا کر کہا"کوئی ایسی بات نہیں میں بھی  آپ کو عورت ہی سمجھتا رہا ہوں" یہ کہنا تھا کہ پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا اور پانچ منٹ تک مسلسل تالیاں بجتی رہیں، غریدہ فاروقی کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی-اس نے یہ بات دل میں رکھ لی کہ اب گل نوخیز کو کسی نہ کسی طرح ضرور شرمندہ کرنا ہے- جب اس کا پروگرام "جی فار غریدہ " شروع ہونے لگا تو اس نے مختلف ذرائع سے گل نوخیز اختر سے رابطہ کیا اور پروگرام کے "کانٹینٹ رائٹر" کے طور پر کام کرنے کی درخواست کی- گل نوخیزمحنتی بندہ ہے ، اس نے ساری زندگی محنت کی ہے، سکرپٹ لکھے، کالم لکھے، کتابیں لکھیں۔۔۔۔اور آج تک یہی کررہا ہے-غریدہ کی بات سن کر اس نے کہا کہ میرے پاس تو پہلے ہی کام بہت زیادہ ہے، مجھے بڑی مشکل ہوجائے گی لہذا آپ کسی اور کو رکھ لیں- غریدہ نے بھی ضد پکڑ لی کہ مجھے آپ ہی چاہئیں-مجبورا" گل نوخیز نے اسے اپنی ڈیمانڈ بتائی، جس کے بعد تقریبا" دولاکھ روپے پر گل نوخیز اختر کی خدمات بطور "کانٹینٹ رائٹر" لینے کا معاہدہ ہوگیا- یاد رہے کہ گل نوخیز اختر جو بھی کام کرتے ہیں کانٹریکٹ پر کرتے ہیں، ایکسپریس نیوز کا 8 سال سے چلنے والامعروف پروگرام"ڈارلنگ" گل نوخیز ہی لکھتے ہیں - مجھے یاد ہے جب غریدہ اور گل نوخیز اختر کی پہلی ملاقات ایکسپریس نیوز کے میٹنگ روم میں ہوئی تو میں وہاں موجود تھا- گل نوخیز اختر ہر وقت ایک شرارتی اور مسکراتے ہوئے موڈ میں رہتے ہیں، اس روز بھی انہوں نے میٹنگ روم میں داخل ہوتے ہیں بلند آواز سلام کیا اور اپنے مخصوص شرارتی انداز میں بولے" جی فار گل ۔۔۔۔اور جی فار غریدہ"- تاہم ان کے اس جملے پر غریدہ فاروقی کے چہرے پر کوئی تاثرات نمودار نہ ہوئے اور وہ سخت موڈ میں ہی رہیں- گل نوخیز اختر سے بات چلی تو غریدہ نے پہلا جملہ کہا"آپ اپنا سی وی لائے ہیں؟" یہ سنتے ہی گل نوخیز بے اختیار ہنس پڑے اور کہنے لگے" کیسا سی وی؟ "- غریدہ نے گھور کر کہا" اگر آپ نے نوکری کرنی ہے تو سی وی تو ساتھ لانا چاہیے تھا"- گل نوخیز بے نیازی سے بولے" آپ سے کس نے کہا ہے کہ میں نے نوکری کرنی ہے؟ میں تو آئوٹ سورس کانٹریکٹ پر کام کرتا ہوں"- غریدہ نے کہا " اس طرح تو پھر ناممکن ہوجائے گا"- گل نوخیز اختر نے کہا" ہوتا رہے، مجھے پھر اجازت دیجئے " یہ کہتے ہوئے وہ اٹھے اور اسی لمحے غریدہ کو احساس ہوا کہ شکار ہاتھ سے نکل رہا ہے، فورا' بولی" اوکے۔۔۔لیکن پھر آپ کو پروگرام کے دنوں میں ہر میٹنگ میں صبح 9 بجے آنا ہوگا، سکرپٹ لکھنا ہوگا اور رات کو لائیو براڈکاسٹ کے دوران پی سی آر میں بھی موجود رہنا ہوگا- میں گل نوخیز کو جانتا ہوں، وہ ساری ساری رات سکرپٹ لکھتا ہے، قلم کا مزدور ہے، اس کے لیے صبح 9 بجے والی شرط ناممکن تھی، لیکن اس نے کچھ دیر سوچا ، پھر حامی بھر لی-غریدہ نے سوال کیا کہ "یہ کیسے پتا چلے گا کہ آپ سکرپٹ لکھ بھی سکتے ہیں یا نہیں"- میں لرز گیا- یہ سوال ایک ایسے لکھاری سے کیا جارہا تھا جس کی بارہ کے قریب کتابیں آچکی ہیں، ہزاروں کالم شائع ہوچکے ہیں، بیسیوں ڈرامے چل چکے ہیں اور کئی ایوارڈز مل چکے ہیں-میرا خیال تھا کہ گل نوخیز اختر ناراض ہوجائے گا لیکن اس نے حسب معمول مسکرا کر کہا" اگر ایسی بات ہے تو میں آپ کو آج کے پروگرام کا سکرپٹ لکھ کر ای میل کر دیتا ہوں، پسند آئے تو ٹھیک ورنہ جواب دے دیجئے گا، اور یہ سکرپٹ بلامعاوضہ ہوگا"- یہ سنتے ہی غریدہ کی باچھیں کھل گئیں اور فورا" آمادگی ظاہر کردی- شام تک گل نوخیز کی طرف سے سکرپٹ آگیا، غریدہ نے پڑھا اور گل نوخیز کوفون کر کے تعریفوں کے انبار لگا دیے اور خوشخبری سنائی کہ آج سے آپ پروگرام کے لیے سلیکٹ ہیں-
1
اب ہوتا یہ تھا کہ روز گل نوخیز اختر ہم سب سے پہلے ٹھیک 9 بجے میٹنگ روم میں آجاتا ، غریدہ فاروقی صاحبہ اکثر لیٹ تشریف لاتیں- شام کے پروگرام کی ڈسکشن ہوتی، پیکج، سٹوری اور مہمان فائنل کیے جاتے اورگل نوخیز اختر کاغذ پر ضروری نوٹس لے کر وہاں سے چلے جاتے- کاغذ کا قصہ بھی دلچسپ ہے، میٹنگ روم کے ٹیبل پر ضائع شدہ کاغذوں کا ڈھیر لگا ہوتا تھا جن کی دوسری طرف خالی ہوتی تھی، گل نوخیز ہمیشہ نئے کاغذ کی بجائے کوئی لکھا ہوا کاغذ اٹھاتے اور اس کی پشت پر نوٹس تحریر کرلیتے- غریدہ نے ایک  دفعہ کہا کہ آپ نیا کاغذ کیوں نہیں لیتے؟ اس پر گل نوخیز اختر کا جواب تھا کہ میں نے زندگی میں بہت سی مشکلات دیکھی ہیں جن میں ایک یہ بھی تھی کہ ایک وقت تھا میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے کہ میں نیا کاغذ خرید سکوں لہذا میں کئی دفعہ کمرے میں لگے کیلینڈر کا صفحہ پھاڑ کراس کی پشت پر کہانی لکھ لیا کرتا تھا لہذا مجھ سے نئے کاغذ کی عیاشی افورڈ نہیں ہوتی، ویسے بھی نوٹس ہی لکھنے ہیں، جب ایک کاغذ کا دوسرا حصہ خالی ہے تو کیوں نہ اسے استعمال میں لایا جائے-
پروگرام شروع ہوگیا اور ریٹنگ کی بلندیوں کو چھونے لگا، دیکھنے والوں کو کچھ اندازہ نہیں تھا کہ جو کچھ غریدہ فاروقی بول رہی ہے اس کے پیچھے کس کی محنت ہے اور یہ کس کا لکھا ہوا ہے-پی سی آر میں گل نوخیز اختر سارے سٹاف سے انتہائی محبت سے پیش آتے اور کئی دفعہ کرسی پر بیٹھنے کی بجائے جب تک شو آن ائیر رہتا، کھڑے رہتے اور ایک ایک چیز خود نوٹ کرتے- غریدہ فاروقی کی پوری کوشش تھی کہ کسی طرح اپنے سے کئی درجے سینئرمیڈیا پرسن گل نوخیز کو بے عزت کرے لیکن گل نوخیز اس کا موقع ہی نہیں آنے دے رہے تھے، جس قسم کا بھی پیکج ہوتا، سوالات ہوتے ، سکرپٹ ہوتا۔۔۔۔۔وہ ڈیڈ لائن سے پہلے ہی بہترین طریقے سے مکمل کرکے بھیج دیتے-میں اور سارا سٹاف گواہ ہے کہ جتنے دن گل نوخیز اختر اس پروگرام کے ساتھ رہے انہوں نے ایک دن بھی چھٹی نہیں کی اور ہر کام شاندار طریقے سے مکمل کیا- اسی دوران ایک دن غریدہ کو موقع مل گیا- ایم کیو ایم کے خلاف نائن زیرو پر رینجرز نے آپریشن کیا تو اسی حوالے سے پروگرام تھا جس میں کراچی سے نبیل گبول  اور لندن سے الطاف حسین کا Beeperبھی شامل تھا-پروگرام لائیو جانے سے چند منٹ پہلے غریدہ فاروقی سیٹ پر پہنچ چکی تھیں، پروڈیوسرز اور دیگر تکنیکی عملہ "پی سی آر" میں موجود تھا، گل نوخیز اختر بھی ہیڈرز اور ٹکرز کا جائزہ لے رہے تھے- اتنے میں "پی سی آر" میں غریدہ کی آواز گونجی " گل نوخیز۔۔۔۔نبیل گبول کے سوالات کہاں ہیں؟"- گل نوخیز نے مانٹیر پر سٹوڈیو میں بیٹھی غریدہ کی طرف دیکھا، مائیک کا سوئچ آن کیا اور انتہائی دھیمے لہجے میں بولے " آپ ہی کو دیے تھے، دوبارہ دیکھ لیجئے ، انہی میں ہوں گے"- غریدہ نے اپنے ہاتھ میں پکڑے کاغذ الٹ پلٹ کر دیکھے ، پھر قدرے غصے سے بولیں" ان میں نہیں ہے"- گل نوخیز دوبارہ مائیک میں بولے" آپ نے ابھی تو اپنے کمرے میں سارے سوالات خود پڑھے تھے، کاغذ بھی آپ کے پاس تھے، ہوسکتا ہے کہیں گر گیا ہو، نیا پرنٹ نکلوا لیں"- یہ سنتے ہی غریدہ کے منہ سے ایک غراہٹ نکلی اور پورے پی سی آر میں ایک چیختی ہوئی آواز آئی "آپ کو اتنی بھی عقل نہیں کہ کاغذ چیک کرلیتے"- یہ سنتے ہی پی سی آر میں خاموشی سی چھا گئی، یہاں ہر بندہ غریدہ سے ذلیل ہوچکا تھا لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ غریدہ ، گل نوخیز سے اس لہجے میں بھی بات کر سکتی ہے- سب منتظر تھے کہ اب کیا ہوگا؟ گل نوخیز اختر نے ایک لمحے کا توقف کیے بغیر مائیک پکڑا اور قدرے سخت لہجے میں کہا"شٹ اپ"- غریدہ کا چہرہ دیکھنے کے قابل تھا، اس نے تو آج تک دوسروں کی ہی بے عزتی کی تھی، یہ جملہ اس کے سر پر بم بن کر گرا اور وہ کچھ دیرسکتے کے عالم میں رہی- گل نوخیز اختر نے سکرپٹ ٹیبل پر پھینکا، مسکراتے ہوئے سٹاف کو خداحافظ کہا اور گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر نکل گئے-اس وقت کا پروڈیوسر ان کے پیچھے پیچھے بھاگا اور منت ترلہ کیا کہ خدا کے لیے کم ازکم یہ پروگرام تو مکمل کروا جائیں ورنہ ہم مارے جائیں گے، کچھ دیر میں پروگرام آن ائیر جانے والا ہے- گل نوخیز نے مسکراتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ، تسلی دی اور واپس آگئے- پروگرام مکمل کرایا اور اسی مسکراہٹ کے ساتھ چلے گئے-
گھر جاتے ہی انہوں نے وٹس ایپ پر "جی فار غریدہ" کے گروپ میں یہ میسج کیا کہ "تمام محبت کرنے والے دوستوں کا شکریہ  جن سے اتنی اچھی رفاقت رہی، تاہم اب میں یہ پروگرام چھوڑ رہا ہوں، انشااللہ ملاقات رہے گی"- میسج غریدہ نے بھی پڑھا اور اسے آگ  لگ گئی کہ شکار نکل گیا ہے- اس رات اس نے گل نوخیز کو مسلسل میسج کیے لیکن گل نوخیز اختر کا یہی کہنا تھا کہ میں کام نہیں کرسکتا، بے شک اب تک کے پیسے بھی نہ دیں- غریدہ کو پتا تھا کہ گل نوخیز نے پروگرام چھوڑا تو ریٹنگ کا بیڑا غرق ہوجائے گالہذا اس نے پہلی بار زندگی میں گل نوخیز اختر سے "سوری" کہا- گل نوخیز ضدی انسان نہیں ہے، سوری کا لفظ سنتے ہی اس کے دل سے سارا غبار اتر گیا لہذا وہ اگلے دن واپس آگیا- یہاں ایک اور سین منتظر تھا، غریدہ کا غصہ عروج پر تھا، اس نے آتے ہی گل نوخیز سے پوچھا" آپ نے کس کس کو یہ بتایا ہے کہ میں نے آپ سے سوری کی ہے؟" گل نوخیز نے انگلیوں پر گنتے ہوئے کہا "تقریبا" 43 لوگوں کو بتا چکا ہوں"- غریدہ نے دانت پیسے" کیوں بتایا؟"- گل نوخیز اختر نے کچھ دیر اسے گھورا ، پھر مسکرا کر کہا"کل میں سب کے سامنے یہ پروگرام چھوڑ کر گیا تھا، گروپ میں میسج بھی کر دیا تھا، آج جب واپس آیا تو سب پوچھ رہے تھے کہ کل تو بڑے دھڑلے سے کہہ کر گئے تھے کہ واپس نہیں آئوں گا تو پھر آج واپس کیسے آگئے؟ سو میں نے انہیں بتایا کہ چونکہ آپ نے سوری کرلی ہے اس لیے اب میرا اپنی بات پر اڑے رہنا بنتا نہیں- ویسے بھی سوری کرنا کوئی بری بات نہیں، اس سے انسان کی عزت بڑھتی ہے"- غریدہ بہت کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن اس نے غصہ دل ہی میں رکھا اور خاموش رہی-
2
اس کے بعد غریدہ نے گل نوخیز اختر پر بلاوجہ کام کا دبائو بڑھانا شروع کر دیا، چار بجے تک سکرپٹ مل جاتا تو کہہ دیتی کہ اب یہ لوگ میں نے بدل دیے ہیں لہذا نیا سکرپٹ لکھ دیں-نیا سکرپٹ آتا تو عین موقع پر کہہ دیتی کہ ساری سٹوری نئی کرنی ہے لہذا نیا سکرپٹ کرکے دیں- گل نوخیز اختر کو اندازہ ہورہا تھا کہ بات کہاں جارہی ہے- غریدہ اس دوران گل نوخیز کے سلام کا بھی جواب دینا چھوڑ چکی تھی- گل نوخیز اختر نے کچھ دنوں بعد پھر پروگرام چھوڑ دیا کہ اس قسم کے ٹینشن کے ماحول میں کام کرنا بہت مشکل ہے لہذا میری طرف سے معذرت- غریدہ فاروقی بدلے کی آگ میں جھلس رہی تھی، اس نے فوری طور پرپروڈیسر کے ذمہ لگایا کہ گل نوخیز اختر کو کسی طرح قائل کرکے واپس لائو- پروڈیوسر نے بہت کوشش کی لیکن گل نوخیز اختر نہیں مانا تو غریدہ نے ایکسپریس نیوز کے انتہائی سینئرعہدیدار کو گل نوخیز کے دفتر بھیجا، جنہوں نے درخواست کی کہ آپ واپس آجائیں- گل نوخیز اختر نے ہنستے ہوئے ان سے کہا کہ حضور! میرے آنے سے کچھ نہیں ہوگا، غریدہ  صرف مجھے بلا کر خود نکالنا چاہ رہی ہیں تاکہ ان کی انا کی تسکین ہوسکے- تاہم عہدیدار سے دوستی اور محبت نے اتنا مجبور کیا کہ گل نوخیز اختر تیسری بار پھر واپس آگئے- اور پھر وہی ہوا جو گل نوخیز اختر نے کہا تھا۔۔۔۔۔غریدہ فاروقی کا میسج آیا کہ آپ کو ڈس مس کر دیاگیا ہے۔۔۔۔۔مجھے یاد ہے یہ میسج پڑھ کر گل نوخیزاختر نے ایک قہقہہ لگایا، دوستوں کو لے کر سگریٹ کی دوکان پر گئے، سگریٹ سلگایا، دوستوں کا کولڈ ڈرنکس پلائیں، کچھ لطیفے سنائے اور اجازت لے کر روانہ ہوگئے-
 اللہ بھلا کرے میڈیا کا جس نے حبس بے جا میں رکھی معصوم سونیا کی خبر کو عوام تک پہنچایا اور غریدہ کی اصلیت کھل کے سامنے آئی ۔۔۔خبر کیا آئی
 جیسے کہرام مچ گیا ہو۔۔۔۔۔ ہر طرف غریدہ  کے چرچے ۔۔۔۔
پھر کیا تھا ہم نے بھی ہمت پکڑئی قلم اٹھایا اور اس کی اصلیت لکھ ڈالی ۔۔2دنوں میں 500 سے زائد نیوز ویب سائٹ نے میرے کالم کو پبلش کیا اور قریباً 1 کروڑ سوشل میڈیا صارفین نے کالم کو پڑھا ۔کسی ایک بندے نے بھی اس کے غیر انسانی رویہ کونہیں سراہا-موصوفہ مختلف سینئر صحافیوں کو فون کر کر کے کالم کو ڈلیٹ کرواتی رہیں ۔۔۔۔اور اب تو اپنے حق میں کالم بھی لکھوا رہی ہیں۔غریدہ فاروقی اس قدرنفسیاتی اور ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہے کہ دھمکیوں پر اتر آئی ہے اس کی دھمکیوں سے میں ڈرنے والا نہیں ۔۔۔اپنے  حواریوں سے کہہ دینا کہ کہیں اور جا کہ بھونکیں۔۔۔نجف میں کتوں کا داخلہ اور غلام نجف پر کتوں کا بھوکنا منع ہے-مجھے مجبور نہ کریں کہ آپ کا سارا کچا چھٹا دنیاپہ آشکار کر دوں ۔کبھی کبھی تو دل چاہتا ہے کہ  اس کے ظلم کی ایک ایک بات کو مکمل کتاب کی شکل دے دوں کہ کس طرح اس کی وجہ سے ایک پروڈیوسر کی والدہ موت کی نیند سو گئی اس ظالم عورت نے اسے  ماں کے علاج کے لیے بھی چھٹی نہ دی ۔۔۔کس طرح ایک پروڈیوسر کا نونہال پھول اس کی وجہ سے ہسپتال کے بستر پر مرجھا گیا ۔۔ کس طرح سٹاف کی ایک لڑکی جس کی صبح بارات تھی لیکن رات 11 بجے تک  اس کو چھٹی نہ دی اور وہ بلک بلک کے روتی رہی کہ   میرے گھر سارےرشتہ دارآئے ہوئے ہیں ہیں میں نےمایوں بیٹھنا ہے ۔۔۔کہاں تھی اس وقت غریدہ فاروقی کے اندر کی پھپھے کٹن عورت ۔۔۔
مگر نہیں احساس تو انسان میں ہوتا ہے۔۔۔۔۔ نام نہاد اینکر میں کہاں ۔۔
بہت سارے لوگوں نے سمجھایا کہ بی بی اپنی ٹیم کے ساتھ پیار کرو اور بندے کو بندہ سمجھا ۔۔جر کے کھاو ۔۔انسانیت بھی کوئی چیز ہوتی ہے مگر نہیں بندر کے ہاتھماچس لگنے والی بات تھی ۔۔ساری لنکا کو جلانا مقصود تھا پتا کیسے چلتا کہ کوئی ٹٹ پونجیا امیر ہوا ہے-وہ سب لکھوں گا جو لوگ کہنے سے ڈرتے ہیں کہ یہ پنڈی کے ساتھ گہرے رابطوں کی لوگوں پردھونس جماتی ۔۔۔پنجاب پولیس میں اثرو رسوخ سے سینہ چوڑا کرتی ،یہ بھی بتاوں گا کہ کس طرح لندن کی ایک میڈیا کانفرنس میں  ریحام خان کی آمد پر اس کی چھچھوری حرکتوں کی وجہ وہاں موجود سینئر صحافی اور کالم نگار شرمندہ ہوئے ۔اور سیکورٹی اہلکاروں نے اس کو ذلیل کیا ۔۔۔اس، بات کا ذکر انھوں نے اپنے کالم میں بھی کیا،اس کا بھی ذکر کروں گا کہ پاک بھارت وزیراعظم کی ملاقات کے دوران کس طرح چپکے سے سیکورٹی کو چکما دے کے یہ بھارتی وزیراعظم تک پہنچی اور وہاں موجود سیکورٹی نے اسے پکڑا اور اٹھا کے باہر پھنکا۔ وہاں پہ بھی یہ پاکستانی صحافیوں کے لیے بدنامی کا باعث بنی ۔
Image result for gharida farooqi and imran khan
کل ایک بڑی سیاسی شخصیت کا  فون آیا اس نے جو اس کی رام لیلا سنائی وہ بھی بیان کرنے کے لائق ہے- فون تھا کہ رکنے کانام نہیں لے رہا تھا کوئی اس کے نفسیاتی مریض ہونے کا ذکر کرتا تو کوئی بے وفائی کا۔کیا اسں طرح کے نام نہاد اینکر پر آئین کے کسی آرٹیکل کا اطلاق نہیں ہوتا۔ یہ آئین کے باسٹھ تریسٹھ کا ورد کرتے نہیں تھکتے کیا یہ خود ان پر پورا اترتے ہیں ۔۔۔کیا ان کی آمدن اور اثاثوں کا توازن نہیں دیکھا جا سکتا؟اس کا بھی ذکر کروں گا کہ کس طرح اس نے پاکستانی قوم کی "بھابھی" بنے کے لیے جتن کیے ۔جب دال نہ گلی تو بڑے صاحب کے درباری کے زریعے چھوٹے صاحب تک پہنچ گئی
روک سکتی ہو تو روک لو۔غریدہ فاروقی۔۔   سچ سامنے آ کے ہی رہے گا-میں اس کی دھمکیوں اور گیدڑ بھبھکیوں سے ڈرنے والا نہیں۔۔۔۔ایک بات تو اچھی طرح سےاقتدار دولت اور شہرت والوں کو ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جس طرح سے تم نے لوگوں کے چین کو لوٹا ہے ان لٹنے والوں کی آہیں، صدائیں اور بددعائیں تمہارے چین کو بھی لوٹ لیں گی تم بھی چین اور سکون کے لیے تڑپتے پھرو گے یاد رکھو آہ جو دل سے نکلتی ہے کبھی خالی نہیں جاتی-یاد رکھو خدا کی لاٹھی بے آواز ہے لاٹھی لگنے کے کا فی عرصے بعد اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوتے ہیں انسان کی طاقت اور بساط اتنی بھی نہیں ہے کہ وہ اپنی مرضی سے سانس بھی لے سکے۔ اور تم اپنے آپ کو زمینی خدا سمجھے بیٹھے ہو۔ جلد یا بدیر زندگی، اقتدار اور دولت سب کچھ ختم ہو جانا ہے۔ پھر کس منہ سے خدا کا سامنا کر پائو گے۔ سدھر نے کے لیے ابھی بھی وقت ہے۔ ایسا نہ ہو بہت دیر ہو جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *