سونو نگم کے بعد بالی وڈ ایکٹریس سوشیترا نے بھی اذان کے خلاف زہر اگل ڈالا

nigam

کچھ عرصہ قبل بھارت کے مشہور بالی وڈ سنگر سونو نگام نے سپیکر پر اذان پر پابندی کی اپیل کی تھی اور اسے مذہب کو زبردستی عوام پر ٹھونسنے جیسا قرار دیا تھا ۔ اس پر انہیں سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن حال ہی میں "کبھی ہاں کبھی ناں "فلم سے شہرت پانے والی اداکارہ سوشیترا جو مشہور ڈائریکٹر شیخر کپور کی اہلیہ ہیں نے بھی ایک بار پھر سپیکر پر اذان کے مسئلے کو میڈیا میں اچھالنے کی کوشش کی ہے جس پر انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں اذان سے اکتاہٹ کا اظہار کرتے ہوئے اور اسے مذہبی شدت پسندی قرار دیتے ہوئے لکھا:''صبح پونے پانچ بجے گھر آؤ اور کان پھاڑ دینے والی اذان کی آواز سنو۔ اس سے زیادہ مذہبی شدت پسندی اور کیا ہو سکتی ہے؟ ''

سوشیتراکے اسلام پر حملے پر فوری رد عمل ایک ہندو کی طرف سے آیا جنہوں نے ٹویٹر پر لکھا: صرف اسلام کو کیوں نشانہ بنا رہی ہیں؟ کیا ہم ہندو اس لحاظ سے ان سے پیچھے ہیں؟

سیما چوہدری نامی ٹویٹر یوزر کا کہنا تھا کہ لاوڈ سپیکر پر اذان سیکولر اور بے ضرور معاملہ ہے۔ آپ کمیونل ہولی اور دیوالی لاوڈ سپیکر کے استعمال پر آواز اٹھائیں۔مہر نامی خاتون نے جواب میں سوال اٹھاتے ہوئے کہا: تو کیا سپیکر پر رات گئے پارٹی میں ناچتے رہنے میں کوئی قباحت نہیں ہے؟کچھ لوگوں نے اسے خاتون کی طرف سے شہرت حاصل کرنے  کی بھونڈی کوشش قرار دیا۔ تنقید کا سامنا کرنے کے بعد سوشیترا نے اپنے دفاع کی ٹھانی اور ایک اور ٹویٹ کر ڈالا جس میں انہوں نے لکھا" مذہبی زبردستی انسان کے دماغ پر گہرا اثر ڈالتی ہے اور آزاد خیالی پر قدغن کے برابر ہے۔میری بات ہر مذہب پر لاگو ہے نہ کہ صرف اسلام پر"

فرح خان نےسوشیتراکو مشورہ دیا کہ وہ اپنے الفاظ کے انتخاب میں احتیاط کیا کریں ۔ فرح خان نے ٹویٹ میں لکھا: "میں عام طور پر ایسے معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتی ہوں لیکن جس طرح سے آپ نے اذان کو بیان کیا ہے وہ نفرت انگیز ہے اور آپ کی شخصیت کی پستی کو ظاہر کرتی ہے۔ "

اس سےقبل سونو نگام کو ایسے ہی تبصروں پر بہت مشکلات سے گزرنا پڑا اور ان کا سر مونڈنے والے کو 10 لاکھ روپے دیے جانے کا اعلان کیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد انہیں ٹویٹر سے علیحدگی اختیار کرنا پڑی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *