ذہنی غلامی

تیمور احمد ملک

taimoor ahmed malik

مدینہ شہر سارا  مٹی کےگھروں سے بنا ہوا تھا، کچی گلیاں تھیں اورکھجور کے درخت شہر کے چاروں طرف پھیلے ہوئے تھے،  مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ بہت تیزی سے بڑھ گیا تھا، شام فتح ہو چکا تھا اور دوسری طرف فوجیں سلطنت فارس کی ہزاروں سالہ شان و شوکت کو اپنےخستہ حال ہوئے جوتوں تلے روند چکی تھیں، یزدگرد  فارس بھاگ چُکا تھا اُس کی فوجیں ختم ہو چُکی تھیں، محل تباہ ہو چُکے تھے ،  اُ س وقت اُنٹوں پر سونا لاد لاد کر مدینہ میں لایا جا رہا تھا ، یہ مال غنیمت تھا جو اس وقت کی دو عالمی طاقتوں  کے محلوں سے آیا تھا ، یہ  دوسر ے خلیفہ راشد عمر بن خطاب رضي الله عنہہ  کا دور تھا ،   مدینہ کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا  تبھی مسجد نبوی ﷺ کی توسیع بھی کی جانی تھی، یہ مسجد جو کہ اس عظیم سلطنت کی پارلیمنٹ بھی تھی سینٹ بھی سپریم کورٹ بھی اور جی ایچ کیو بھی، اسی مسجد میں سے فوجیں اکٹھا ہو کر ایک طرف پورے جزیرہ عرب کو فتح کر چُکی تھیں اور دوسری جانب  یرموک  ،    مدائن اور دمشق کے مشکل معرکوں میں کامیابیاں حاصل کر چُکی تھیں،  زمین خریدی گئی اور پھر وہی اصحاب رسول اللہ ﷺ اپنے ہاتھوں سے ہی مسجد کی توسیع میں لگ گئے ، کچی دیواریں دینے لگے اور کھجوروں کے تنوں سے  چھت بننےلگی، تب  ترقی کا معیار جو متعین کیا گیا تھا وہ معیار  تعمیرات نہیں تھیں ، اُس وقت بڑی بڑی عمارتیں یا محل تعمیر نہیں کئے گئے شان و شوکت کی علامتیں نہیں بنائی گئیں ، تو پھر آخر مال غنیمت اور اتنی زیادہ دولت کہاں گئی،  وہ کپڑے خرید کر لوگوں کے جسم ڈھانپنے میں لگائی گئی، لوگوں کو کھانا کھلانے میں لگائی گئی اُن کا معیار زندگی بہتر بنانے میں لگائی گئی ، مدینہ کی فلاحی ریاست نے اپنی تمام توانائیاں غُرباء اور مساکین پر صرف کردیں ، اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ اب کوئی شخص اس سلطنت میں رات کو بھُو کا نہیں سوئے گا ،  کوئی غریب بچوں سمیت بھوک اور افلاس کے ڈر سے خود کُشی نہیں کرے گا، مدینہ کی ریاست جس میں انصاف اتنا عام تھا کے کسی شخص کی جرُت نہیں تھی کہ وہ ناانصافی کرنے ظلم کرے اور پھر بچ کے نکل جائے خواہ اُس کا معاشرتی رتبہ کوئی بھی ہو،   وہاں  چور سے چور ی کی وجہ پوچھی جاتی تھی  اس بات کا تعین کیا جاتا تھا کہ چوری کرنے والے نے چوری کیوں کی اور اگر اُس سے حالات نے چوری کروائی ہے تو پھر سزا بھی اُس کے مطابق دی جاتی تھی، وہاں خلیفہ کسی قانون سے بالاتر نہیں تھا ، وہ مٹی پر سو جاتا تھا اور اُسے کسی قسم کا استثناء حاصل نہیں تھا ، اُس کے پاس یہ اختیا بھی نہیں تھا کہ وہ عہدے پر رہ کر قانون کی گرفت سے باہر رہے گا یا اُسے کسی قسم کی چھوٹ دی جائے گی، وہ کسی کی سزا کم یا زیادہ نہیں کرسکتا تھا اور نہ ہی کوئی قتل کا مجرم رحم کی اپیل کر کے اس سے معافی حاصل کرسکتا تھا ،  یہ وہ ریاست تھی جو مسلمان اُس کے بعد کبھی قائم نہ کرسکے ہاں البتہ اُس ریاست کے خواب دکھا دکھا کر صدیوں سے اقتدار ضرور حاصل کرتے رہے ہیں،  آج ہمارے ہاں ترقی کے جتنے بھی معیار ہیں اُن میں سے ایک بھی اس کسوٹی پر پورا نہیں اُترتا ، یہاں ترقی پکی سڑکوں اور پکے نالوں میں بہہ رہی ہوتی ہے ، پُلوں اور دکھاوے کے ہزاروں علامتوں کے ساتھ جھولتی ترقی نے یہاں کھانا اور اوڑھنا غریب سے چھین لیا ہے ، صحت کے نام پر مذاق کیا جانا معمول بن گیا تعلیم کے نام پر ایک جہالت سے بھرا معاشرہ قائم کردیا گیا جہاں ہرشخص اس نظام کے تحت اپنی اور اپنے بچوں کا معیار زندگی بہتر چاہتا ہے ،  قانون کے نام پر ایک ایسی دستاویز ہاتھ میں تھما دی جاتی ہے جو صرف انسان کو ناانصافی کا درس ہی دے سکتی ہے، انسان کی فلاح  جمہور میں لپیٹ کر دی جاتی ہے اور اسے بُرا کہنا ناقابل معافی جُرم ، ہمارے موجودہ نظام اور حکمرانوں نے ہمیں  جس ترقی کی راہ پر ڈالہ ہے وہ راہ صرف بدعنوانی ، دھوکہ فریب غربت اور اس جیسی ہزاروں بُرائیوں کے در پر جاتی ہے ، ایسی ترقی جس میں انسان کا معیار زندگی ختم ہو جائے ہمیں ایسی ترقی سے پناہ مانگنی چاہیئے۔ ہمیں اپنے راستے متعین کرنا ہوں گے یہ سمجھنا ہو گا کہ حقیقی ترقی کسے کہتے ہیں ، اچھے حالات کیا ہوتے ہیں ، عزت اور آبرو کا بچ جانا انصاف کا مل جانا اور اقدار کا سلامت رہنا ہی ترقی ہے اس کے علاوہ جو بھی ہے وہ صرف ذہنی غلامی کی علامت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *