احتساب سب کا۔۔۔مگر کیسے؟

asghar khan askari

سپریم کورٹ نے 10 مہینوں کی سماعت کے بعد پاناما پیپرز کے مقدمے کافیصلہ سنا دیا ہے۔اپنے حکم نامے میں عدالت عظمیٰ نے وزیر اعظم نو از شریف کو نااہل قرار دے دیا ہے۔ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت ختم کر دی گئی ہے،جبکہ ان کے دونوں بیٹوں حسین نواز ،حسن نو از ،بیٹی مریم نواز اور داماد محمد صفدر اعوان کے خلاف نیب کو حکم دیا ہے کہ وہ چھ ہفتوں میں ان کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کریں۔عدالتی حکم نامے میں نیب کو یہ بھی احکامات جاری کئے گئے ہیں کہ نواز شریف کے سمدھی اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور ان کے چند قریبی رفقا ء کے خلاف بھی احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کریں۔عدالتی فیصلے میں نواز شریف کے گھر کے دو افراد ان کی والدہ اور بیوی کلثوم نو از کا ذکر نہیں ہے باقی ان کے گھر کے تمام افراد کے خلاف کا رروائی کا کہا گیا ہے۔وزیر اعظم نو از شریف کی نا اہلی اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف نیب کو ریفرنس دائر کر نے اور احتساب عدالت کو چھ مہینوں میں فیصلہ کرنے کے بعد اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ احتساب کا یہ عمل یہاں رک جا ئے گا یا با قی کرپٹ خاندانوں کا بھی احتساب ہو گا؟اگر احتساب کا یہ عمل یہاں رک گیا تو پھر2018 ء کے انتخابات میں عوام اس کو ووٹ کی طاقت سے مسترد کردیں گے۔لیکن اس کے بر عکس اگر احتساب کے اس عمل کے دائرے کودیگر کرپٹ خاندانوں تک وسیع کر دیا گیا تو آنے والے انتخابات میں حالات مختلف ہو سکتے ہیں ،جبکہ عدلیہ پر بھی عوام کا اعتماد بحال رہے گا۔لیکن مو جو دہ حا لات میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ سب کا احتساب کیسے ہو؟میرے خیال میں سب کا احتساب کرنے اور جلد انصاف فراہم کرنے کاطریقہ کار سپریم کورٹ نے پاناما پیپرز مقدمے میں وضع کر دیا ہے۔وہ یہ کہ عدالت کسی ایک کرپٹ خاندان کو لیں،جیسے شریف خاندان کے خلاف مقدمہ شروع کیا تھا۔ایک مہینے تک عدالت متعلقہ فریقین کو سنیں ۔اس کے بعد سوالات خود فریم کریں ۔پھر ان سوالات پر تفتیش کر نے کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیں اور ان کو حکم دیں کہ چھ ہفتوں میں حتمی رپورٹ عدالت میں جمع کریں،جبکہ ہر پندرہ دن بعد پیش رفت کی رپورٹ بھی عدالت میں جمع کر ائیں۔حتمی رپورٹ جمع کر نے کے بعد عدالت ایک ہفتے تک مزید سما عت کریں اور ایک ہفتے بعد فیصلہ دیں۔یہ وہ طر یقہ کار ہے جو سپریم کورٹ نے پا ناما پیپرز مقدمے میں اپنا یا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ عدالت احتساب کا آغا ز کہاں سے کریں؟سب سے پہلے تو ان خاندانوں کا احتساب ہو نا چا ہئے جن کا نام پا ناما پیپرز میں ہیں۔عدالت کو چا ہئے کہ ایک ایک کو بلا ئیں اور چھ مہینوں میں ان کا فیصلہ کر یں۔آپ کو یاد ہوگا کہ عدالت عظمیٰ نے نواز شریف سے پہلے بھی ایک اور وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو نا اہل قرار دیا تھا۔ قصور ان کا یہ تھا کہ عدالت کا حکم تھا کہ سوئس حکام کو اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے اکا ؤ نٹس کے بارے میں خط لکھیں،لیکن وزیر اعظم گیلانی انکار کرتے رہے جس پر عدالت نے ان کو توہین عدالت کرنے پر نا اہل قرار دیا تھا۔اس کے بعد راجہ پرویز اشرف وزیر اعظم منتخب ہو ئے اور انھوں نے وہ خط لکھ دیا تھا جس کے لکھنے سے یوسف رضا گیلانی انکار کرتے رہے۔اب عدالت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ انتخاب سے پہلے اس مقدمے کو بھی منطقی انجام تک پہنچا ئیں۔اسی طر ح ایک اور مقدمہ جو کہ اصغر خان کیس کے نام سے مشہور ہے۔سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں بھی فیصلہ دیا ہے۔لیکن ابھی تک اس پر عملدار نہیں ہو رہا ۔لہذا سپریم کور ٹ کو چا ہئے کہ وہ اصغر خان کیس کا مقدمہ بھی پا ناما پیپرز کے طر ز پر سنیں اور چند مہینوں میں اس پر حتمی فیصلہ دیں۔خیبر پختون خوا کے سابق وزیر اعلی آمیر حیدر خان ہو تی کے اس وقت کے دست راست معصوم شاہ کے خلاف بھی نیب نے کارروائی کی تھی۔پھر وہ اور ان کے دیگر ساتھی نیب سے ساز باز کر کے آزاد ہو گئے ہیں۔سپریم کورٹ کو چا ہئے کہ اس ریفرنس کی دوبارہ تحقیقات کریں تاکہ ان لوگوں کو بھی سزا ہو جائے جن کے لئے معصوم شاہ نے کر پشن کی تھی۔دو سال پہلے بلو چستان میں ایک میگا کرپشن منظر عام پر آیا تھا۔اس وقت کے سیکٹرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے گھر سے پورے صوبے کا خزانہ بر آمد ہو ا تھا ،لیکن ایسے لگ رہا ہے کہ چند سال بعد مشتاق رئیسانی ملک سے باہر ہو ں گے۔اس لئے عدالت عظمی کو چا ہئے کہ وہ اس مقدمے کا بھی پا ناما پیپرز کے طر ز پر سماعت کریں تا کہ قومی مجرم قانون کے شکنجے سے بچ نہ سکے۔سند ھ میں شرجیل میمن اور دیگر صوبائی وزراء کے کر پشن کی کہانی بہت مشہور ہے،کچھ پر متعلقہ اداروں نے کارروائیاں بھی کی ہے۔اس سپریم کو رٹ کو چا ہئے کہ ان مقدمات پر بھی سو مو ٹو ایکشن لیں۔ایان علی سمگلنگ کیس بھی ایک اہم مقدمہ ہے۔عدالت کو چا ہئے کہ اس مقدمے کو سپریم کورٹ منتقل کریں اور پاناما پیپرز مقدمے کی طر ز پر اس کی بھی سماعت کریں۔ ایک اور مقدمہ ہے ای او بی آئی (EOBI )میں کر پشن کاہے۔یہ مقدمہ بھی سپریم کورٹ میں ہیں ۔عدالت کو چا ہئے کہ اس کے لئے بھی ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیں ۔60 دنوں میں وہ تحقیقات کریں۔اپنا رپورٹ عدالت میں جمع کریں اور پھر ایک ہفتے کے بعد عدالت اس پر فیصلہ دیں۔احتساب اگر سیاست دانوں کا ہو سکتا ہے تو پھر دیگر اداروں کا بھی ہو نا چا ہئے۔چند سال پہلے پاک فوج نے ایف سی بلو چستان میں خدمات انجام دینے والے لیفٹیننٹ جنرل عبیداللہ ،میجرجنرل اعجاز شاہد،بریگیڈئیرز اسد،سیف ،عامر اورلیفٹیننٹ کرنل حیدر کوکرپشن کے الزامات پر بر طر ف کیا تھا۔ان کو سزائیں ہو ئی تھی۔لیکن ابھی تک معلوم نہیں کہ ان کا کر پشن کس نو عیت کا تھا۔جو سزائیں ان کو دی گئی ہے کیا وہ قانون کے مطابق پوری ہے۔اسی طر ح نیشنل لا جسٹک سیل (این ایل سی)میں بھی دو جنرلوں کو سزائیں ہو ئی تھی۔اس کے بارے میں بھی عوام کو کچھ زیادہ معلوم نہیں۔اس مقدمے کو بھی عام کر نا چا ہئے کہ کرپشن کس نوعیت کی تھی اور جو سزائیں دی گئی ہے کیا وہ کافی ہے۔احتساب پوری قوم کا مطا لبہ ہے،لیکن احتساب کے اس عمل کو صرف ایک خاندان اور ایک شعبے سے وابستہ افراد تک محدود نہیں ہو نا چا ہے۔اگر احتسابی عمل کو صرف سیاست دانوں اور شریف خاندان تک محدود کیا گیا تو اس کے وہ اثرات مرتب نہیں ہو سکتے جس کا قوم کو انتظار ہے۔لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ اپنا کر دار ادا کر یں اور شفاف احتساب کے لئے آسان قوانین بنا ئیں تاکہ تمام بوجھ سپریم کورٹ پر نہ آئیں بلکہ متعلقہ ادارے بھی اپنا کردار آئینی حدود کے اندر رہتے ہو ئے ادا کریں۔اس کے بر عکس اگر احتساب کا یہ عمل یہی رک گیا تو پھر کسی اور کی باری تو آئے گی،لیکن ملک میں شفاف احتساب کا نعرہ  محض ایک خواب بن کر رہ جا ئے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *