دولہا کے لیے دلہن والوں کی عجیب و غریب شرط

انتخاب: احمد علی شانی

Image result for village marriage of pakistan

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص کی شادی اس کے ساتھ والے گاؤں میں طے پائی کہ فلاں دن دولہا بارات لے کر آئے اور اپنی دلہن لے جائے لیکن ساتھ میں لڑکی والوں نے ایک شرط بھی رکھ دی کہ دولہا اپنے ساتھ جو بارات لائے گا اس میں ایک سو نوجوان ہونے چاہیںاور کوئی بھی بوڑھا شامل نہیں ہونا چاہیے،یہ عجیب شرط سن کر دولہے والے بڑے حیران ہوئیپر پھر بھی شرط منظور کر لی۔ لیکن دل ہی دل میں وہ پریشان بھی تھے کہ آخر ایسا کیا ماجرا ہے اور کیوں بوڑھوں کو ساتھ لانیسے منع کیا گیا ہے۔ دولہےکے گاؤں کے نوجوان خوش تھے کہ اس بارات میں کوئی بڑا بوڑھا نہیں جائے گا اور وہ مزے لوٹتے اور ہنستے کھیلتے بارات لے کر جائیں گئے۔دوسری جانب گاؤں کے بڑے دانا بوڑھے پریشا ن ہو رہے تھے کہ آیا انہیں کیوں روکا گیا ہے۔ خیر بارات کے جانے کا دن آن پہنچا ،دولہے کا سہرا باندھا گیا ،جب بارات دوسرے گاؤں روانگی کے لیے تیار تھی تو اسی لمحے گاؤں کےبزرگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ بارات کے ساتھ ایک بوڑھا تھوڑے فاصلہ رکھ کر جائے گا اور سارے معا ملات پر نظر رکھے گا۔ نوجوانوں کو یہ بات بری لگی انہوں نے کہا کہ ہم ایک سو نوجوان ہیں،ہم ہر طرح کے حالات سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،ہم اپنے بھائی کی دلہن لے کر لوٹیں گے چاہے جو مرضی ہو جائے،مگر بڑے بزرگ نہیں مانے اور ایک بوڑھے کو بارات سے فاصلہ رکھ کر چلنے کو کہا،بارات جب روانہ ہوئی تو راستے میں نوجوانوں نے دل میں بہت برا محسوس کیا کہ ہم ایک سو نوجوان جو بہادر ہیں،طاقت رکھتے ہیں،توانا ہیں،بڑے بڑے پہاڑوں کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیںتو ایسے میں ایک بوڑھے شخص کا جو مشکل سے چل رہا ہے ،ہاتھ میں اس کے لاٹھی ہے،آنکھوں پر چشمہ لگایا ہوا ہے،کھانس کھانس کر اور بلغم تھوکتا ہوا ساتھ آ رہا ہے،اس کا کچھ فائدہ نہیں،خیر دل میں برا بھلا کہتے ہوئے یہ نوجوان اپنے بھائی،دوست کی بارات لیے دوسرے گاؤں میں دلہن کے گھر پہنچ گئے،دلہن کے عزیز و اقارب نے جب باراتیوں کو گننا شروع کیا تو وہ پورے ایک سو صحت مند و توانا اور جوشیلے نوجوان ان کے سامنے موجود تھے اور ان میں کوئی بھی بوڑھا موجود نہیں تھا،یہ دیکھ کر وہ دل ہی دل میں مسکرائے اور کہا کہ دولہا کا نکاح اب اس وقت ہی ہو گا جب دوسری شرط بھی پوری کی جائے گی اوردوسری شرط یہ ہے کہجب ایک سو نوجوان ایک سو بکرے کھائیں گے تب ہی نکاح اور دلہن کی رخصتی ممکن ہوگی،شرط کے سنتے ہی نوجوانوں کے اوسان خطا ء ہو گئے اور وہ پریشانی سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگے کہ اب کیا ہو گا؟ ان نوجوانوں میں سے ہی ایک نوجوان کو اچانک خیال آیا کہ بارات کے ساتھایک بوڑھا بھی کچھ فاصلہ رکھ کر ان کے پیچھے آ رہا تھا ،وہ نوجوان مجمعے سے آنکھیں بچاتا اور چھپتے چھپاتے ہوئے باہر کو نکلا اور فاصلہ رکھ کر ساتھ آنے والے بزرگ کو ڈھونڈنے لگا ،اس نوجوان کو وہ بزرگ ایک درخت کی اوٹ میں آرام کرتے ہوئے ملے اور اس نے جلدی سے سارا واقع ان کے سامنے بیان کیا اور رہنمائیطلب کی،بوڑھے نے سارا واقع سنا اور کہا کہ تم واپس جاؤ اور دلہن والوں کے سامنے اپنی شرط پیش کرو کہ بکر ا ایک ایک کر کے ان کے سامنے لایا جائے اور جب ایک بکر ا ان کے سامنے پہنچے تو سب نوجوان ایک دم ہی اس پر ٹوٹ پڑیں اور اکٹھے کھائیں۔ نوجوان بوڑھے شخص سے ہدایات لے کر واپس پہنچا اور اس نے وہی کیا جیسا کہ اسے ہدایت کی گئی تھی،یہ سارا منظر و ماجرا دیکھ کر دولہن والے پریشان ہوگئے اور دولہے والوں نے دلہن والوں کی یہ شرط پوری کر دی اور ایک سو بکرے کھا لیے۔اور پھر نکاح کے بعد دلہن کو لے کر بارات ہنسی خوشی واپس آ گئی ۔نوجوانوں کو پھر احساس ہوا کہ کس طرح ایک بزرگ نے رہنمائی کر کے ان کی پریشانی کو راحت میں تبدیل کر دیا ۔اوپرکی سطور میں تمثیلاً ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ آج ہم اپنے بزرگوں کا وجود اپنے لیئے غیر اہم سمجھتے ہیں۔ ان کی صحبت میں وقت گزارنا ہم پر گراں گزرتا ہے چہ جائے کہ ہم ان کی نصیحت آموز باتوں کو اپنے لیئے توشۂ زیست سمجھیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *