بیٹری والوں کے فراڈ سے بچیں

احمرعلی جاذب

walon

گرمیوں کے دنوں میں آئے دن یو پی ایس کی بیٹری جواب دے جاتی ہے- آپ نےاکثر دیکھا ہوگا کہ دوکاندار پرانی بیٹری بھی کچھ پیسوں کے عوض آپ سے خرید لیتے ہیں- سوچنے کی بات ہے کہ بیٹری تو خراب ہوچکی ہوتی ہے، پھر یہ خراب بیٹری ان کے کس کام کی؟ یہی اصل نقطہ ہے جو آج آپ کو سمجھانا ہے تاکہ آپ مالی نقصان سے بچ سکیں- دوکاندار جو خراب بیٹری آپ سے خریدتے ہیں وہی کچھ دنوں بعد نئی بیٹری کی شکل میں بازار میں موجود ہوتی ہے- اصل میں بیٹری کبھی کمزور نہیں ہوتی، اس کا کوئی ایک سیل کمزور ہوجاتا ہےجو تقریبا" پنردہ سوروپے میں مل جاتا ہے- دوکاندار اس کا کمزور سیل تبدیل کرکے نیا پلاسٹک کور لگاتے ہیں اورپھر سے کسی نئے گاہک کو بیچ دیتے ہیں- اس کام کے لیے وہ درج ذیل طریقہ اختیار کرتے ہیں-

Epsom Salt-1

Distilled Water (Tezab)-2

epsom-salt

ایپسم سالٹ:یہ کسی بھی میڈیکل سٹور سے آسانی کے ساتھ مل جاتا ہے، میڈیکل سٹور والے اسے میگنیشئم سلفیٹ کے نام سے بھی جانتے ہیں۔

ڈسٹلڈ واٹر: یہ بھی کسی بھی بیٹری والی شاپ سے مل جاتا ہے۔

دوکاندار سب سے پہلے بیٹری کا باہر والا کور تبدیل کرتے ہیں، پھر ایپسم سالٹ (میگنیشئم سلفیٹ)اور ڈسٹلڈ واٹر (تیزاب)کو برابر مقدار میں حل کرلیتے ہیں یعنی دو کپ میگنیشئم سلفیٹ کے اور دو کپ ڈسٹلڈ واٹر یعنی تیزاب کے کسی برتن میں مکس کرکے تھوڑا گرم کرلیتے ہیں  تاکہ یہ حل ہوجائے اور پھر اس کو ٹھنڈا ہونےدیتے ہیں۔ اس کے بعد یو پی ایس کو مکمل بند کر کےاور بیٹری کی تاریں یو پی ایس سے الگ کر کے بیٹری کے تمام ڈھکن کھولدیتے ہیں اور اگر اس میں پہلے سے پانی پورا ہے تو اتنا پانی بیٹری میں سے نکال دیتے ہیں جتنا انہوں نے محلول بنایا ہوتا ہے-

Related image

اب بیٹری میں مکس کیا ہوا محلول تمام سیلز میں برابر مقدار میں ڈالتے ہیں اور ڈھکن فوری  طور پربند کر دیتے ہیں-پھر فوری طور پر بیٹری کو یو پی ایس کے ساتھ اٹیچ کر کے چارجنگ پہ لگا دیتے ہیں-اس کے لئےدوکاندار سات سے دس دن انتظار کرتے ہیں  ایک ہفتہ کے بعد بیٹری  کی پرفارمنس بالکل پہلے جیسی ہوجاتی ہے اور آپ سے خریدی ہوئی اڑھائی تین ہزار کی بیٹری پھر سے آپ کو دس پندرہ ہزار کی بیچ دی جاتی ہے-اگر آپ اس فراڈ سے بچنا چاہتے ہیں تو دوکاندار سے بیٹری کا سیل چیک کروائیں اور اصرار کریں کہ وہ صرف خراب سیل ہی تبدیل کرے-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *