یہ رقم اور کہا ں جائے ؟

ایازا میرAyaz Amir

 پاکستانی ایک خلیجی شہر میں جائیداد خریدتے رہے ہیں جبکہ اس دوران حب الوطن حلقے پریشان کہ اتنی بھاری ملکی دولت بیرونی ممالک کی طرف کوچ کرچکی۔ وہ منی لانڈرنگ اورکچھ اور معاملات پر چیخ وپکار کرتے ہیں لیکن اسی دوران قومی پریس، کم از کم کچھ اہم اخبارات ، میں خلیجی ممالک میں جائیداد کے اشتہارات پورے صفحے پر شائع ہوتے ہیں۔
اگرچہ میں دبئی یا کہیں بھی کوئی ولا خریدنے کی سکت نہیں رکھتا ، لہذا چکوال میں ہی قیام غنیمت، لیکن جب مجھ جیسے افراد بھی دیکھتے ہیں کہ صرف گزشتہ مالی سال کے دوران ہی ساڑھے چارسو بلین روپے بیرونی ممالک پرواز کرگئے تو دل دھک سےرہ جاتا ہے۔ تاہم رقم کے ’’فرار‘‘ کی وجہ نظر انداز کرنا دشوار ہے۔ اس کی بابت البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سب سے بڑی اور سب سے تیز رفتار ’’مہاجر‘‘ ہے۔ جب لوگ مہاجر بنتے ہیں یا کہیں پناہ لیتے ہیں تو یا تو ان کے پیش ِ نظر پہلے سے سوچا سمجھا منصوبہ ہوتا ہے یا پھر وہ حالات کے جبر کے تحت ایسا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں آزادی کے وقت بھی ایسی ہجرت دیکھنے میں آئی تھی جب لوگ خوفزدہ ہوکر اپنا تمام گھر بارچھوڑ کر جان بچانے کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔ کرنسی کی ہجرت اس سے بھی تیز اور مثل ِ زاغ، بالکل درست مقام تک ہوتی ہے۔ ہاں اگر اسے لانڈرنگ کی حاجت درکار ہو تو پھر ذرا خم دار چکرچلانے پڑتے ہیں، کہ بجزا س کے دھلائی نہیں ہوتی۔
جب بورس یلسن کے دور میں کیمونزم کا شیرازہ بکھرا تو ریاستی انٹر پرائزز روسی حکومت میں شامل طاقت ور طبقے کے ہاتھ تقریباً مفت ہی آگئیں۔ اُنھوں نے اس دولت کو بیرونی ممالک منتقل کرنے میں مطلق دیر نہ لگائی۔ روسی دولت کی چمک نیویارک، لندن اور دیگر دوردراز کی مارکیٹوں میں دکھائی دینے لگی۔عالمی اخبارات میں بھی اس دولت کے پھیلائو کے چرچے سنائی دیئے۔ اس طبقے کی طرف سے دولت کو بیرونی ممالک میں منتقل کرنے کا یہ جوا ز فراہم کیا جاسکتا ہے کہ چونکہ روس غیر یقینی حالات کا شکار تھا، اس لئے دولت مند افراد نے سرمایہ محفوظ ممالک میں منتقل کردیا۔ تاہم چینی ارب پتی افراد کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے؟وہ عالمی مارکیٹ میں جائیداد خریدنے والے سب سے بڑے گاہک ہیں۔ اور پھر اُنہیں خریداری کا ہنر بھی آتا ہے اور ان کی جیب بھی بہت بھاری ہوتی ہے۔ چین میں حاصل طاقت معاشی امکانات کھولتی ہے، چنانچہ وہاں اہم عہدوں پر موجود افراد بھاری دولت کمانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ مائو نے چینی انقلاب کی قیادت کی ، لیکن ڈنگ زی پنگ (Deng Xiaoping) نے چین کا رخ سرمایہ داری کی طرف موڑ دیا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ڈنگ کی پالیسی مائو کے تعلیمات کی نسبت زیادہ جاندار ثابت ہوئی۔
اس صورت میں بیرونی دنیا میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہشمند پاکستانی افراد اوردولت میں کھیلنے والے کسی سے پیچھے کیوں رہیں ؟اس وقت دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں سب سے بھاری سرمایہ کاری کرنے والے بھارتی شہری ہیں۔ اس کے بعد پاکستانیوں کا نمبر آتا ہے۔ بھارتی سرمایہ کاروں کے مقاصد جو بھی ہوں، پاکستانی سرمایہ کاروں کے عزائم کا اندازہ لگانا چنداں دشوار نہیں۔ موجودہ حالات میں کون پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہے گا؟اگر آپ کے پاس بھاری رقم ہے۔ اور پاکستان میں ایسے افراد کی کمی نہیں تو آپ کے لئے دبئی ایک پرکشش مقام ہے۔اہم بات یہ کہ دبئی پاکستان سے صرف دوگھنٹوں کی پرواز پر ہے۔ ہمارے ہاں درمیانے طبقے اور قدرے اپرکلاس کے ڈرائنگ رومز میں گفتگو کا صرف ایک ہی موضوع ہوتا ہے کہ یہاں کس طرح ہر چیز گراوٹ کا شکار، اور صورت ِحال تیزی سے مایوس کن ہوتی جارہی ہے۔ہجرت کی نفسیات رکھنے والے اس ملک میں جس کو بھی موقع ملتا ہے وہ بیرونی ممالک چلا جاتا ہے۔ دولت مندافراد کی اس ملک میں کوئی کمی نہیں۔ ایسا لگتاہے کہ اس صدف آسا ملک میں ان کا ہر سنگریزہ گوہر ِ آبدار بن جاتا ہے، لیکن وہ بھی بیرونی ممالک میں پائوں دھرنے کے لئے کوئی نہ کوئی جگہ ضرور رکھتے ہیں۔ کوئی اپارٹمنٹ ، کوئی فلیٹ، کوئی چھوٹا موٹا محل۔ دیار ِ غیر میں سرچھپانے کے لئے کوئی سائبان تو چاہئے ۔ پاکستان میں کسی بھی وقت موسلا دھار بارش ہوسکتی ہے، اس لئے اگر کہیں اور چھت نہ ہو تو انسان کو خواہ مخواہ پریشان ہونا پڑتا ہے، اور پھر( محاورہ تو کچھ اور ہے)، ’’سائباں بہ کارآید‘‘ ۔ یہ ہوتو دیگر لوازمات دستہ بستہ حاضر۔
ہر صاحب ِ حیثیت شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اُس کے بچے بیرونی ممالک میں تعلیم حاصل کریں۔ ہو سکتا ہے کہ بچے انتہائی نالائق ہوں اور بہترین تعلیم بھی ان پر بے اثر رہے، لیکن چونکہ والد کی جیب بھاری ہے ، اس لئے اُنہیں بیرونی ممالک کے تعلیمی اداروں میں ضرور پڑھنا چاہئے، چاہے اس کے لئے کوئی فرضی مونٹی سیلو یونیورسٹی کیوں نہ اختراع کرنی پڑے، اور کسی بہادر شاہ کو تزک ِ بابری کا مصنف منوایا جائے۔ میری بیٹی رابعہ اپنی قانون کی تعلیم یہاں بھی بطریق ِاحسن مکمل کرسکتی تھی لیکن اُس نے لندن جانے پر اصرار کیااور یوں اُس کی تعلیم نے میرے غیر ملکی کرنسی اکائونٹ کا نہایت کامیابی سے صفایا کردیا۔ میرا چھوٹا بیٹا ، شہریار ابھی نویں جماعت میں ہے لیکن وہ بھی تعلیم کے لئے بیرونی ممالک کا رخ کرنے کے لئے کمر بستہ ہوچکا ہے۔ اس سے یہ بھی انداز ہوتا ہے کہ یہاں کے تعلیمی نظام پر نوجوان نسل ہر گزاعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں۔
تاہم کسی کو بھی تعلیمی نظام کی فکر نہیں۔ یہ ہماری ترجیحات میں سب سے نچلا درجہ پاتی ہے کیونکہ اس کے معیار کے زوال سے اشرافیہ اور ملک کے فیصلہ ساز حلقوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اُن کے لئے دیگر مواقع موجودہیں اور وہ نہایت آسانی سے اُن سے استفادہ کرلیتے ہیں۔ والدین بھی فخر سے بتاتے ہیں کہ اُن کے بچے بیرونی ممالک میں تعلیم حاصل کرتے ہیں یا وہ وہاں کام کرتے ہیں۔ شاید یہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں اخبارات بھی اپنے اداریئے کے صفحے پر شائع ہونے والے مضامین کے لکھاریوں کا یہ کہہ کر تعارف کراتے ہیں کہ وہ کسی بیرونی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل یا طالب ِعلم ہیں۔ بیرونی ممالک کے تعلیمی اداروں سے حاصل کی جانے والی ڈگری ہی علم کی اصل سند ذہانت کا معیار قرار پاتی ہے۔ ایک دن مجھے ایک ذہین خاتون نے فون کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ صورت ِحال یونہی رہے گی یا پھر گھٹا ٹوپ تاریکی میں امید کی کوئی کرن ہویدا ہونے کا امکان ہے؟میرا جواب تھا کہ یہ ملک ہم نے حاصل کیا تھا اور ہمارے پاس دنیا میں صرف یہی ایک سائباں ہے۔ دھوپ ہو یا بارش، ہمارے لئے جائے پناہ یہی ملک ہے۔ اس کے سوا کوئی جائے مفر نہیں۔ میں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے مذہبی شدت پسندی کی بنیاد پر اپنی ریاست قائم کرتے ہوئے بہت سی مشکلات کو دعوت دے ڈالی۔ ان میں تنگ نظری ، عدم برداشت اور دقیانوسی سوچ سر ِ فہرست ہیں ۔ مسٹر جناح کی گیارہ اگست کی تقریر قدرے تاخیر سے کرائی گئی یاددہانی ثابت ہوئی کیونکہ اس سے پہلے پلوں کے نیچے سے بہت ساپانی بہہ چکا تھا۔ بنیاد پرستی کے بیج بوئے جاچکے تھے اور مولانا ابوالکلام آزاد نے شاید ان نتائج کو بھانپ لیا تھا۔ اس وقت شاید ان کا نام بھی پاکستان میں لینا ممنوع ٹھہرا۔ عجیب بات یہ ہے کہ زیادہ تر پاکستانی، جن کے پاس اور کوئی آپشن موجود نہیں، اپنے وطن سے مخلص ہیں لیکن اشرافیہ اس ملک سے مایوس دکھائی دیتی ہے۔ ان کی نگاہوں کا زاویہ کسی اور منزل کی نشاندہی کرتا ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ ہم نے بھارت کو دولخت کرکے اپنا ملک تراشا اور اب ہم ہی یہاں سے جانا چاہتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم ایک بہترین ریاست قائم کرکے دنیا کے سامنے ایک نمونہ پیش کرتے کہ تقسیم ِ ہند کا یہ مقصد تھا لیکن اب دنیا دیکھتی ہے کہ اس ملک کے باسی خود بھی یہاں سے جانا چاہتے ہیں۔ ہمارے سامنے مسئلۂ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے ماضی کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ ہمارا ماضی بے خطا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اپنے ماضی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہندوستان میں مسلم تہذیب زوال پذیر تھی تو ہم نے الگ ریاست حاصل کرلی۔ جب ہم یہاں اپنے عروج پر تھے تو ظاہر ہے کہ ہم الگ ریاست حاصل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ تاہم یہ ایک طویل بحث ہے۔ فی الحال ہمارے زوال کی کہانی درودیوار پر لکھی ہوئی ہے۔ ہم ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ پائے ہیں۔ اور تو اور، جس طرح شاہد آفریدی نے گزشتہ میچ میں کیچ گرایا، وہ آج کے پاکستان کی مایوس کن صورت ِحال کی شہادت دیتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *