غصہ کیوں؟

عرفان حسین

Photo-Irfan-Hussain-sb-2

جو شخص بھی ٹویٹر استعمال کرتا ہے وہ مختلف عوام کی طرف سے غصہ اور احتجاج کے طریقہ کار سے واقف ہو چکا ہو گا۔ میں جب بھی عمران خان پر تنقیدی تبصرہ لکھنے کی جرات کرتا ہوں، مجھے ہر بار سخت غلیظ الفاظ اور القابات سے نوازا گیا ہے۔ یہی حال دوسرے صحافیوں کا بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن پی ٹی آئی اکیلی ان اوصاف کی مالک نہیں ہے۔ میں اسی طرح کی غصیلی ای میلز اور ٹویٹس دوسری جماعت کے کارکنان سے بھی سن چکا ہوں اگرچہ ایسے تجربات پی ٹی آئی کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ جب مجھے گالی گلوچ والے بد نما پیغامات ملتے ہیں تو میں اندازہ لگا لیتا ہوں کہ میں صحیح کام کر رہا ہوں۔ کچھ لوگوں کی طرف سے حمایت اور سپورٹ بھی ملتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس قدر غصہ عوام میں کیوں پایا جاتا ہے؟ ہم اختلاف کو برداشت کرنے کا مادہ کیوں کھو چکے ہیں؟

لیکن اس معاملے میں ہم پاکستانی اکیلے نہیں ہیں۔ دنیا بھر میں ایسا ہی غم و غصہ دیکھا جا رہا ہے۔ زیادہ سے زیادہ لوگ شدت پسند ہوتے جا رہے ہیں اور اختلاف برداشت کرنے کا مادہ کھو رہے ہیں۔ بہت سے مواقع پر حالات قتل و غارت تک پہنچ جاتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے عہدے کےلیے مہم اور فتح نے امریکی معاشرے کو تقسیم کر دیا ہے۔ لبرل عوام ٹرمپ کے حمایتیوں کے خلاف سخت رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور جن لوگوں نے ٹرمپ کو ووٹ دیا وہ لبرل ایلیٹ کو دھمکیاں دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک صحافی دوست جو امریکہ کے صدارتی انتخابات کی کوریج کر رہا تھا نے ٹرمپ کے حمایتوں سے سخت خوف میں رہنے کے بارے میں بتایا اور کہا کہ ٹرمپ کے حمایتی جلسوں میں گنیں لیے پھرتے تھے۔

برطانیہ میں بریگزٹ کے مسئلے پر ووٹنگ سے فیصلہ ہو چکا ہے لیکن ابھی اس بریگزٹ کے حمایتی اور مخالفین کے جذبات ٹھنڈے نہیں ہوئے ہیں۔ پچھلے سال لیبر پارٹی کے ایم پی جو کوکس کو دن دیہاڑے شدت پسند حملہ آور نے موت کے گھاٹ اتار دیا

اگرچہ یہ ظالمانہ حرکت افسوسناک تھی لیکن الفاظ کی جنگ ابھی بھی برطانیہ جیسے تحمل مزاج معاشرے میں بھی جاری ہے۔ ابھی کچھ دن قبل دونوں جماعتوں کے ایم پی اے حضرات ایک دوسرے کو سوشل میڈیا پر گالی گلوچ کرتے اور دھمکیاں دیتے رہے۔ گینا ملر جو ایک مہاجر ہیں، نے بریگزٹ معاملے میں پارلیمنٹ کے حقوق کے لیے ایک مہم چلائی اور انہیں رائیٹ ونگ میڈیا کی طرف سے اپنی کامیاب کوششوں پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ روڈری فلپس نے تو ان کو چپ کروانے والے کےلیے 5000 پاونڈ کی رقم کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے فیس بک پر ایک پوسٹ کے ذریعے یہ پیغام دیا: اگر امیگرینٹ حضرات سے ہمیں یہی ملنا ہے تو بہتر ہے ہم انہیں واپس جنگل کی طرف روانہ کر دیں۔ تشدد پر اکسانے کے جرم میں انہیں 12 ہفتے قید سہنا پڑی۔ کچھ عرصہ قبل دی اکانومسٹ نے سوال پوچھا کہ برطانوی سیاست اس قدر بد نما کیوں بن گئی ہے؟ آج ہر سوال کا جواب بریگزٹ ہے جس نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ہفتہ وار اخبار نے اس کے پیچھے کچھ دوسری وجوہات بھی پیش کیں ۔ ترکی میں اردگان کے حمایتوں اور مخالفین کے بیچ ایک مستقل خلا پیدا ہو گیا ہے۔ یہ خلاف تعلیم یافتہ، شہری علاقوں کے رہائشی، سیکولر ترکوں اور قدامت پسند قومیت پرست شہریوں کے بیچ واقع ہوا ہے۔

بھارت میں مودی نے اپنے ملک کو ہندو نیشنلزم کے ذریعے پولرائز کر دیا ہے۔ یہاں بھی خلاف تعلیم یافتہ بھارتی شہریوں جو نہرو کی سیکولرزم کے مداح ہیں اور ان لوگوں کے بیچ ہے جو مودی کو جنون کی حد تک اپنا لیڈر مانتے ہیں۔ بارہا مودی بھگتوں نے اپنے مخالفین پر تشدد کا راستہ اختیار کیا ہے۔ نئے انڈیا میں تمام اقلیتیں خطرے میں نظر آتی ہیں۔

اس طرح کی آراء کافی عرصہ سے دیکھنے کو مل رہی ہے لیکن اب اس نے جو صورت حال اختیار کر لی ہے ا سکی کیا وجہ ہے؟ پہلی وجہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ ناراض عوام کی آواز کے لیے ایک میگا فون کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اب لوگ لوکل کلب یا اپنے گھر میں غصہ اتارنے کی بجائے ٹویٹر، فیس بک اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اس طرح تنہائی کا شکار لوگ اپنے نفرت بھرے پیغامات اور اختلاف کا اظہار سوشل میڈیا پر کرتے ہیں۔ اس طرح ویب سماج میں نفرت کے اظہار کا تازہ ترین ذریعہ بن چکا ہے۔ عدم برداشت میں اضافہ جمہوریت کےلیے زہر قاتل ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ غصہ کیے بغیر کسی کے اختلاف کو جھیل نہیں سکتے۔ پاکستان میں بھی ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اس اہم معاملے کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اختلاف کے ساتھ عدم برداشت نے ہماری سیاست کو گندا کردیا ہے اور اب یہ رویہ حد سے بڑھتا جا رہا ہے۔ ایم کیو ایم نے سب سے زیادہ جارحانہ اور پر تشدد طریقہ اپنائے رکھا لیکن دوسری پارٹیاں بھی پیچھے نہیں رہیں۔ اس وقت پنجاب میں جو عدم برداشت کا رویہ پروان چڑھ رہا ہے اس سے پاکستان کی جمہوریت خطرے میں نظر آتی ہے۔ اس زہریلے مباحثے کے طریقہ کار میں پی ٹی آئی سب سے آگے ہے اور اس کے رہنما ہر کسی کو دھمکاتے نظر آتے ہیں۔ سیاست سے نفرت کو کیسے نکالا جا سکتا ہے؟ ایک دن آئے گا جب ہمارے رہنما اس قدر میچور ہو جائیں گے کہ بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے مسائل اور اختلافات کا حل نکال سکیں؟ فی الحال تو ایسی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *