چرن اور کرم 

ata ul rehman saman

ماسٹرچرن دین اور ماسٹر کرم دین نرسری سے میٹرک تک کلاس فیلو رہے تھے۔بعدازاں ایک ہی جگہ سے ایس وی (SV)کی ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد ایک مشنری سکول میں ملازمت اختیار کی جو 1972میں سرکاری تحویل میں لے لیا گیا تھا۔چرچ انتظام کے تحت کام کرنے کے باعث اُن کے اسلوبِ کار میں محنت ، محبت اور احساسِ ذمہ داری کے عنصر نمایاں تھے۔
دونوں ہی اپنے اپنے مضامین کے حاتم تھے۔ کرم صاحب ریاضی پڑھانے میں خصوصی مہارت رکھتے تھے۔ دوسری طرف ماسٹر چرن بھی اعلیٰ استاد تھے۔مڈل حصہ میں سائنس اور انگریزی کے مضامین پڑھانے میں اُن کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ دنیا جہاں کا علم اُ ن سے بہتا تھا۔ پرانے سنگی ہونے کے ناطے ماسٹرچرن اورکرم کی آپس میں خوب بنتی اور ٹھنتی تھی۔ اُن کے درمیان بے تکلفی کی کوئی حد نہیں تھی ۔ حفظِ مراتب کا بہت خیال ر کھا جاتا ۔ مجال ہے جو اخلاق کے دائرے سے باہر نکلے ہوں چنانچہ اخلاق کا دائرہ اپنی گنجائش کے مطابق وسیع کر لیا کرتے تھے۔کرم صاحب کثرتی جسم کے مالک تھے۔جوانی میں پہلوانی کی تھی۔ سننے میں آیا ہے کہ پھرتی کا یہ عالم تھا کہ دوسرے پہلوان کو منٹوں میں چت کر دیتے تھے۔کبڈی میں بھی خوب نام کمایا تھا۔ دوسری طرف موٹے تازے چرن صاحب کشتی وغیرہ سے نا بلد تھے تاہم صحت کے اعتبار سے کم وبیش کرم صاحب جیسے ہی تھے۔ دونوں ایک دوسرے کی بات میں سے اختلاف کی گنجائش نکال لیتے ، اور پھر خوب مذاق جمتا ۔ چرن صاحب مذاق سمیت ہر معاملے میں مد مقابل کو طاقت سے چت کرنے پر یقین رکھتے تھے۔چنانچہ مذاق میں حسب معمول پسپائی کی صورت وہ کرم صاحب کی کشتی پر سوال اٹھاتے اور لگے ہاتھ چیلنج بھی دے ڈالتے تا ہم باقاعدہ کشتی کی نوبت کبھی نہیں آئی البتہ چرن صاحب زد میں آئے ہوئے مذاق سے بچ جاتے ۔احباب اِس نونک جھونک سے لطف اندوز ہوتے اور حسب توفیق اِس کے تسلسل اور طوالت میں اپنا حصہ ڈالتے۔

Image result for two old friendsجسمانی سزا کا زمانہ تھا ۔ جیسے خود پڑ ھے تھے ویسے ہی پڑھانے پر یقین رکھتے تھے۔ بلڈ پریشر کے عارضے کے باعث جلد غصہ آ جاتا تھا۔ بھاری بھر کم جسم میں دل بہت ڈرپوک تھا۔ ذرا سی بات پہ ڈر جاتے تھے۔چنانچہ ساتھی اساتذہ بالخصوص کرم صاحب اِس وصف کا خوب عملی پروگرام لگاتے تھے۔ ایک روز کرم صاحب کو پتہ چلا کہ چرن نے نہر پار کے کسی بچے کی پٹا ئی کی ہے ۔ اگلے روز آدھی چھٹی میں سٹاف روم سے باہر چرن کو بلوا کر اکیلے میں راز داری سے پوچھا کہ کیا تم نے کسی بچے کو مارا تھا۔ چرن صاحب نے اثبات میں سر ہلایا تو ماسٹر کرم نے انکشاف کیاکہ سکول کے باہر دو پٹھان کھڑ ے تھے ۔ تمہارا نام لے کر پوچھ رہے تھے۔ ہو نا ہو یہ اُس بچے کے گھر والے ہیں۔ ماسٹر چرن کے تو پسینے چھوٹ گئے۔ کرم صاحب نے اُسے کہا تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ سکول ختم ہو تو سکول کی پچھلی دیوار سے اپنا سائیکل لے کر دوسرے راستے سے نکل جاؤ ۔ ہیڈ ماسٹر کو خبر ہوئی تو الگ سے پھنس جاؤ گے۔ چنانچہ سکول ختم ہونے کے بعد کرم صاحب کی مدد سے سکول کے پچھواڑے کی دیوار سائیکل سمیت پھلانگی گئی اور ماسٹر چرن کوئی تین میل کا اضافی چکر لگا کر اپنے گھر پہنچے۔ ایک بار پھر ایسا ہی واقعہ رونما ہوا تو انہوں نے اپنا بر تاؤبدل لیا۔ اب کہ وہ سزا دینے سے پہلے بچے سے پوچھتے ۔ تمہارے کتنے بھائی ہیں۔ بڑے ہیں یا چھوٹے۔ کیاکرتے ہیں۔ چنانچہ اگر بچے کے تین چار بھائی ہوتے اور عمر میں بڑے ہوتے تو اُس کی جان چھوٹ جاتی اور اگر بچے کا کوئی بڑا بھائی نہ ہوتا اور باپ بھی سخت مزاج نہ ہوتا تو اُس کا کا خمیازہ بہر حال بچے کو بھگتنا ہی پڑتا ۔
چرن صاحب کی 12 ایکڑ پر کاشت تھی۔ یوں ہوا کہ کپاس کی فصل اچھی ہوئی اور سا ئیکل پر آنے والے چرن صاحب نے کار خرید لی۔چرن صاحب کے گاؤں سے ہمارے گاؤں تک پیدل چلنے کا راستہ کوئی 35سے 40منٹ کا تھا۔ پختہ سڑک تھی ۔ کچھ روز اپنے گاؤں میں کھلی جگہ پر مشق کرنے کے بعد خیر سے پہلے روز کار پر سکول آئے تو پہلا امتحان گاڑی کو پارکنگ کی جگہ پر کھڑی کرنا تھا۔ کوئی دس پندرہ منٹ کی مشقت (جس میں چار طلباء کی رہنمائی بھی شامل تھی)کے بعد یہ مرحلہ طے ہوا۔ ابھی پہلا پیریڈ شروع ہوا تھا کہ ایک چرواہا بکری کا مرا ہوا بچہ لے کر ہیڈ ماسٹر صاحب کے آفس پہنچ گیا ۔ اُس کا کہنا تھا کہ وہ سڑک پر بکریاں چرا رہاتھا کہ ماسٹر چرن نے گزر تے ہوئے بکری کے بچے پر گاڑی چڑھا دی جس کے باعث وہ موقعہ پر ہی مر گیا ۔ چرواہا بکری کے بچے کی قیمت طلب کر رہا تھا۔ماسٹر چرن صاحب کو بلوایا گیا تو نہایت معصومیت سے بکری کے بچے کو قصور وا ر قرار دے دیا۔ ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے ( جس طرح چرواہے اپنی بکریوں کو ہانکتے ہیں یا کسی جگہ سے ہٹاتے ہیں اُس کا باقا عد ہ ہاتھ سے مظاہرہ کرتے ہوئے ) فرمایا ،’’ میں تواُسے ہٹانے کے لئے شی شی کرتا رہا یہ سامنے سے ہٹا ہی نہیں۔ ‘‘پاس بیٹھے ہوئے ایک استاد نے دریافت کیا کہ آپ نے ہارن نہیں بجایا۔ سڑ ک پر پھرنے والے جانور ہارن سے مانوس ہوتے ہیں اور سن کر ہٹ جاتے ہیں۔ کہنے لگے ہارن تو میں نے کبھی بجایا ہی نہیں۔ جب میں منہ سے شی شی کر رہا ہوں تو جانور کو ہٹ جانا چاہئیے۔
بھاری بھر کم چرن صاحب خوش مذاق اور خوش خوراک تھے۔ انہوں نے علاج بلاغذا کا مطلب کچھ اس طرح لیا تھا کہ ہر بیماری اور تکلیف کا علاج کھانے میں ڈھونڈ ا جائے۔ایک روز اُن کی آنکھیں سوجھی ہوئی تھیں۔ اسکول آتے ہی اپنے ساتھی استاد لیموئیل کی عینک لے کر آنکھوں پر چڑھا لی۔ ہم نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ آنکھوں میں قطرے ڈالتا ہوں تو ریکشن کے باعث سوجھ گئیں ہیں ۔ ہم نے مشورہ دیا کہ یہ قطرے ڈالنا بند کر کے ڈاکٹر کے مشورے سے دوسرے قطرے استعمال کئے جائیں ۔ جواب دیا ، اِس کی کیا ضرورت ہے ، میں نے ایک دودھ انڈے کاا ضافہ کر دیا ہے ( ایک گلاس دودھ اور ایک انڈہ اُن کی روز انہ خواراک کا حصہ تھی اب مقدار دگنی کر دی گئی )۔ بلند فشارِ خون (ہائی بلد پریشر)کا عارضہ بھی تھا تا ہم بڑے گوشت پر جان دیتے تھے۔ اسکول میں کوئی کھانے پینے کا پروگرام ہوتا تو اگلے روز پیٹ خراب ہونے کے باعث اُن کی چھٹی کی درخواست پکی ہوتی۔
ایک روز سکول میں ساتھ بیٹھے تھے تو ہم نے بڑے گوشت کے نقصانات گنواتے ہوئے بتایا کہ دیکھئے شیر گوشت کھاتا ہے ۔ اُس کی عمر 35سے40سال ہوتی ہے ۔ وہ عموماً ہائی بلد پریشر کا مر یض ہوتا ہے اور اُس کی موت ہارٹ اٹیک کے باعث واقعہ ہوتی ہے ۔ اُس کے مقابلے میں ہاتھی صرف سبزیاں کھاتا ہے ۔ اُس کی عمر 75سے150سال ہوتی ہے ۔ اِس سے پہلے کہ ہم انہیں بڑا گوشت ترک کرنے کی درخواست کرتے ، وہ برجستہ بولے، ’’ تو اِس کا مطلب یہ ہوا کہ ہاتھی کا گوشت کھانا چاہئیے۔‘‘ اُن کی نکتہ دانی پر قائل ہو نے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *