آخری اننگ

tariq ahmed

میں نے 2004 میں اپنی تیسری کتاب لکھی تھی۔ اس کا ٹائٹل تھا۔ آخری اننگ۔ میرا تھیسس یہ تھا۔ جرنیل پاکستان پر اپنے اقتدار کی آخری اننگ کھیل رھے ھیں۔ جنرل مشرف کی آمریت پاکستان میں آخری فوجی حکومت ھو گی۔ اس کے بعد سویلین بالا دستی کا دور شروع ھو گا۔ ایک بات تو اب تک ثابت ھو گئ ۔ کہ جنرل مشرف کے بعد کوئی نیا فوجی آمر اب تک اقتدار پر قبضہ نہیں کر سکا۔ ایک بات اور ثابت ھوئی کہ اسٹیبلشمنٹ کمزور پڑ گئ۔ پہلے یہ فرنٹ پر کھیلتی تھی۔ اور عدلیہ سے اپنے اقدامات کی توثیق کرواتی تھی۔ اب یہ عدلیہ کے پیچھے چھپ کر کھڑی ھے۔ اور مضحکہ خیز فیصلوں سے خود کو بھی اور عدلیہ کو بھی ایکسپوز کر رھی ھے۔ پہلے یہ مارشل لاء لگاتے تھے۔ پھر نبے کی دھائ میں حکومتیں بدلنے لگے۔ پھر خالی وزیراعظم کو تبدیل کرنے تک بات پہنچی۔ پارٹی حکومت کو نہ چھیڑ سکے۔ جن لوگوں کا خیال ھے۔ نواز شریف کی نااہلی سے اسٹیبلشمنٹ مضبوط ھوئ ھے۔ یا اس نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ھے۔ وہ غلط فہمی میں ھیں۔ جس بھونڈے طریقے سے عدلیہ کے ساتھ مل کر یہ کاروائی کی گئی ھے۔ اس نے اسٹیبلشمنٹ کی کمزوری اور خوف کو ننگا کر دیا ھے۔ اس کے بعد کسی نئے وزیراعظم کے ساتھ ایسا رویہ رکھنے سے پہلے انہیں ھزار بار سوچنا پڑے گا۔ یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ھے۔ جتنی جلدی ھماری اسٹیبلشمنٹ یہ حقیقت مان لے کہ وقت تیزی کے ساتھ تبدیل ھو رھا ھے۔ اتنا ھی بہتر ھے۔ سندھ ، کراچی ، بلوچستان اور پشتون بیلٹ کے بعد اب پنجاب میں بھی اینٹی اسٹیبلشمنٹ جذبات پک رھے ھیں۔ اور یہی نواز شریف کی کامیابی ھے۔ ھمارے جرنیلوں کو یہ سوچنا ھو گا۔ پاکستان کا وزیر اعظم ان کا باس ھے۔ سپہ سالار ایک وزیراعظم کی برابری نہیں کر سکتا۔ اس کے برابر نہیں بیٹھ سکتا۔ وہ وزیراعظم کے اختیارات پر قبضہ نہیں کر سکتا ۔ اسے ھر حال میں وزیراعظم کو سیلیوٹ کرنا ھو گا۔ پالیسیاں بنانا منتخب حکومت کا کام ھے۔ یہ قومی مفاد کے نام پر سویلین پر بالا دستی اب مزید دیر جاری نہیں رھے گی۔ مجھے نظر آ رھا ھے ۔ پارلیمنٹ اپنی بالا دستی کے لیے اکھٹی ھو رھی ھے۔ عدلیہ اور عسکری اداروں کے ناجائز قبضے کو چھڑوایا جائے گا۔ جس طرح اٹھاون ٹو بی کا خاتمہ ھوا ۔ تیسری بار وزیراعظم نہ بننے کی شق کا خاتمہ ھوا۔ بی اے کی شرط کا خاتمہ ھوا۔ اٹھارویں ترمیم پاس ھوئ۔ اسی طرح باسٹھ تریسٹھ کا کام تمام ھو گا۔ آرٹیکل ایک سو چوراسی میں ترمیم ھو گی۔ جرنیلوں اور ججوں کی ترقی کے نئے قوانین وجود میں آئیں گے۔ انہیں پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ بنایا جائے گا۔ ان کے بجٹ کا حساب ھو گا۔ اور ججوں اور جرنیلوں کے غیرقانونی و غیر آئینی فیصلوں پر ان کی پکڑ ھو گی۔ میڈیا پر بیٹھ کر جمہوریت اور منتخب وزیراعظم کو گالی نکالنے والوں پر بھی قانون لاگو ھو گا۔ جو لوگ نواز شریف کو ڈرا رھے ھیں۔ خاموشی سے بیٹھے رھو۔ اگر سڑک پر نکلے۔ تو قید کر دیں گے۔ یہ ان کے اپنے اندر کے خوف کا اظہار ھے۔ آنے والے وقت میں یہ تماشہ لگے گا۔ پارلیمنٹ قانون بنائے گی۔ اور عدلیہ اسے کالعدم قرار دے گی۔ پارلیمنٹ پھر قانون بنائے گی۔ اور میں آپ کو بتا دوں۔ آخری جیت پارلیمنٹ کی ھو گی۔ اگر آپ پارلیمنٹ کو اٹھائیں گے۔ اور کوئی کیر ٹیکر سیٹ اپ لائیں گے۔ پاکستان کی سیاسی پارٹیاں آپ کا یہ سیٹ اپ تین ماہ میں اپ سیٹ کر دیں گی۔ ذرا اس منظر کو ذھن میں لائیں۔ جب بلوچ ، سندھی ، مہاجر، پشتون اور پنجابی لاہور سے ایک لانگ مارچ لے کر نکلیں ۔ تو کیا حشر سامانی ھو گی۔ کیا خوبصورت منظر ھو گا۔ آپ کمزور پڑ چکے ھیں۔ اب آپ نے یہ فیصلہ کرنا ھے۔ آپ نے اقتدار پر اپنا قبضہ خود ختم کرنا ھے۔ پارلیمنٹ سے کروانا ھے۔ یا عوام سے کروانا ھے۔ تاریخ کا پہیہ آگے چلتا ھے۔ اور یہ چل رھا ھے۔ اور یہ چل کر رھے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *