منیر احمد مانک ...سندھی ادب کا منٹو

 کلیم بٹ

Image result for sindhi

 یوں تو سندھی ادب بڑے اتار چڑھائو  سے گزرا ہے، جہاں اس نے عروج دیکھیں ہیں وہیں کتنے ہی ادیبوں کو پابندیوں کا بھی سامنا بھی کرنا پڑا۔ بٹوارے کے بعد پاکستانی ادیبوں کو سب سے بڑی دشواری سامنے آئی وہ آئیڈنٹٹی کرائسس کی تھی۔ اس کا ہم سندھیوں پر بھی بڑا گہرا اثر ہوا۔ ہم اس الجھن کا شکار ہوگئے کہ آیا ہمیں ریاست کی طرف سے مسلط کردہ مذہبی تہذیب کے پیچھے چلنا چاہیئے یا ہم اپنی ہزاروں سالوں سے چلتے ہوئی تہذیب کی پاسداری کریں!! یہی سبب ہے کہ سندھی ادب کو کتنے ہی اتار چڑھائو کا سامنا کرنا پڑا۔ اکثر یہ سوچا اور سمجھا جاتا ہے کہ جب بھی ملک میں سیاسی فضاء  الٹ پھولٹ ہو جائے تو اس صورتحال میں معیاری ادب تخلیق ہوتا ہے۔ سندھی میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والا افسانہ نویس امر جلیل اپنی کتاب جڈھن مان نہ ھوندس ( جب میں نہیں رہوں گا )  میں لکھتا ہے کہ: میں عام رواجی حالتوں میں نہیں لکھ سکتا ہوں ۔۔۔۔

ادب کے اپنے ہی زاویئے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ یوں تو ادب کسی سرحد کا محتاج نہیں ہے مگر ادب کی اپنی ہی سرحدیں ہوتی ہے۔ اگر ہم سندھی ادب پر نظر ڈالیں تو افسانہ نویسی کے حوالے سے ہمیں کتنے ہی اہم نام ملیں گے جن کہ لکھنے کا مرکز ہمیشہ سندھ رہا ہے۔ ان ہی ناموں میں سے ایک نام منیر احمد مانک بھی ہے، جو آج بھی سندھ کے ادبی حلقوں میں مانک کے نام سے مشہور ہے۔ مانک کی پیدائش ۵ مارچ ۱۹۴۳ ع میں نوشہرو فیروز میں ہوئی ۔ انہوں نے سوشالوجی میں ماسٹر کی ڈگری لی اور ایل ایل بی بھی کیا۔ وہ کچھ عرصہ درس و تدریس کے شعبے سے منسلک رہے۔ کچھ عرصہ وکالت کی اور پھر صحافت بھی کی، مگر جب ان کو ان تمام شعبوں میں کوئی امید نظر نہیں آئی تو نوابشاہ میں میڈکل اسٹور چلانے لگے۔

جب سندھ کو ون یونٹ زم کر کے اس کی پہچان ختم کر دی گئی تو سندھ احتجاج میں اٹھ کھڑا ہوا، سندھی ادیبوں نے اپنے قلم سے گولیوں کا مقابلہ کیا۔ مانک بھی اسی دور میں ادبی دنیا کا حصہ بنے۔ مانک کو اس دور کے کرپٹ اور نااہل سیاستدانوں پر رتی برابر بھی اعتبار نہیں تھا۔ سیاستدانوں کے پاس نا تو نظریہ تھا اور نا ہی کوئی سیاسی جماعت تھی۔ جبکہ دوسری جانب کمیونسٹ پارٹی پر یو پی سے آئے ہوئے مہاجرین کا قبضہ تھا۔

موہن کلپنا نے مانک کے حوالے سے لکھا ہے کہ: مانک کے لئے سندھ پرستی اور قوم پرستی زیادہ اہم تھی، مگر ان میں جدت پسندی کی بھی تڑپ تھی، جس کی وجہ سے وہ چیزوں کو دوسرے زاویئے سے دیکھتے تھے۔ انہوں نے ہوا میں لٹکنے کے بجائے سندھ کے ساتھ کھڑے ہونے کی کوشش کی۔ جبکہ نصیر مرزا نے مانک کے حوالے سے لکھا ہے کہ: وہ بحرانوں سے گہری ہوئی نسل کا انوکھا نمائندہ تھا۔ انہوں نے جو کچھ بھی لکھا وہ طریقے، زبان، اصلوب اور موضوعاتی حوالے سے انوکھا تھا۔

  مانک کے خطوط سے پتہ چلتا ہے کہ وہ معاشی طور پر اتنے مستحکم نہیں تھے جس کے سبب وہ ذہنی دبائو میں رہنے لگے۔ نصیر مرزا کو ایک خط میں لکھتے ہیں کہ: پیارے دوست امید کے آپ خوش ہوں گے، میں نے اس ترز کے بہت خطوط لکھے ہیں مگر کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔ لیکن پھر بھی آخری بار یقین کو پختہ کرنے کے لئے لکھ رہا ہوں۔ میں وکالت اور میڈکل اسٹور دونوں میں ہی ناکام ہوچکا ہوں، کیوں کہ میری پرورش ہی کچھ اس طریقے سے کی گئی ہے کہ میں دوکھے بازی نہیں کرسکتا اور یہ دونوں کام دوکھے کے بغیر چل ہی نہیں سکتے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا سندھی ادبی بورڈ میں کچھ آسامیاں خالی ہیں کیا۔ وہاں کے چئیرمین میرے دوست ہیں۔ انہوں نے مجھے یقین دلایا تھا کہ اگر کوئی آسامی آئی تو مجھے بتایا جائے گا۔ میرے پاس ایم اے سوشالوجی اور ایل ایل بی کی ڈگریاں ہیں۔ آپ اگر اس معاملے میں جلد ہی کوئی جواب دیں گے تو آپ کی نوازش ہوگی۔ آپ آج کل کیا کر رہے ہیں، کوئی نئی کتاب مارکیٹ میں آئی ہے کیا۔ اگر ہاں تو ایک کاپی بجھوا دیں، آپ کی نوازش ہوگی۔ ذہنی دبائو کے سبب میں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔۔۔

مانک کے اور بھی اسے خطوط ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کے وہ کتنے ذہنی الجھن کا شکار تھے۔ مانک نے سو سے زائد کہانیاں، دو مکمل ناول اور تیں ناولیٹ لکھے۔ ان کے کتابوں کی فہرست یوں ہے:

حویلی جا راز (حویلی کے راز، کہانیاں)

ساھ مٹ میں (سانس مٹھی میں، ناول)

لھندڑ نسل (ڈوبتی ہوئی نسل، ناول)

رجن عیں پڑلا (بیاباں اور گونجتی آوازیں، ناولیٹ)

پاتال میں بغاوت (پاتال میں بغاوت، ناولیٹ)

پچھتائو (پچھتاوا، ناولیٹ، یہ مانک کی زندگی میں نہیں شایع ہوسکا، حالیہ منور سراج نے مانک کی تحریروں کو مرتب کرکے کتاب مانک جی بریف کیس مان شایع کروایہ ہے جس میں یہ ناولیٹ بھی شامل ہے)۔

سندھی کے مشہور افسانہ نویس شوکت حسین شورو نے مانک کے حوالے سے لکھا ہے کہ: مانک کا سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ وہ ننگا سچ لکھتا ہے۔ اس نے حقیقت سے کپڑے اتار دیئے ہیں۔ میں جانتا ہوں کے ہم میں سے بہت اس بات کو قبول نہیں کریں گے۔

مصنف اور پبلیشر ناز سنائی کے مطابق: مانک۔۔ منیر سندھی۔۔۔۔ منیر۔۔۔۔ ہماری سندھی زبان کا وہ باہمت اور نڈر لکھاری تھا جس نے اپنی شعوری آنکھ کھلنے کے ساتھ جو راستہ اپنایا، اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اسی پر ڈٹا رہا۔ جب مانک کی تحریریں شایع ہونے لگیں تو لگا جیسے بدبودار اور کھڑے ہوئے پانی میں ہل چل سی مچ گئی ہو۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کی تحریریں نئی لہروں کو جنم دینے لگیں۔ ان کی تحریریں پڑھ کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ وہ اپنے فن، فکر اور فلسفہ سے سچے تھے۔ انہوں نے جو بھی لکھا وہ بہادری اور بنا کسی خوف کے لکھا۔ جب انہوں نے معاشرے کی برائیوں پر لکھا تو پورے معاشرے کو ہی ننگا کردیا۔

جبکہ منور سراج مانک کے بارے میں لکھتے ہیں: میں نے جتنا زیادہ مانک کو پڑھا خود کو اتنا ان کے قریب محسوس کیا۔ ان کی ساری کی ساری تحریریں مجھے اپنی اپنی سی لگنے لگی۔ میں نے جب بھی اور جہاں بھی مانک کو پڑھا خود کو ان کا ایک حصہ تصور کیا۔

جیساکہ مانک کی تحریریں قارئین پر انقلابی اثرات چھوڑ رہیں تھیں۔ اس لئے ضیاء کی آمریت کے دوران ان کی تحریروں پر فحاش نگاری کا الزام لگا کر پابندی لگادی گئی۔ اب ان کی کوئی بھی تحریر پاکستان میں شایع نہیں ہوسکتی تھی۔ اسی لئے ان کے دونوں ناول ہندوستان سے شایع ہوئے۔ ۷۰ اور ۸۰ کی دہائی میں مانک سرعام معاشی بدحالی اور ناانصافیوں کے خلاف لکھتے رہے۔ ایک خط میں مانک لکھتے ہیں کہ: تمام سندھی رسالوں پر پابندی لگی ہے، ماسوائے ان کے جو سیاست سے ہٹ کر عشقیہ داستان شایع کر رہے ہیں۔ مجھے اکثر یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ افسانوں میں جنسی پہلو بلکل بھی نہ ہو اور اصلوب میں بھی شائستگی ہو۔

میں اس بات کا بلکل بھی قائل نہیں ہوں کے ایک ادیب کا دوسرے ادیب سے موازنہ کیا جائے۔ ہر لکھنے والا اپنے مطاعلے، مشاہدے اور تجربات کی بنیاد پر ہی اپنی تحریریوں کو شکل دیتا ہے۔ بھلا یہ کہاں کا انصاف ہوا کہ ایک لکھنے والا ِسرہے سے الگ تجربات سے گزرا ہو اور اس کی تحریروں کا موازنہ کسی اور لکھنے والے سے کیا جائے جو ان تجربات سے آشنا ہی نہیں ہو۔ میں نے یہ بہت سنا ہے کے فلاں تو سندھ کا ہمینگوے ہے اور فلاں تو سندھ کا گئبرل مارکس ہے۔ لیکن ہم اگر مانک کی تحریروں کا تنقیدی جائزہ لیں تو ان کے لکھنے کا انداز اردو کے بی تاج بادشاہ سعادت حسن منٹو سے بہت زیادہ ملتا جلتا ہے۔۔۔ میں اس قابل تو نہیں کہ ان دو عظیم افسانہ نویسوں کی تحریروں کا تقابلی جائزہ لے سکوں مگر پھر بھی دونوں کے بیچ قدرِ مشترکہ چیزوں کو سامنے رکھوں گا۔

دونوں نے معاشی بحران والی زندگی گزاری۔

دونوں پر فحاش نگاری کا الزام لگا۔

مانک اور منٹو دونوں نے عورت کے ساتھ ہونے والے جبر اور ناانصافی کو بے نقاب کیا۔

دونوں نے معاشرے کے دوغلے پن کو بے نقاب کیا، اور فریب کی بنیاد پر شرافت کا لباس اوڑھے اس سماج کو ننگا کردیا۔

دونوں کی تحریروں سے صاف لگتا ہے کہ وہ معاشرے میں رائج ریتی رواج سے خوش نہیں تھے اور اس کو تبدیل ہوتا دیکھنا چاہتے تھے۔

دونوں ترقی پسند ادیب تھے۔

دونوں نے اپنے قلم کی نوک سے اس دوغلے معاشرے کی ناانصافیوں کو چیر پھاڑ کے رکھ دیا۔

نیچے مانک کی کچھ لازوال تحریروں میں سے انتخاب دیا جاتا ہے

کہانی حویلی جا راز (حویلی کے راز؛ یہ افسانہ ایک سید خاندان کی لڑکی کے اردگرد گھومتا ہے جس میں اس لڑکی کی شادی کلام پاک سے کروانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ مگر وہ لڑکی اپنے نوکر کے ساتھ بھاگ کر شادی کرلیتی ہے۔ اس افسانے میں بہت سے تلخ جملے ہیں جن کو پڑھ کر روح کانپ اٹھتی ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ): قرآن پاک سے شادی (اس کو حق بخشوانے کی رسم بھی کہا جاتا ہے اور یہ سندھ کے سیدوں میں کثرت سے پائی جاتی ہے) کے بعد بی بی جنان (سندھ کے لوگ سید خاندان کی عورتوں کو احترام میں بی بی کہتے ہیں) کو دورے پڑنا شروع ہوگئے۔ حویلی میں سبھی کہتے کہ: جیسا کہ بی بی نے قرآن پاک سے شادی کر لی ہے، اس لئے سید خاندان کی کسی نیک روح نے آکر ان کے جسم  میں بسیرہ کر لیا ہے۔ مگر گائوں کی مسجد کے مولوی صاحب کہتے تھے کہ روح کبھی بھی اس گناہ گار دنیا میں آکر نہیں رہ سکتی۔ رہی بات بی بی کی تو اس پر جن کا سایہ ہے۔ وہ جنوں کا سردار ہے اور خاص سیدوں کے گھر کا مہمان بنتا ہے۔ جب بھی بی بی جنان میں جن آتا ہے تو وہ پورے کی پوری لال ہوجاتی ہیں۔۔۔۔۔

اسی طرح مانک ناولیٹ پچھتاوا میں لکھتے ہیں: ہاں جب آدرشوں کا ذکر نکلا ہے تو میں آپ کو بتاتا چلوں: کسی زمانے میں میں بھی بہت آدرشی تھا۔کالیج اور یونیورسٹی والے زمانے میں۔۔۔۔ ہر نوجوان کی طرح میں بھی آدرشی تھا۔۔۔ مگر وہ آدرش تھا کونسا۔۔۔ مجھے خود کو پتہ نہیں۔ بس یہ ہی ایک احساس کے موجودہ نظام اور قدریں سب نامعقول اور ناانصافی پر مبنی ہیں ان کو تبدیل ہونا چاہئے۔۔۔۔

  اس عظیم افسانہ نگار نے معاشی بحرانوں اور بے حس سماج کے رویوں سے تنگ آکر ۲۶ جنوری ۱۹۸۲ کو ۳۹ سال کی عمر میں خودکشی کرلی۔ سندھی افسانہ میں مانک کے بعد ایک خالا سا پیدا ہوگیا۔ جس کو آج تک کوئی پر نہیں کر سکا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *