گلالئی ، ہارون الرشید اورجہنم

naeem-baloch1

پانامہ سکینڈل ہو، سپریم کورٹ کا فیصلہ ہویا عائشہ گلالئی اور عمران خاں کا نیا قضیہ ، اس میں ایک فریق کوکامل حق اور دوسرے کوکامل باطل قرار دینا قطعی طور پر نہ ممکن ہے نہ مبنی برانصاف۔آپ عائشہ گلالئی والے قضیے میں اب تک ہونے والی صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔یہی لگتا ہے کہ عمران خاں اور عائشہ گلالئی کے درمیان ضرور کچھ معاملات تھے۔ یہ بات عائشہ گلا لئی سے شروع ہوئی یا عمران خاں سے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔یہ بات طے ہے کہ رشتے کے سلسلے میں دونوں فریقوں میں کوئی نہ کوئی بات ہوئی ۔ ظاہر ہے کہ اس میں عائشہ گلالئی کے لیے زیادہ کشش ہو گی کہ وہ ایک مقبول سیاست دان اور متوقع وزیر اعظم کی اہلیہ بننے جارہی ہیں۔عمران خاں کے لیے بھی گلالئی میں دلچسپی کے تمام عناصر موجود تھے۔ وہ خوب صورت ، باصلاحیت ،خاندانی اورذہین خاتون ہیں۔ قبل اس کے کہ یہ بیل منڈھے چڑھتی عمران خاں نے ریحام خاں کا دھماکا کر دیا ۔ اس دھماکے کی تفاصیل بھی ہوش ربا ہیں۔ اس پر پڑا پر دہ اٹھنا ابھی باقی ہے اور جب اٹھے گا تو 62،63 کے تلواریں پھر سونتی جائیں گی۔ بہرکیف جب ریحام خاں کے وقتی عشق کا بھوت اترا ، اور حوا کی ایک اور بیٹی مردوں کے ہاتھوں مغلوب اس معاشرے میں اپنے انجام کو پہنچی تو گمان کیا جاسکتا ہے کہ گلالئی اور عمران کے درمیان چلنے والی پرانی گفت و شنید کو نیا جنم ملا ہو گا۔وہ جو کہتے ہیں نا کہ ’’ نو کمنٹس ‘‘ بہت بڑے ’’کمنٹس ‘‘ہوتے ہیں۔عمران خاں کے شادی کے سوال کو نظر انداز کرنے کی بات بہت کچھ کہہ رہی ہے۔
یہ بات بھی یقینی ہے کہ خاں صاحب کی طرف سے پیغامات گئے ہوں گے۔ یہ بھی یقینی ہے کہ خاں صاحب کے ان برقی پیغامات کے جواب میں گلالئی کی طرف سے حمدیہ اور نعتیہ قسم کی باتیں نہیں لکھی گئی ہوں گی۔ان کی طرف سے کم ازکم خوشی کا اظہار تو کیا ہی گیا ہوگا ۔ اس لیے گلالئی نے حامد میر کو صرف وہی پیغامات دکھائے ہیں جو عمران خاں نے کیے۔ یوں اس بات کا بھی جواب ملتا ہے کہ گلالئی نے یہ پیغامات اتنے عرصے کیوں چھپائے رکھے۔چنانچہ اب جبکہ عمران خاں کی طرف سے گلالئی کو صاف اور واضح جواب مل گیا اور عمران کے دل میں ’’ پرانی محبتیں‘‘ کے جاگنے کے واضح اشارے مل گئے اور پھر وہ واقعہ ہو گیا جس میں عمران خان نے ایک بھرے مجمعے میں گلا لئی کو بے رحمی سے ڈانٹ پلا دی تویہ گویا گلا لئی کے لیے پھٹ پڑنے کی وجہ بن گئی۔ نہجانے پیغامات میں کیا کچھ تھا اور ان کے جذبات کوکس قدر ٹھیس پہنچ چکی تھی اور وہ خاتون اول بننے کے ارمان کی کتنی قیمت ادا کر چکی تھیں کہ معاملہ اپنی انتہا کو پہنچ گیا اور گلالئی پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اتر آئیں۔ ظاہر ہے کہ وہ اپنے کیے گئے کوئی پیغامات نہیں دکھائیں گی اور نہ ہی وہ عمران خاں کے پیغامات کو پبلک کر یں گی۔ وہ اپنا کیس عدالت میں لے جائیں گی اور وہیں اپنی نیک نامی کو محفوظ رکھتے ہوئے عمران خاں کے خلاف اپنی جنگ لڑیں گی جس سے مائنس عمران والی مشہور و معروف پیشن گوئی پوری ہو سکتی ہے۔ لیکن وہ اس طرح سے پوری ہو گی، اس کے بارے میں شاید ہی کسی نے سوچاہو!!مگر اس معاملے کا دوسرا پہلو انتہائی افسوس ناک ہے ۔ یہ ہے عمران خان کو کردار و عمل کا ’’ دیوتا‘‘ سمجھنے والے بدقسمت لوگوں کا ردعمل ۔
ذرا ہارون الرشید صاحب کے کالم کو دیکھیے ، چند گھسے پٹے لطیفوں اور روایتوں کو اپنے جاننے والوں سے منسوب کیا تاکہ ان پر اپنے’’ مقدس ‘‘ کالم کا حصہ بنانے کا احسان جتلا سکیں ۔ مقصد عمران خان کی ’’عظمت ‘‘ کو’’ پرنام‘‘ کرنا اور عائشہ گلا لئی پر انتہائی سطحی انداز میں کیچڑ اچھالنا ہے۔ہمیں یقین ہے کہ اس یاوہ گوئی کا انجام بھی وہی ہوگا جس کا سامنا وہ مجھ پر بلا تحقیق الزام تراشی کرکے کر چکے ہیں ۔ہارون الرشید نے اپنی اسلوب میں گلا لئی کی کرادار کشی کی اور نعیم الحق اور فواد چودھری نے اپنی ذہنی پستی کا بڑی مہارت سے اظہارکیا۔پی ٹی آئی کے اندھے بہرے سپورٹر زکا تو ذکر ہی کیا، آپ ان کے پڑھے لکھے حمایتیوں کے رویے کو دیکھیے۔ حیرت ہوگی اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ فواد چودھری سے بھی زیادہ غلیظ اور بد زبان شخص کسی سیاسی پارٹی میں موجود ہو گا۔ ان کے بیانات سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان گلہ لائی کو اخلاق سے گرے ہوئے پیغامات بھیجتے تھے۔ عائشہ احد کے معاملے کو اس وقت زیر بحث لانے کا اس کے سوا مطلب نکلتا ہے کہ آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ اگر حمزہ شہباز ایک بارسوخ شخص ہونے کی وجہ سے ایک عورت کے حقوق پامال کر سکتا ہے تو عمران خان کیوں نہیں؟ ایسے ہی موقعوں پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہنم کو کیوں بنایا !
سچی بات تو یہ ہے کہ عائشہ احد کا اس موقع پر اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر آواز اٹھانا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی آڑ میں اپنا جرم چھپانا کہاں کی انسانیت ہے ؟ اگر آپ گلا لئی کو یہ طعنہ دیتے ہیں چار برسوں تک آپ نے’’ قابل اعتراض ‘‘پیغامات کیوں سنبھال کر رکھے؟ تویہی سوال عائشہ احد کے بارے میں بھی تو پیدا ہوتا ہے ۔ سچی بات تو یہ ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مظلوم نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی آواز کب اٹھائی ۔ظاہر ہے خاموشی کی وجہ ظالم کا جبر بھی ہو سکتا ہے ، مظلوم کی اپنی اخلاقی کمزوری بھی اور لمحہ موجود میں انصاف ملنے کی امید بھی ۔اس لیے ہمارے نزدیک مظلوم کسی بھی وقت بولے ، اعتراض بے معنی ہے ۔ اسے انصاف ملنا چاہیے۔
دوسری طرف پی پی پی کے لوگ جب اس معاملے میں اخلاقیات کی بات کرتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ایان علی کومذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں؟ سچی بات یہی ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ عورت کمزور ہونے کی وجہ سے اسی طرح سیاست دانوں ، وردی والوں، مذہبی شدت پسندوں اور مقتدر طبقوں کے ہاتھوں پستی آئی ہے جس طرح عوام الناس اپنی جہالت ، کمزوری ، کج فہمی کی و جہ سے ان کے ہاتھوں پستے آئے ہیں ۔ اور سچی بات یہی ہے اس مقام پرآکر یہی نتیجہ سامنے آتا ہے ہمارا اصل مسئلہ صرف اور صرف اخلاقی ہے ۔ باقی خرابیاں اس کمزور ی کا نتیجہ ہیں ۔ اخلاق و کردار میں کجی اورخرابی آتی ہے تو اس کا نتیجہ کہیں مالی کرپشن میں نکلتا ہے کہیں جنسی بے راہ روی میں ،کہیں اختیارات کے ناجائز استعمال میں۔ بات مالی کرپشن کی ہو تو کارل ماکس کا سچ سامنے آتا ہے ، انسان کی حدسے بڑھی جنسی بھوک کا ظلم سامنے آئے تو فرائیڈ یاد آتا ہے اور اس کے تکبر اور آمرانہ مزاج کی وجہ اختیارات سے تجاوز کی بربادیاں سامنے آئیں تو ایڈگر کی بات سچی معلوم ہوتی ہے ۔ہمارا دین اسے ایک ہی ترکیب میں بیان کرتا ہے ، اخلاقی انحطاط !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *