آپ کی عزت کی خاطر

باروق

justice

معزز چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب،

میرا آپ سے تعارف 21ویں ترمیم پر ریویو کے سلسلے میں ہوا تھا جس میں آپ نے بہترین آراء پیش کی تھیں۔ آپ کی ہر سطر میں ملٹری کورٹس کی حوصلہ شکنی اور نقص سے پاک قانونی مباحث شامل تھے۔ ملٹری کورٹ کی اخلاقی لحاظ سے حوصلہ شکنی کے ساتھ ساتھ آپ نے قانون کی پیروی کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو 21 ویں ترمیم پاس کرنے کی منظوری دی ۔ آپ دوسرے ججز کے بر عکس لوگوں یا میڈیا کو متاثر کرنے کی کوشش میں نہیں تھے لیکن جو آپ نے کیا اس میں آپ کی اخلاقی پوزیشن آپ کے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوئی۔ تبھی میں نے سوچاکہ اب ہمارے پاس ایسا سکالر موجود ہے جو صرف الفاظ سے جنگ نہیں لڑتا بلکہ بہت غور و فکر کے بعد فیصلہ کرتا ہے۔ اس کے فیصلے اس کی شہرت اور مقبولیت یا اخلاقیات کے تحت نہیں ہوتے بلکہ ہر لحاظ سے قانون پر عمل درآمد کے بعد کیے جاتے ہیں۔ آج آپ کی عدالت میں قانون سے بے بہرہ فیصلے دیے جا رہے ہیں اور آپ خاموشی سے دیکھ رہے ہیں۔ مجھے تاریخ کا علم ہے۔ مجھے پروپیگنڈا یاد ہے جو آپ کے چیف جسٹس بنتے وقت کیا گیا تھا تا کہ آپ کو بینچ سے دور رکھا جائے ۔ مجھے اس صورت حال کا بھی اندازہ ہے جس کی بددولت آپ اس کیس سے دور رہے۔ اس وقت یہ فیصلہ قابل تسلیم تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ کھیل کی صورتحال بلکل واضح تھی۔ آپ نے اس وقت بینچ سے علیحدہ رہنے کو فوقیت دی کیونکہ اس وقت کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ فیصلہ کیا آنے والا ہے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اب آپ کو علیحدہ رکھتے ہوئے ججز نے عدالت کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ اس فیصلے نے عدالت کے رسوخ پر جو اثر ڈالا ہے وہ ہماری تاریخ پر بہت بری طرح اثر انداز ہونے والا ہے۔ اس لیے آپ کو فوری طور پر متحرک کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

نہیں سر، ابھی میری بات پوری نہیں ہوئی۔ پہلے میں کچھ اہم نکات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ میں حیران ہوں کہ آپ نے جب اس فیصلے کے محرکات کو پڑھا ہو گا تو کیا سوچا ہو گا جس میں عجیب و غریب بہانے بنا کر ایک منتخب وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیا گیا۔ آپ نے تب کیا سوچا ہو گا جب آپ کو معلوم ہوا ہو گا کہ آپ کے تحت سپریم کورٹ کس طرح کی جوڈیشل ایکٹوازم کا مظاہرہ کر رہی ہے جو پہلے اس ملک کی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اس فیصلے نے ہر ماہر قانون کو سر کھجانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس فیصلے میں سیلری کی جو تعریف بیان کی گئی ہے وہ بہت ہی حیران کن ہے اور آئی ٹی او 2001 کے خلاف ہے۔ فیصلے میں مدعی علیہ کو اپیل کا حق بھی نہیں دیا گیا ہے۔

مجھے جیسے عام انسان کے لیے بھی یہ ایک مضحکہ خیز فیصلہ نظر آتا ہے۔ آپ جیسے با علم لوگوں کو تو پہلے سے ہی بلکل صاف واضح ہے۔ وٹس ایپ پر جے آئی ٹی بنائے جانے کا عمل، تفتیش کے دوران کی تصویر کا لیک کیا جانا، جے آئی ٹی کے خلاف کسی بھی اعتراض کو مسترد کر دینا یہ ساری چیزیں اس فیصلے کی اہمیت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ کیا آپ کو یہ سب دیکھ کر حیرانی نہیں ہوئی ہو گی کہ کس طرح پانچ جج قانونی اور اخلاقی حدود کو نظر اندا ز کر کے قانونی راستے سے ہٹ کر ایک منتخب حکومت کو فارغ کر سکتے ہیں۔ معزز چیف جسٹس صاحب، آپ کےلیے یہ مناسب نہیں ہو گا کہ آپ اس دھبہ کے ساتھ ریٹائر ہوں کہ آپ کے دور میں عدالت کی عزت پر حرف آئے۔ یہ آپ کا فرض ہے کہ اس غلطی کو ٹھیک کریں۔ یہاں معاملہ صرف عدالت کے اتحاد کا نہیں ہے۔ معاملہ ایک غلطی کو صحیح کرنے کا ہے۔ معاملہ آئین کی بحالی کا ہے اور عدالت کے تقدس کا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ آپ وزیر اعظم کے کہے بغیر ہی ایک بینچ کے ذریعے اس فیصلے پر نظر ثانی کریں کیونکہ یہ لازمی امر ہے۔ افتخار چوہدری کے دور کے بعد مجھے عدالت پر بھروسہ تھا۔ آپ سے قبل چیف جسٹس ناصر الملک نے عدالت عالیہ کا تقدس بحال کیا اور اختلاف کو قبول کرنے کی رسم شروع کی۔ ہمیں آپ سے بھی امید ہے کہ آپ کی سربراہی میں عدالت اس تبدیلی کا سفر جاری رکھے گی۔

شاید عقل پر مبنی بات کرنے والے لوگ بہت کم ہیں یا پھر آپ زیادہ تنہائی کا شکار ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ایک سپریم کورٹ کی قیادت ایک آسان کام نہیں ہے۔ اگر آپ نا انصافی کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے تو آپ کا یہ عمل بہت سے لوگوں کو ہمت دے گا کہ وہ بھی نا انصافی کے خلاف کھڑے ہو سکیں۔ آپ جیسا عقل مند اور باشعور انسان بہت سے لوگوں کو لیے ہمت اور بہادری کی علامت بن سکتا ہے۔

مجھے اب بھی آپ پر بھروسہ ہے اور سپریم کورٹ پر بھی پورا بھروسہ ہے اورمجھے امید ہے کہ آپ فل بینچ ، 9، 7 یا 12 ججز پر مشتمل بینچ تربیت دے کر فیصلے پر نظر ثانی کریں گے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ فیصلہ کئی سال تک عدالت کے تقدس پر ایک نشان بنا رہے گا۔

اگر ایسا نہیں ہے تو بھی میری خواہش ہے کہ آپ اندھیرے میں روشنی کی طرح آگے بڑھ کر فوری اقدامات کریں اور عدالت کا تقدس بحال کریں۔ ہماری عدلیہ کی تاریخ میں بہت سی ایسی آوازیں اٹھتی رہی ہیں جنہوں نے عقل پر مبنی بات کی ہے اور اس پر بھی ان کا مذاق اڑا یا گیا ہے لیکن بعد میں انہی کے خیالات کو سب سے زیادہ اہمیت ملی۔ 1896 میں جسٹس جان مارشل ہارلن نے اکیلے آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ آئین کلر بلائنڈ ہے۔ اس وقت تو ان کی آواز پر کوئی توجہ نہیں دی گئی لیکن 5 دھائی کے بعد انہیں کے خیالات کو تاریخ میں نمایاں جگہ ملی ۔ اس لیے آئین او رملک کی محبت میں گرفتار ایک پاکستانی کی حیثیت سے میری آپ سے گزارش ہے کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کر کے ملک کو عزت بخشیں۔ کم از کم ہم اس بات کے حق دار ہیں کہ چیف جسٹس کے اختلاف کو دیکھ سکیں۔ یہ اختلاف قانون کی حکمرانی کے لیے ہو جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے اور جو امید کی کرن ثابت ہو۔ معزز چیف جسٹس صاحب، اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل ملک کو اندھیروں سے نکالیے۔ بڑھتے ہوئے اندھیرے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔


courtesy:http://blogs.dunyanews.tv/16909/for-your-honor-your-honor

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *