چائلڈ لیبر۔۔۔ایک گھمبیر مسئلہ

غلام یاسین بزنجو

ghulam yaseen bazinjo

   بچے کسی بھی معاشرے میں انتہائی اہمیت رکھتے ہیں، بچوں کو مستقبل کا معمار سمجھا جاتا ہے، ملک و قوم کا قیمتی اثاثے ہوتے ہیں ۔ بچوں کے بہتر مستقبل کو مدِنظر رکھتے ہوئے ان کی تعلیم و تربیت اور صحت مندانہ ماحول کی فراہمی ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔ روشن مستقبل کا حصول اسی صورت ممکن ہے جب ہم اپنی ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہوئے نئی نسل خصوصاً بچوں کے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے پالیسیاں مرتب کریں۔آج کے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ایک طرف کچھ ممالک عروج و ترقی کا سفر طے کر رہے ہیں تو دوسری جانب ایشیا کے ترقی پذیر ممالک غربت، بےروزگاری، لاقانونیت، کرپشن، دہشت گردی کے ساتھ ساتھ مختلف بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ ان ممالک میں نہ صرف تمام طبقے اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں بلکہ مستقبل کے معمار یعنی بچے بھی اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ باوجود اس کے ان ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر پر باقاعدہ دستخط بھی کیا ہے کہ وہ کسی قسم بھی انسانی حقوق کی پامالی کا مرتکب نہیں ہوں گے۔ اسی بنیاد پر ان ممالک کو اقوام متحدہ کی جانب سے ممبر شپ ملی ہے ۔اس وقت سب سے اہم مسئلہ بچوں پر جبری مشقت عرف عام میں چائلڈ لیبر کا ہے جو شدت اختیار کر چکا ہے۔

Related image

مختلف ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے فنڈز فراہم کیے جانے کے باوجود ترقی پذیر ممالک میں بچوں کی جبری مشقت کا سلسلہ آج بھی جوں کا توں ہے۔ اس وقت پاکستان میں بچوں سے جبراً مزدوری کرانے کا معاملہ انتہائی سنگین صورت حال اختیار کر چکا ہے۔ حالیہ دنوں ایک سیمینار میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں ایک اعلیٰ سطحی عہدیدار نے اپنے خطاب میں اقرار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک مافیا سرگرم ہے جو کہ یتیم اور لاچار بچوں سے جبری طور پر بھیک منگوانے کا کام لیتا ہے جو کسی بھی تہذیب یافتہ معاشرے کے لیے انتہائی شرم ناک عمل ہے ۔درحقیقت بچوں کے بنیادی حقوق اور ان کی بہتر تعلیم و تربیت یقینی بنانا کسی بھی ریاست کی پائیدار جمہوریت، ترقی، اور امن و تحفظ کے لیے کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔ بچوں سے جبری مشقت نہ صرف پاکستان کا مسئلہ ہے بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک کا نمایاں مسئلہ ہے۔ لیکن یہ مسئلہ شدت کے اعتبار سے ترقی پذیر ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ اب چونکہ پوری دنیا میں چائلڈ لیبر یعنی بچوں سے جبری مشقت کے خلاف بیداری آگاہی مہم پیدا ہوچکی ہے، اس کی وجہ سے لوگ اس اہم مسئلے پر ہر سطح پر آواز اٹھا رہے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں جبری مشقت کے شکار بچوں کا تناسب ایک کروڑ کے قریب ہے۔ بچوں کی ایک کثیر تعداد ملک کے مختلف شہروں کے مختلف مقامات میں ہوٹلوں، کارخانوں، ورکشاپوں، گھروں اور صنعتی مراکز پر کام کرتی ہوئی پائی جاتی ہے۔ یہ بچے مستقبل کے چراغ ہیں جنہیں ان کے والدین معاشی مجبوریوں کے وجہ سے گروی رکھ کر رقوم وصول کرتے ہیں۔ جس کے باعث نہ صرف تعلیم کی عمر ان نونہالوں سے گزر جاتی ہے بلکہ ان کا مستقبل بھی خراب ہو جاتا ہے۔ ایسے بچے زندگی کی پرخار راہوں سے ناآشنا ہونے کی وجہ سے احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جو کہ کسی بھی المیہ سے کم نہیں ہے۔ کم عمری میں بچے کی دیکھ بھال اور نگہداشت انتہائی اہم ہے جن کے کندھوں پر آنے والے وقت کی اہم ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے حقوق پر اقوام متحدہ کے کنونشن کی توثیق کے بیس سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد پاکستان میں بچوں کی حالت زار نہایت مایوس کن ہےاور ایک کروڑ کے لگ بھگ بچے جبری مشقت کررہے ہیں ۔ جس میں کئی جسمانی اور جنسی تشدد کا بھی شکار ہیں۔ چند سال قبل اسلام آباد میں ایک اعلی سطحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے غیر سرکاری تنظیم سپارک کے سربراہ ارشد محمد نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی عالمی تنظیم کے 1989 کے کنونشن کے تحت پاکستان اس بات کا پابند ہے کہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک کمیشن تشکیل دے، ان کی شکایت کے ازالے کے لیے علیحدہ محتسب بنائے، بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ کرے ۔

Image result for child labour

کم عمری کی شادی کے خلاف قانون سازی سمیت کئی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔بدقسمتی سے پاکستان میں گزشتہ چند سالوں سے گھریلو ملازمین پر تشدد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ غریب عوام اپنے بچوں کو جبری مشقت کے ہاتھوں دینے پر مجبور ہیں۔ جس کی سب بڑی وجہ ملک میں غربت اور بیروزگاری ہے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کے حکمرانوں کی عدم دلچسپی اور عدم توجہی بھی جبری مشقت کی وجہ ہوسکتی ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک میں بچوں کی جبری مشقت کے حوالے از سرنو قانون سازی عمل میں لائے، 18 سال سے کم عمر کے بچوں اور بچوں کی جبری مشقت پر فوری طور پر پابندی عائد کرتے ہوئے ملک میں بیروزگاری اور غربت کے خاتمے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات اٹھائے۔ ملک میں تعلیم کو حقیقی معنوں میں عام کرے۔ تاکہ غریب کا بچہ بھی وہ تعلیم حاصل کرے جو ملک کے وزرا اور امرا کے بچے حاصل کر رہے ہیں۔ سب کے لیے ایک قانون، یکساں تعلیمی ادارے اور اس پر عمل درآمد کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ورنہ انتہائی پسندی دہشت گردی اور غربت ہمیں نہیں چھوڑنے والی !!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *