لاہور کی تلاش میں

asghar nadeem syed.

میں آج لاہور کی تلاش میں نکلا‘ مجھے لاہور نہیں ملا‘ میں ہر طرف کو نکالا‘ ہر سمت میں گیا‘ مجھے لاہور دکھائی نہیں دیا۔ ایک پان فروش سے پوچھا’’میاں سنا ہے یہاں کبھی ایک شہر تھا‘ نام اس کا لاہور تھا۔‘‘ وہ چونکا’’تم لاہور کو جانتے ہو؟‘‘ میں نے کہا’’کیوں ؟ کیا تم نہیں جانتے؟‘‘ وہ بولا’’نہیں میں تو جانتا ہوں کیونکہ میرا دادا مولا بخش اسی جگہ بیٹھتا تھا اور مرنے سے پہلے بتا گیا تھا کہ اس کی دوکان پر آخری گاہک ایک شاعر ہوتاتھا‘ وہ آتا تھا‘ رات کے پچھلے پہر جب چودھویں کا چاندشہر کی اونچی عمارت کی منڈیر پر آکر بیٹھ جاتا تھا۔Related image

اس کا نام ناصر کاظمی ہوتا تھا‘ کبھی کبھی اس کے ساتھ ایک تانگہ بھی ہوتا تھا‘ وہ تانگے والا اُس کے پیچھے پیچھے آکر رُک جاتا تھا۔ جب میرا دادا مولا بخش ‘ ناصر کاظمی کے منہ میں پان رکھ لیتا توناصر کاظمی تانگے میں جاکر بیٹھ جاتا اور وہ تانگہ خالی گلیوں سے ہوتا ہوا کرشن نگر کی ایک گلی پر رُک جاتا تھا۔ناصر کاظمی اُتر کر چلا جاتا۔۔۔گم ہوجاتا۔‘‘
’’لاہو رکو تم دادا مولا بخش پان فروش کے حوالے سے جانتے ہو؟‘‘
’’ہاں میں اِسی حوالے سے جانتا ہوں‘‘
میں ذرا آگے گیا۔۔۔وہاں آگے ایک نانبائی کا تنور دہک رہا تھا‘ میں نے اس سے پوچھا’’تم لاہور کو جانتے ہو؟ مجھے اس کی تلاش ہے‘‘۔ نانبائی نے مجھے مشکوک نظروں سے دیکھا اور کہا’’بابو کون سے لاہور کو ڈھونڈتے ہو؟‘‘۔
’’یہاں کتنے لاہور تھے؟ لاہور تو ایک ہی تھا‘‘

Image result for sufi tabassum’’تو پھر تم ہمارے پردادا صوفی غلام مصطفی تبسم کے لاہور کو ڈھونڈتے ہو؟ میاں وہ لاہور تو کب کا ہمارے پرداد کے ساتھ رخصت ہوگیا۔اسی گدی پر بیٹھ کر وہ اور اُن کا بھائی باقر خانیاں‘ کلچے ‘ نان ‘ تافتان اور شیر مال لگاتے تھے۔ وہی صوفی تبسم جو فیض احمد فیض کے اُستاد تھے‘ گورنمنٹ کالج میں پڑھاتے تھے اور 65ء کی جنگ میں انہوں نے ترانے لکھے تھے’میرا ماہی چھیل چھبیلا۔۔۔ہائے نی کرنیل نی جرنیل نی۔۔۔اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے توں لبھدی پھریں بازار کڑے۔۔۔‘‘
’’ہاں میں جانتا ہوں‘ ان گیتوں کے بعد مُلک کرنیل اور جرنیل بھائیوںکے لیے آرام گاہ بن گیا تھا‘‘
اب میں مال روڈ پر واقع بڑے ڈاکخانے میں گیا جس کے برابر کوئی ’’اورنج ٹرین‘‘ خوفناک سے کنکریٹ کے پل سے گذر رہی تھی۔میں نے جاکر پوچھا کہ’’ڈاک بابو! تم لاہور کو جانتے ہو؟‘‘ وہ میرا منہ تکنے لگا۔ میں نے اسے ہلایا’’اے ہیلو! میں تم سے پوچھ رہا ہوں‘ تم لاہور کو جانتے ہو؟‘‘ اس نے ٹھپا لگاتے ہوئے کہا’’ہاں میں جانتا ہوں‘ لاہور کیا تھا۔۔۔‘‘

Related image’’تو پھر بتاؤ وہ کہاں ہے؟‘‘
اس نے کہا’’میں جس جگہ بیٹھ کر خطوط پر ٹھپے لگا رہا ہوں کبھی یہاں اُردو کا بہت بڑا افسانہ نگار اور پھر فلم ڈائریکٹر راجندر سنگھ بیدی بیٹھ کر خطوں پر ٹھپے لگاتا تھا اور وہ پرانی انار کلی کی ایک گلی میں رہتا تھا۔‘‘
میں وہاں سے نکلا تو سامنے نیشنل کالج آف آرٹس آگیا‘ میں نے ایک لڑکی کو روکا’’مجھے لاہو رکی تلاش ہے ‘ تم جانتی ہو؟‘‘ وہاں موجود ایک توپ نصب تھی اور وہاں سینکڑوں کبوتر دانا چُگ رہے تھے۔لڑکی چونکی اور بولی’’تم اُس لاہور کو ڈھونڈ رہے ہو جہاں شاکر علی مصوری کرتے تھے اور این سی اے کے پرنسپل تھے جن کے جدید مصوری آرٹ کو نیر علی دادا‘ میاں اعجاز الحسن‘ سلیمہ ہاشمی اور قدوس مرزا آگے بڑھا رہی ہیں!‘‘
’’ہاں ہاں وہی لاہور۔۔۔شاکر علی کا لاہور‘‘
لڑکی نے کہا’’میں جانتی ہوں لیکن میں آپ کو وہ لاہور نہیں دے سکتی جہاں کافی ہاؤس میں شاکر علی بیٹھا کرتے تھے۔ یہ مجھے میری دادی نے بتایا تھا۔‘‘

Image result for shakir aliاب میں آگے بڑھا تو ناصر باغ راستے میں آیا‘ میں نے ایک خوانچہ فروش سے پوچھا’’تم لاہور کو جانتے ہو؟‘‘ اس نے سوچا اور بولا’’بابو تم اُس لاہور کو تو نہیں ڈھونڈ رہے جس میں ناصر باغ میں سیاسی جلسے ہوتے تھے ؟‘‘
’’ہاں وہی ناصر باغ جہاں ذوالفقار علی بھٹو‘ نوابزادہ نصراللہ خان‘ حبیب جالب اور بے نظیر بھٹو صاحبہ کے جلسے ہوتے تھے۔۔۔تو بابو وہ وقت ضیاء الحق کے ساتھ گذر گئے‘ اب یہاں کوئی نہیں‘ کوئی نہیں آئے گا۔۔۔‘‘
اب میں آگے گیا تو گورنمنٹ کالج لاہور سامنے تھا‘ میں نے ایک طالبعلم سے پوچھا’’بیٹے کیا تم لاہور کو جانتے ہو؟‘‘
’’انکل لاہور کو میں پطرس بخاری ‘ فیض احمد فیض‘ ڈاکٹر عبدالسلام ‘ خواجہ خورشید انور‘ ضیاء محی الدین‘ اشفاق احمد اور دیوآنند کی وجہ سے جانتا ہوں‘ وہ اسی کالج میں ہوتے تھے۔ہاں خشونت سنگھ بھی نیو ہاسٹل میں رہتے تھے۔ یہ میں نے سنا ہے‘ باقی مجھے نہیں معلوم‘‘۔
وہاں سے میں نکل گیا اور ایک بازار میں آگیا‘ بازار تو وہ کیا تھا بس ایک بھیڑ تھی کہ رستہ ہی نہیں ملتا تھا۔میں نے ایک خوانچہ فروش سے پوچھا ’’یہاں لاہور کا ایک بازار ہوا کرتا تھا‘ کیا تم جانتے ہو؟‘‘وہ حیرت زدہ ہوا اور پھر پاس کھڑے بنیان بیچنے والے بزرگ نے کہا’’میاں کس بازار کی تلاش ہے؟ ہاں کبھی یہاں بازار ہوا کرتا تھا‘ اب نہ تو انار رہا ‘ نہ کلی رہی۔‘‘

Image result for ahmed nadeem qasmi

میں نے کہا’’یہاں احمد ندیم قاسمی کے ’’فنون‘‘ کا دفتر تھا‘ سامنے احسان دانش کی بیٹھک تھی۔‘‘ وہ بزرگ مسکرایا’’میاں وہ سب اپنی اپنی دوکان بڑھا گئے‘‘۔ میں باہر نکلا تو ایک ٹائر بیچنے والے سے پوچھا’’یہاں کافی ہاؤس تھا‘ پاک ٹی ہاؤس تھا‘ وائی ایم سی اے تھا۔۔۔کیا تم اس لاہور کو جانتے ہو؟‘‘ وہ کہنے لگا’’تم کسی اور براعظم سے آئے ہو؟ میرے دادا پردادا بتایا کرتے تھے کہ یہاں کبھی انتظار حسین‘ احمد مشتاق ‘ مظفر علی سید‘ استاد امانت علی خان‘ حبیب جالب‘ انیس ناگی‘ سہیل احمد خان‘ انور سجاد بیٹھا کرتے تھے‘ پھر وہ رخصت ہوگئے اور لاہور بھی ان کے ساتھ کہیں چلا گیا۔۔۔‘‘۔
میں لاہور کی گلیوں کوچوں اور عمارتوں میں ٹٹولتا پھرا۔۔۔یہ میں کہاں نکل آیا۔۔۔نئی چکاچوند‘ ہوٹل برابر ہوٹل۔۔۔انواع و اقسام کی دوکانیں۔۔۔ذائقے لاجواب۔۔۔حیران ہوا کہ یہ تو لاہور نہیں تھا۔یہاں کبھی فلمی دفتر ہوا کرتے تھے‘ موسیقار دھنیں بناتے تھے‘ فلموں کے بیوپاری ٹوٹے پڑتے تھے۔ایک پرانی وضع کا بزرگ پاس آیا’’کیا ڈھونڈتے ہو؟یہاں رائل پارک تھا‘ فلموں کا مرکز۔۔۔وہ دوکان کب کی ٹھپ ہوگئی۔۔۔وہ لاہوراب کتابوں میں ہے‘‘۔ ذرا آگے گیا تو ایک کھنڈر نما عمارت دیکھی۔کسی نے بتایا کہ یہ لاہور کا ٹیلی ویثرن سنٹر تھا‘ اب بدروحوں کا مسکن ہے۔کیا تاریخ گذر گئی۔ روشن آراء بیگم‘ ملکہ ترنم نورجہاں‘ کنور آفتاب احمد‘ محمد نثار حسین‘ نصرت ٹھاکر‘ استاد فتح علی خان اور مہدی حسن کے ساتھ لکھنے والے اور فنکار یاد آئے۔ذرا اور آگے گیا ۔۔۔ایک اور کھنڈر نما عمارت کھڑی تھی، یہ ریڈیو پاکستان لاہور تھا۔کیا کیا زمانے اس پر سے گذر گئے۔میں کون سے زمانے کا ہوں اور لاہور کو کیوں تلاش کر رہا ہوں؟ شائد میں نہیں ہوں‘ کہیں میری روح بھٹک رہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *